عوام کو حالات اور نتائج کی پرواہ نہیں ہے

کالم نگار  |   رقیہ غزل
عوام کو حالات اور نتائج کی پرواہ نہیں ہے

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں کسی کو اس کی صلاحیت ،قابلیت اور لیاقت کی بنیاد پر درجات نہیں ملتے بلکہ ذاتی وفاداریوں اور ذاتی مفادات کے پیش نظر کئی طرح کی مراعات اور نوازشات عطا ہوتی ہیں ۔مگر بحث و مباحث ،جلسے جلوس اور کنونشنوں میں سبھی میرٹ کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔بدقسمتی سے اپنی دو عملیوں کے باعث ہم ایک ایسا نظام قائم کر چکے ہیں جہاں علمی اور قابلیتی بنیادوں پر فیصلے اور کام نہیں ہوتے بلکہ ظاہری نمودو نمائش اور اشتہاری منصوبوں کے ذریعے تقریباًہر حکومت ’’وقت ٹپائو‘‘ پالیسی کے تحت کام کرتی ہے بدیں وجہ قوم کا مستقبل دائو پر لگ چکا ہے ۔قوم احتجاج اور مطالبات کے پوسٹرز لگا لگا کر حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجوڑ جھنجوڑکر خود تھک کر سوگئے ہیں لیکن اب یہاں قتیل شفائی کے کلام کو کوئی کہاں لے جائے کہ

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا
مگر کیا کریں کہ قوم پر سکتہ طاری ہے ان کے اعصاب پر یہ سچ بجلی بن کر گرا ہے کہ وہ سات دہائیوں سے ایک ہی طرح کے سیاستدانوں کو بار بار منتخب کرتے رہے ہیں جو کہ ملی بھگت سے کھلے عام مل بانٹ کر کھاتے جا رہے ہیں اور اب ان کے حوصلے اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ سر عام ایک دوسرے کی کارستانیاں بیان کر رہے ہیں لیکن ہر لیڈر کی یہی خواہش ہے کہ عوام ان کے لیے ٹینکوں کے آگے لیٹیں ۔ویسے یہ برین واشنگ درپردہ ہمیشہ سے جاری ہے اور اب کھلے عام عوام کو ہم خیال بنایا جا رہا ہے شاید پاکستان واحد ملک ہے جہاں قومی سلامتی و انصاف کے ا داروں پر بات کی جاتی ہے آج کل یہ مزاج عام ہے اور اس مزاج کو پیدا کرنے کی اصل ذمہ داری بھی سبھی لیڈروں پر ہے کہ انھوں نے اپنی مخالف حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لئے عوام کو بھڑکایا اور عوام کو ایک ایسی جنگ کا عادی بنایا جو کہ ان کی نہیں تھی اور بدلے میں ان کو وفاداری نبھانے پر نوازا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے میں مفادات اور نوازنے کے سوا کوئی چیز اہم نہیں رہی۔ بے حسی، بے مروتی اور احترام ختم ہوا تو حقوق سے آشنائی بھی ختم ہوگئی ۔آج بے ہنگم، بے راہرو اور بے لحاظ معاشرہ ہمیں ایسے مستقبل کا عندیہ دے رہا ہے جس کا مقدر تباہی ہوگا ۔مگر ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیںکہ ہمیں اورنج لائین ٹرین ،میٹرو ، سپورٹس کمپلیکس اور دیگر چیزوں میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ ہمیں ہسپتالوں کے فرش پر پیدا ہوتے بچے دکھائی نہیں دے رہے ، گدھا گاڑیوں پر ہسپتالوں میں لائے جانے والے مریضوں کا درد محسوس نہیں ہوتا ۔گٹر ملے گدلے پانی سے بیماریوں کا شکار لوگ نظر نہیں آتے ،مہنگائی کے طوفان سے ٹکراتے غربا کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں کہ معمولی سبزیاں،ٹماٹر ،پیاز اورآلو بھی ان کی پہنچ سے دور ہوچکے ہیں ،بجلی والوں نے پرانی ریکوری کے نام پر ظلم اور زیادتی کی انتہا کی ہوئی ہے ،غیرت کے نام پر قتل و غارت گری جیسے واقعات بھی معمولی لگتے ہیں ،جنسی زیادتی جیسے ہولناک واقعات بھی ہمارے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑتے ،چھراگروپ ہو یا دہشت کا کوئی بھی عفریت وہ سب کچھ کھیل تماشا بن کر رہ گیا ہے کیونکہ ہمیں مغربی میڈیا کی یلغار نے اس حد تک دین و دنیا سے بیگانہ کر دیا ہے کہ اس نے ہماری قومی فکر کو چھین لیا ہے ۔اب تومسیحا قصائی بن چکے ہیں اس پر طرہ یہ کہ جنھیں ان زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھی وہ مصلحتی دانشوران خود کو عقل کل سمجھ بیٹھے ہیں ۔ہر کوئی عقلمند ہے مگر مفکر کوئی نہیں ہے حالانکہ عقلمندی سے بہتر حیرانی ہوتی ہے کیونکہ حیرانی جستجو پر اکساتی ہے جبکہ دانشوری فکر کے دروازوں پر خود پسندی کا قفل لگا کر فیصلہ سنا دیتی ہے اور محدود فکر سے اخذ شدہ فیصلہ محدود اہمیت کا حامل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ اقوام سے مسلسل پیچھے ہیں جبکہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتے ہیں اور ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں یہ سچ ہے کہ ترقی خوشحالی سے آتی ہے اور خوشحالی تب ہوتی ہے جب عام آدمی کی حالت بہتر ہو جبکہ’’ یہاں تو وہی اہل وفا کی صورتحال ۔۔وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے ‘‘جب گڈ گورننس کا ذکر ہوتا ہے تومجھے اس بڑھیا کا واقعہ یاد آجاتا ہے کہ جو بڑی کسمپرسی کے عالم میں ایک خیمے میں رہتی تھی کہ ایک سفر کے دوران حضرت عمر فاروقؓ کا وہاں سے گزر ہوا ۔اس بڑھیا کی حالت دیکھ کر آپ ؓ نے اس سے استفسار کیا کہ تم نے اپنی حالت خلیفہ تک کیوں نہیں پہنچائی ؟ تو اس نے کہا کہ یہ میرا کام نہیں یہ خلیفہ کا کام ہے ۔حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا : خلیفہ کو اتنی دور کا حال کیسے معلوم ہو سکتا ہے ؟اس بڑھیا نے جو جواب دیا روایت میں ہے کہ اس جواب کو یاد کر کے حضرت عمر فاروقؓ کی آنکھوں میں ہمیشہ آنسو آجاتے تھے اور فرماتے تھے کہ خلیفہ کا اصل مفہوم کیا ہے یہ مجھے شام کی اس غریب بڑھیا نے سکھایا ۔اس نے کہا تھا : اگر خلیفہ اپنی رعایا کی خبر نہیں رکھ سکتا تو اسے چاہیے کہ خلافت چھوڑ دے ۔کیا آج کوئی ایساحکمران ہے کہ اسے خلافت کا مفہوم آتا ہو ؟ہر کوئی خود کو لیڈر اور حاکم سمجھتا ہے مگر کسی کو حضرت عمر ؓکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نہیں ہے ۔
یہ سچ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اسلامی سیاست نہیں کرتے بلکہ اسلام آباد کی سیاست کرتے ہیں اسی لیے انھوں نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاناما پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازش ہے ،جسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ حیرت ہے کہ اس اسکینڈل پر کئی ممالک کے صدور ،وزرائے اعظم اور سربراہان مستعفی ہو چکے ہیں اورالزامات سچ نکلے ہیںمگر پاکستان وہ واحد ملک ہے جس میں شامل تمام نام شرمناکی کی حد تک ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کا دفاع دینی لوگ کر رہے ہیں بریں وجہ صورتحال یہ ہے کہ من پسند تقرریاں ،بھرتیاں اور تبادلے جاری ہیں ۔یہاں تک کہ آئینی ترمیم جو کہ ختم نبوت پر اثرانداز ہوتی تھی اسے نافذ کرتے ہوئے خوف الہی نے نہیں گھیرا۔ ایک طرف پی پی پی بھی عجیب پالیسی ساز ہے کہ بروقت اپنے مفادات کے تحفظ میں مولانا فضل الرحمن کی طرح مک مکا کیلئے تیار رہتی ہے ۔ اب اچانک ایک قرار داد اکثریت رائے سے پاس کروا لی گئی ہے کہ جب ایک نا اہل آدمی پارلیمنٹ کا ممبر نہیں بن سکتا تو پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتا ہے دوسری طرف اب PMLN چپ سادھے بیٹھی ہے اور عمران خان کا تماشا دیکھ رہی ہے ویسے بھی عمران خان اپنے ہی پرانے تجربہ کار ساتھیوں کی باہمی سیاست کا شکار بنتے نظر آرہے ہیں تو ایسے حالات میں PMLN اور PPP کے وارے نیارے ہیں اور دوسری طرف عوام ہمارے ہیں جو صرف اور صرف پارٹی بازی کے قائل ہیںاور ہمارے عوام کو حالات اور نتائج کی پرواہ نہیں ہے۔