وزیر خارجہ کی عجیب منطقیں!!

وزیر خارجہ کی عجیب منطقیں!!

اکثر یہ فقرہ سننے کو ملتا ہے کہ میں نے دھوپ میں بال سفید نہیں کئے۔کہنے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میں بہت عقل مند، سمجھدار اور تجربہ کار ہوں۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ بالوں کا سفید ہونا ایک فطری عمل ہے یہ بزرگی کی علامت بھی ہے۔ چاہے کوئی صاحب عقل ہو یا فہم و فراست سے عاری بال سبھی کے سفید وقت پر ہونا ہوتے ہیں۔ خواجہ آصف ن لیگ کے ایک ’’بزرگ‘‘ سیاستدان ہیں۔ پہلے موصوف نے لوڈشیڈنگ اور دفاع کا قلمدان سنبھالا ہوا تھا۔ تب بھی ان کی کارکردگی کا یہ عالم تھا کہ کبھی پاکستان آرمی کے خلاف بھڑک مارتے اور بعد میں معافی مانگ لی جاتی اور لوڈ شیڈنگ کے بارے اس وقت ان کی کارکردگی ’’یہ جو ہے‘‘ سے کبھی آگے نہیں بڑھی تھی۔ البتہ ایک بار بھاری بل بھیج کر صارفین سے 80 ارب روپے بٹور لئے گئے جس کی وضاحت خواجہ صاحب نے یہ کی تھی کہ چونکہ ہمارے پاس میٹر ریڈر کم تھے لہٰذا اس وجہ سے بل زیادہ بھیجے گئے۔ میٹر ریڈر کم ہونے کی وجہ سے بل کم بھی بھیجے جا سکتے تھے۔ مگر یہ بھی خواجہ صاحب کی ’’بزرگی‘‘ کی علامت تھی۔ آج کل موصوف وزیر خارجہ ہیں۔ کیا کیا گل کھلا رہے ہیں۔ آپ کے سامنے ہے۔ دوسرے ممالک میں جا کر خود ہی یہ کہنا کہ پہلے ہمیں اپنا گھر صاف کرنا چاہئے کیا احمقانہ اور مضحکہ خیز لگتا ہے تو جناب اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کو وزیر خارجہ بننے کی جلدی کیا تھی۔ ماشاء اللہ 35 سال سے آپ حکومت میں آ رہے ہیں۔ آپ نے اپنا گھر صاف کیوں نہیں کیا؟ یہ آپ کی ذمہ داری تھی۔ آپ تو حالیہ دور حکومت میں بھی طالبان سے مذاکرات کرنے ہی چلے تھے وہ تو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد سارا منظر ہی بدل گیا۔ زرداری نے پھانسیوں پر پابندی عائد کی تھی۔ آپ نے بھی پابندی کو بحال رکھا۔ پرویز رشید نے ایک بار واضح کہا تھا کہ پھانسیاں دینے سے یورپی یونین والے ناراض ہو جاتے ہیں۔ وہ جنرل راحیل شریف کی وجہ سے پھانسیوں پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا۔ آپ نے گھر صاف کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔ ہاں ملک کا ’’صفایا‘‘ ضرور کیا ہے۔ آئیے آج ہی گھر صاف کرنے کے لئے بسم اللہ کریں۔ ایک خبر کے مطابق قومی و صوبائی کم و بیش 50 ایسے پارلیمینٹرین ہیں جن کا آج بھی کالعدم تنظیموں سے تعلق ہے۔ وزیر داخلہ بھی آپ کا بلکہ حکومت ہی آپ کی ہے۔ جب آپ قومی و صوبائی اسمبلی ’’صاف‘‘ کریں گے تو گھر (پاکستان) خود بخود صاف ہو جائے گا۔ ن لیگ کے لوگوں کا معلوم نہیں انڈیا سے اس قدر گہرا تعلق کیوں ہے جو کہ 20 کروڑ پاکستانیوں کا ازلی و ابدی دشمن ہے۔ یہ پتہ نہیں قائداعظم، علامہ اقبال اور دیگر تحریک پاکستان کے اکابرین سے خود کو زیادہ عقل مند سمجھتے ہیں گورنر سندھ محمد زبیر نے گزشتہ دنوں کہا کہ جب مودی سے ہاتھ ملائیں تو بحث شروع ہو جاتی ہے تو گورنر صاحب کو شاید مودی کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے آلودہ نظر نہیں آتے۔ گورنر زبیر صاحب کشمیر کا مسئلہ ہی حل کرا دیں یا کشمیریوں پر مودی کے مظالم ہی بند کرا دیں تو بے شک مودی کو گلے ملیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ خواجہ آصف فرماتے ہیں کہ بھارت سے امن کوششوں کی وجہ سے نواز شریف کو مودی کا یار غدار کہا گیا۔ نہیں خواجہ آصف یہ تو وہی بات ہے ناں کہ یہ منہ اور مسور کی دال۔ ’’بزرگی‘‘ کی حالت میں جھوٹ بولنا مناسب نہیں۔ 35 سال میں کس قسم کا امن آپ نے بھارت سے لے کر دیا ہے۔ آپ کلبھوشن کو پھانسی کیوں نہیں دے رہے۔ اس سے بھی گھر صاف ہو گا۔ وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ اپنی شیطانیوں کا اعتراف بھی کر رہا ہے۔ حافظ سعید وغیرہ تو بوجھ ہیں مگر کلبھوشن کو آپ نے مہمان بنا کر رکھا ہوا ہے۔ خواجہ صاحب کہتے ہیں 47ء سے پہلے ہم دونوں ملک ایک ہی طرح کے لوگ تھے بعد میں تقسیم ہو گئی۔ نہیں جناب ہم ایک طرح کے نہیں تھے وہ ہندو غیر مسلم اور ہم مسلمان تھے۔ ہمارا مذہب، تہذیب، ثقافت سب کچھ علیحدہ تھا۔ وہاں مسلمان غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ لہٰذا بانی پاکستان نے مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک ضروری سمجھا اور جسے حاصل بھی کیا۔ امن کے بہانے مودی سے یک طرفہ ذاتی مفاد کے لئے دوستیاں نہ نبھائیے۔ امن یکطرفہ نہیں ہوتا۔ کوئی کارنامہ ہی کر دکھائیے۔ مودی سے کہہ کر مسئلہ کشمیر ہی حل کرا دیں۔ وزیر خارجہ غیر ملکی دورے پر مزید فرماتے ہیں کہ ’’ڈومور‘‘ کے بیرونی مطالبے سے میں متفق ہوں۔ یہ خواجہ آصف نے پاکستان آرمی کی تضحیک کی ہے۔ خواجہ صاحب کو علم ہے کہ 80 ہزار پاکستانی دہشت گردی میں شہید ہو چکے ہیں۔ پاک آرمی شب و روز دہشت گردوں کو واصل جہنم کر رہی ہے۔ ضرب عضب اور ردالفساد انتہائی کامیابی رہے ہیں۔ دنیا تسلیم کر رہی ہے جنرل باجوہ 6 ستمبر 2017ء دنیا کو واضح پیغام دے چکے ہیں کہ ہم بہت کچھ کر چکے اب دنیا ’’ڈومور‘‘ کرے۔ مگر خواجہ صاحب نے یہاں بھی فوج کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ تو ٹھیک ہے خواجہ صاحب کالعدم تنظیموں سے رابطہ رکھنے والے قومی صوبائی ممبران کے خلاف مقدمات درج کرانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ ہو سکے تو کلبھوشن کو بھی لٹکانے میں دیر نہ کریں۔ یہ اب آپ کی طرف سے ’’ڈو مور‘‘ میں شمار کیا جائے گا۔