گورکھ‘ قیامت خیز گرمی میں ٹھنڈک ہی ٹھنڈک

گورکھ‘ قیامت خیز گرمی میں ٹھنڈک ہی ٹھنڈک

سندھ میں ان دنوں قیامت کی گرمی ہے موسم کی حدت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے صوبے کے باشندوں کو بطور احتجاج سڑکوں پر لاکھڑا کیا ہے اور کراچی سے کشمور تک گلی گلی مظاہرے‘ دھرنے‘ ریلیاں اور احتجاج کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں اس وقت جب کراچی میں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ ہے اس صوبے میں ضلع دادو کے پہاڑی سلسلے میں گورکھ کا مقام انتہائی معتدل ہے اور وہاں بااالعموم جون جولائی میں درجہ حرارت17 سے 30 سینٹی گریڈ رہتا ہے۔
برطانوی راج میں انگریزوں نے مری‘ زیارت اور شملہ کو بطور ہل اسٹیشن ترقی دی اور آج بھی وہاں گرمی میں سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے لیکن گورکھ میں ڈیڑھ سو برس بعد میں روز اول کے حالات ہیں حالانکہ یہاں بنیادی اور ضروری سہولتیں میسر ہوں تو یہ علاقہ سیاحوں کی جنت بن سکتا ہے۔ گورکھ سے آنے والے بتاتے ہیں کہ بلوچستان اور سندھ کی کوہستانی پٹی پر موجود اس علاقے میں خوبصورتی جابجابکھری پڑی ہے یہاں آبشار ہیں اورو پہاڑی ندیاں بھی ٹھنڈی ہوائیں مئی میں بھی 141 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں جو یہاں آنے والوں کو فرحت بخشتی ہیں۔
کراچی سے کم و بیش450 کلو میٹر دور شمال میں واقع یہ ہل اسٹیشن سطح سمندر سے 5685 فٹ کی بلندی پر واقع ہے یہاں بدامنی کو کنٹرول کرلیا جائے‘ آمدورفت کی سہولتیں مہیا ہوں اور ریسٹورنٹ‘ موٹلز‘ کافی شاپ اور قیام و طعام کی دیگرضرورتوں کا بندوبست ہوتو ایک طرف سندھ کے باشندوں کو مری کے مزے گورکھ میں کم خرچ پر ملیں گے تو دوسری سمت اس پورے علاقے میں غربت کا خاتمہ اور خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔
گورکھ پر ہی کیا موقوف‘ مکلی و چوکنڈی کے مقابر سے موئن جوڈرو کے کھنڈرات اور اروڑ کے آثار تک سندھ کے کونے کونے اور چپے چپے میں موجود تاریخی مقامات کو متعلقہ محکمے قابل دید بنالیں تو ہر ویک اینڈ پر کم از کم کراچی سے مذکورہ قافلے ان مقامات کا رخ کریں گے اس طرح ایک طرف لوگوں کو بہتر تفریح میسر آئے گا دوسرے آبادی کے طبقات میں میل جول سے وہ فاصلے کم ہوں گے جو ایک ہی صوبے میں رہتے ہوئے نصف صدی سے زائد گذرنے کے باوجود اب بھی پائے جاتے ہیں۔
گورکھ کو انگریزوں نے موسم گرما کے دارالحکومت کے طور پر منتخب کیا تھا ہر حکومت نے اس لئے فنڈز مختص کئے لیکن یہ علاقہ آج بھی بنیادی ضرورتوں‘ سہولتوں اور آمدورفت کیل ئے راستوں سے محروم ہے حالانکہ توجہ ملے تو یہ ہل اسٹیشن صوبائی حکومت کے لئے ریونیو کے اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ سندھ کا سیاحتی و تفریحی مقام گورکھ بل اسٹیشن ایک ارب کی رقم خرچ ہونے کے باوجود بھی سیاحتکے لئے نامکمل ہے‘ ضلع دادو سے 100 کلو میٹر دور مغرب کی سمت میں قائم یہ ایک خوبصورت مقام گورکھ ہل اسٹیشن کے نام سے مشہور ہے5685 فٹ اور جنوری میں منفی 5 سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے ۔ گورکھ ہل اسٹیشن پر ترقیاتی کاموں کے فقدان اور کھٹن راستوں کی وجہ سے سفر انتہائی مشکل رہتا ہے۔ گورکھ ہل اسٹیشن پاکستان کے دیگر سیاحتی مقامات میں ایک منفرد و مقام کا حامل ہے اور سندھ کا کوہ مری کہلاتا ہے یہاں کراچی‘ حیدرآباد‘ لاڑکانہ‘ سکھر‘ دادو اور نواب شاہ سمیت چھوٹے بڑے شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں یہاں کے دلکش مناظر سے لطف اندور ہونے کے لئے آتے ہیں لیکن ترقیاتی کاموں کے التوا اور فقدان کی وجہ سے یہاں راستوں اور پانی کی شدید قلت کی وجہ سے سیاحتوں کو کئی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ گورکھ ہل اسٹیشن کی تعمیر و ترقی کیلئے حکومت کی جانب سے اس کا کنٹرول وفاقی حکومت سے واپس لیکر سندھ میں گورکھ ہل ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرکے اس کے حوالے کیا گیا ہے لیکن اگست 2009ء سے قائم اس اتھارٹی کا دفتر بھی ضلع دادو میں قائم نہیں ہوسکا ہے۔ سابق لیگ دور حکومت میں بجلی کی فراہمی کی گئی۔ بعد ازاں وہاں نصب بجلی کا ٹرانسفارمر بھی چوری ہوگیا ۔ سندھ حکومت کی جانب سے دادو کے مقامی ایم این اے رفیق احمد جمالی کو گورکھ ہل اسٹیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا لیکن کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا ہے اور یہاں آنے والے سیاح ہنوز پریشانی کا سامنا کررہے ہیں
دادو‘ کاچھو اور جوہی کے سیاحتی و سماجی نمائندوں کے علاوہ دیگر تنظیموں کے رہنمائوں ڈاکٹر عبد الجبار ببر‘ کاشف چانڈیو‘ عنایت رستمانی اور عزیز گنرانی کا کہنا ہے کہ گورکھ ہل جو سندھ کا کوہ مری ہے لیکن سہولیات کی کمی کی وجہ سے سیاحوں کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 16 سالوں سے اس مقام پر ترقیاتی کام وقفہ وقفہ سے جاری تو رہا ہے لیکن سست روی کی وجہ سے کوئی بھی منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا اور قومی جذبہ کے فقدان کی وجہ سے کام کی رفتار تو نہ بڑھ سکی البتہ اربوں روپے کی بجٹ ملنے پر خوب کرپشن کی گئی ہے۔ بڑے بڑے کرپشن کے ماہر اور اس کام پر مامور کرتا دھرتا سب کچھ ہڑپ کرنے کے درپے ہیں یہی جہ ہے کہ ہر کام ادھورا ہے اگر ایسا مقام کسی اور ملک میں ہوتا تو حکومتیں اسے قابل دید جگہ بنادیتیں اور زر مبادلہ کمائیں۔ گورکھ ہل ہندو پاک کا دوسرا سب سے بڑا ہل اسٹیشن ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں پر شروع منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور کرپشن میں ملوث لوگوں کا سخت احتساب کیا جائے۔ اگر یہ منصوبے بروقت پورے ہوستے اور سہولیات میسر ہوتیں تو تو پاکستان اور سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں سے لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے اور اس مقام کی منفرد خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور حکومت ایک کثیر رقم زردمبادلہ کے طور پر کماتی۔