’’بناناریپبلک‘‘

’’بناناریپبلک‘‘

قارئین کو یاد ہوگا کہ چند روز پہلے سابق وزیراعظم جناب میں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف جب نیب کورٹ اسلام آباد میں مقدمہ کی سماعت ہورہی تھی تووفاقی وزیرداخلہ جناب احسن اقبال صاحب بھی سیکیورٹی حالات کا جائزہ لینے جب متعلقہ عدالت میں پہنچے تو ڈیوٹی پر حاضر رینجر ز نے وزیر موصوف کو عدالت کے اندر جانے سے روک دیا جس پر وزیر موصوف نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ پاکستان کوئی بناناریپبلک نہیں ہے جہاں کسی ادارے کو (رینجرز) ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت دی جاسکے انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر ایسی غیر ذمہ داری اور غیر قانونی رکاوٹ ڈالنے والے مجرم کو سزا نہ دی گئی تو وزیر موصوف استعفیٰ دے دیں گے۔

یہ معاملہ پارلیمان وزیراعظم میڈیا اور اخبارات میں بھی اٹھایا گیا اور حکومت نے اس کافوری نوٹس لیتے ہوئے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جس کا ابھی تک کوئی نتیجہ منظر عام پر نہیں آیا۔
اس دوران مورخہ 11اکتوبر2017ء بروز بدھ وار تمام انگریزی اور اردو اخبارات میں PIAکے ایک طیارے کی ـ"پراسرارگمشدگی"یا اندر ہی اندر مالٹا کے جزیرے میں فلم بنانے کے لیے کرایہ پر دیکر جرمنی کے ایک میوزیم کو بیچ دینے کی تفصیلات کا انکشاف کیا گیا ہے جس میں یہودی ریاست اسرائیل کا بھی ہاتھ بتایا جاتا ہے یہ خبر اسلام آباد کی مختلف نیوز ایجنسیوں نے پارلیمان کی پبلک اکائونٹس کمیٹی(PAC)کے حوالے سے شائع کی گئی ہے اس لیے اسے کسی ’’بنانا ریپبلک‘‘ کی ڈرامائی کہانی یا افسانہ نہیں کہا جاسکتا۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی (PAC)نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکومت اور بیوروکریسی نے ایساماحول بنادیا ہے جہاں چور اور ڈاکو کامیاب اور کامران ہورہے ہیں اور ایماندار نیک لوگوںکو ناکام کیا جارہا ہے سرکاری افسران نے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے PAC کے اجلاس میںجرمنی کے ایک میوزیم میں PIAکے ایک فٹ اور فلائٹ کے قابل اچھے بھلے ہوائی جہا زسے متعلق پاکستان سے غائب ہوکر مالٹا اور جرمنی پہنچ جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے حیرانگی کے عالم میں PAC کے متعلقہ ممبران سے پوچھا بتایا جائےPIAکا ایک اچھا بھلا جہاز کس کی اجازت سے مالٹا پہنچ کر کسی فلمساز کمپنی کے لیے استعمال ہوتا رہا اور اس سارے غیر قانونی کام میںکون کون سے محکمے اور متعلقہ افسران کس طرح ملوث ہوئے۔ چیئرمین اور سیکرٹری شہری ہوابازی ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ PIAکا متعلقہ جہاز پہلے مالٹا کی ایک فلم ساز کمپنی نے اپنی فلم میں استعمال کے لیے دو لاکھ دس ہزار ڈالر میں حاصل کیا گیا یہ واضح نہیں ہے کہ اس ڈیل کی اجازت کس نے دی اورآیا PIAکا جرمنCEOبذات خود ایسی اجازت دینے کا مجاز تھا۔
سید خورشید شاہ نے سوال کیا کہ جرمن CEOکو جب اس کے عہدہ سے ہٹادیا گیا تھا تو کس کے حکم پر اس کا نام ECLسے نکالا گیا تو بظاہر واضح نہیں ہے پراسرار طریقے سے فلم ساز کمپنی سے کام ختم کرکے یہ جہاز جرمنی کے میوزیم میں کس کے حکم سے لے جایا گیا۔ جہاں جہاز کا سودا 57ہزار یورو طے پایا جو پاکستانی 62 لاکھ روپے بنتے ہیں سید خورشید شاہ نے بتایا ہے کے PIA کے اس غیر ملکی مشیر نے یہ سودا طے کیا وہ کسی کمپنی کا ملازم تھا جس کے ساتھ جہاز کی ڈیل طے پائی۔
راقم کے خیال میں ایسا تو شاید کسی بناناریپبلک میں بھی نہ ہوتا ہو گا۔ چیئرمین شہری ہوابازی ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف آئی اے اس معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے جس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ نہایت بے دردی کے ساتھ وطن عزیز کے اداروں کو لوٹا جا رہا ہے ایک طرف PIA اربوں روپے کے خسارے میں ہے اور دوسری طرف PIA کے فلائٹ کے قابل ایک جہاز کو کوڑیوں کے بھائو مفت دیا جا رہا ہے۔ جس کے پیچھے بلا شبہ خفیہ ہاتھ کام کر رہے ہیں جن کا انکشاف ناگزیر ہو گیا ہے اس موقع پر قارئین کے نوٹس میں لانا ضروری ہے کہ PIA کا چیف لیگل ایڈوائزر 15 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ایسے آدمی کو رکھا گیا ہے جسے قتل کے جرم میں سزا ہو چکی ہے۔
بتایا گیا کہ اس سزایافتہ شخص نے ایک سال میں 48کروڑ روپے خرچ کیے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے ۔سید خورشید شاہ نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تعیناتی کی تفصیلات مانگ لی ہیں اور ایک سال میں48کروڑ روپے کے اخراجات کی بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں طنزاًکہا کہ PIAکا جہاز جرمنی کے عجائب گھر میں پہنچ چکا ہے اب اس کا انجن کیسے پاکستان واپس آئے گا ۔
نیب نے ان تمام معاملات کی فوری تحقیقات کرکے PACکے پیش کرے پریس رپورٹ کے مطابق قومی ائیر لائنPIAکے طیارے کو فروخت کرنے کا معاملہ نیب کو بھجوانے کا حکم دے دیا ہے اس موقع پر شیخ روحیل اصغر ممبر PAC نے کہا کہ PIAبے ایمانی کا گڑھ ہے خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہوائی جہاز سیکنڈل سے دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے جس طریقے سے پاکستان کی قومی دولت کو ایک مخصوص طبقہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے ان کے اس گھنائونے کھیل کے خاتمے کا وقت آگیا ہے ۔
آن لائن کے مطابق PAC نے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ میں6ارب روپے کی مبینہ کی کرپشن کی تحقیقات کے لیے سینیٹر شیری رحمان کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے PIAمیں اربوں روپے کی کرپشن کا جائزہ لینے کے لیے چیئرمین PACنے بتایا ہے کہ انہوں نے PIA کے چیئرمین کو مندرجہ بالا امور پر وضاحت کے لیے فوری طور پر طلب کرلیا ہے راقم امید کرتا ہے کہ قانون اور آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے تمام زیر تفتیش اور زیر سماعت مقدمات کو جلد از جلد اپنے مطنقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔