یونان کی کہاوت پاکستان میں کب فِٹ ہوگی؟

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
یونان کی کہاوت پاکستان میں کب فِٹ ہوگی؟

حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد سے تقریباً پانچ سو برس پہلے کی بات ہے کہ ایتھنز یونان کے پوش علاقے میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ امیر خاندان آباد تھا جن کے لوہے کے کارخانے تھے۔ اُن کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ’’سوفوکلیز‘‘ رکھا گیا۔ دنیا کے قدیم ترین لٹریچر میں ٹریجڈی کے تین ڈرامے اب تک بہت مشہور ہیں۔ انہی میں سے ایک ’’اینٹی گنی‘‘ ہے جس کا رائٹر ’’سوفوکلیز‘‘ تھا۔ اس ڈرامے کا نچوڑ اس کا آخری جملہ ہے جو عقل و دانش کے حیرت انگیز فلسفے پر ختم ہوتا ہے۔ یہ جملہ اب ایک انٹرنیشنل کہاوت بن چکا ہے۔ ایتھنز جمہوریت کی پیدائش کا شہر تھا اور ایتھنز والے اس پر بہت فخر کرتے تھے۔ اجتماعی رائے کو قبول کرنا جمہوریت کی پہلی سیڑھی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس ڈرامے کی تحریر نے انفرادی فیصلے کے بجائے اجتماعی رائے کو اہمیت دینے کی بنیاد ڈالی۔ اسی لئے ڈرامے اینٹی گنی کی تھیٹر میں پیشکش کے تھوڑے ہی عرصے بعد اس کے رائٹر سوفوکلیز کو انعام کے طور پر اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز کردیا گیا۔ سوفوکلیز نے 91 برس کی عمر پائی۔ ایک روایت کے مطابق اُس کی موت کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ڈرامے اینٹی گنی کا وہی آخری جملہ لہک لہک کر پڑھ رہا تھا کہ سانس رک جانے کی وجہ سے مرگیا۔ ڈرامہ اینٹی گنی کی کہانی کے مطابق دو بھائی تخت کے حصول کیلئے ایک دوسرے سے جنگ کرتے ہیں‘ دونوں شدید زخمی ہوکر میدان جنگ میں ہی مرجاتے ہیں۔ اُن میں سے ایک بھائی کا حمایت یافتہ تخت سنبھال لیتا ہے۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ دوسرا بھائی غدار ہے اور اُسے ذلت آمیز سزا ملنی چاہئے۔ نئے بادشاہ کے فرمان کے مطابق اُس کے حامی بھائی کی تجہیزوتکفین شاہی پروٹوکول اور مذہبی رسومات کے ساتھ کی جاتی ہے جبکہ مخالف بھائی کی لاش کو دفنانے کے بجائے کتوں، گِدھوں اور کیڑے مکوڑوں کے کھانے کیلئے جنگل میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اُس دور میں کسی بھی لاش کے ساتھ نہ دفنائے جانے کا یہ سلوک بدترین ذلت تصور کیا جاتا تھا۔ اُن دونوں مرحوم بھائیوں کی دو بہنیں تھیں جن میں سے ایک کا نام اینٹی گنی تھا۔ اینٹی گنی نے اپنی بہن سے کہا کہ دوسرا بھائی بھی ہمارا بھائی ہی تھا، ہمیں اُس کی لاش کی یہ تذلیل روکنی چاہئے اور کیوں نہ ہم چپ چاپ رات کے اندھیرے میں مذہبی رسومات کے بعد اُس کو بھی دفنا دیں۔ جب دوسری بہن نے بادشاہ کے خوف کے باعث انکار کیا تو اینٹی گنی نے اکیلے ہی ایسا کرنے کا ارادہ کرلیا۔ اگلی صبح بادشاہ اپنے فرمان کی حمایت کیلئے شہر کے اکابرین کو اکٹھا کرتا ہے۔ وہ اکابرین بادشاہ کی خوشامد کے پیش نظر اُس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ عین اُسی وقت ایک خوفزدہ سنتری دربار میں داخل ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ بادشاہ سلامت اُس غدار کی لاش کو کسی نے دفنا دیا ہے۔ بادشاہ غصے سے کانپتے ہوئے سنتری کو حکم دیتا ہے کہ جاکر پتہ کرو کہ میری یہ حکم عدولی کس نے کی؟ اگر تم مجرم نہ پکڑ سکے تو تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔ بادشاہ کے غضب کے باعث دربار میں خوف و ہراس پھیلا ہوتا ہے کہ وہی سنتری اینٹی گنی کو لے کر دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ بادشاہ اینٹی گنی پر دھاڑتے ہوئے پوچھتا ہے کہ کیا تم نے ایسا کیا؟ اینٹی گنی ڈرے بغیر ہاں میں جواب دیتی ہے۔ بادشاہ اُس کیلئے سزائے موت کا اعلان کرتا ہے۔ ٹھیک اُسی وقت دیوتا کا ایک معزز نابینا نمائندہ دربار میں آتا ہے اور بادشاہ کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ دیوتا تمہارے اس فیصلے سے سخت ناراض ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ تم لاش کو مذہبی رسومات کے ساتھ دفنا دو اور اینٹی گنی کو چھوڑ دو۔ شہر کے اکابرین بھی بادشاہ کے آگے درخواست پیش کرتے ہیں کہ وہ دیوتا کے نمائندے کی بات مان لے ورنہ شہر پر عذاب نازل ہوگا۔ بادشاہ اپنے غرور اور ضد پر قائم رہتے ہوئے دیوتا کے نمائندے کو بے عزت کرکے دربار سے نکال دیتا ہے۔ دیوتا کا نمائندہ جاتے ہوئے کہتا ہے کہ تمہیں اس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ دیوتا کے نمائندے کی یہ بددعا سن کر بادشاہ کے علاوہ ہرفرد سہم جاتا ہے۔ 

بادشاہ اپنے بیٹے کو حکم دیتا ہے کہ وہ اینٹی گنی کو سزائے موت دے۔ بادشاہ کا بیٹا اینٹی گنی سے محبت کرتا ہے اِس لئے وہ بادشاہ کو ایسا نہ کرنے کا کہتا ہے۔ بادشاہ اور اُس کے بیٹے میں تلخ کلامی ہوتی ہے۔ بیٹا بادشاہ کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ شاہی سپاہی اینٹی گنی کو اندھیرے غار میں بند کرنے کیلئے لے جاتے ہیں۔ ملکہ دربار میں آکر بادشاہ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کا کہتی ہے لیکن بادشاہ انکار کردیتا ہے۔ بادشاہ اینٹی گنی کے بارے میں معلوم کرنے اندھیرے غار کی طرف جاتا ہے۔ جونہی وہ غار کے کنارے پر پہنچتا ہے تو داروغہ اُسے بتاتا ہے کہ اینٹی گنی نے گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کرلی اور اُس کی خودکشی کو برداشت نہ کرتے ہوئے بادشاہ کے بیٹے نے اپنے آپ کو تلوار سے ہلاک کرلیا ہے۔ جب ملکہ کو اپنے بیٹے کی ہلاکت کی خبر ملتی ہے تو وہ بھی اپنے پیٹ میں خنجر گھونپ لیتی ہے اور مرتے وقت بادشاہ کو مخاطب کرکے کہتی ہے کہ پورے خاندان کی تباہی کا باعث تمہارا غرور اور ضد تھی‘ تم نے یہ غلطی کی کہ اجتماعی رائے کو اپنے انفرادی فیصلے پر قربان کردیا۔ پورے خاندان کی تباہی کے بعد بادشاہ کو یہ سمجھ آجاتی ہے کہ اُسے اپنے غرور اور ضد کی سزا ملی۔ لہٰذا وہ اپنے آپ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ اس ڈرامے کا حیرت انگیز عقل و دانش والا سادہ سا آخری جملہ یہ ہے کہ ’’غرور اور ضد کی سزا ملتی ہے لیکن اُس سزا سے عقل آجاتی ہے‘‘۔ دنیائے عالم نے عقل و دانش کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے سبق سیکھ کر ترقی کی بڑی بڑی منزلیں طے کیں۔ ہمارے حکمرانوں نے غرور اور ضد کی سزائیں پانے کے باوجود بھی سبق نہیں سیکھا۔ مثلاً پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں یعنی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) باری باری حکمرانی کرتی آرہی ہیں۔ اِن دونوں جماعتوں پر شروع سے ہی خاندانی قبضے ہیں۔ پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو کھونے کے بعد بھی پیپلزپارٹی کی قیادت پیپلز یعنی عوام کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتی۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف تین مرتبہ حکومت سے نکالے جاچکے ہیں لیکن پارٹی پر خاندانی قبضے کیلئے اب بھی بضد ہیں۔ انہوں نے صرف اپنی ذات کیلئے آئین میں ترمیم کروا کے ایک مرتبہ پھر پارٹی کی صدارت حاصل کرلی ہے کیا حکمرانی صرف ان دو خاندانوں کا ہی حق ہے؟ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کی قیادت کیلئے قدرت کے اشارے موجود ہیں جنہیں وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ ہمارے سیاست دانوں کو غرور اور ضد کی سزا ملتی ہے لیکن اُس سزا سے انہیں عقل نہیں آتی۔ وہ انفرادی فیصلوں کو اجتماعی رائے پر تھوپ کر ملک کو اور کتنا تباہ کریں گے؟ یونان کی کہاوت پاکستان میں کب فِٹ ہوگی؟