مسکراہٹ کا عالمی دن‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
مسکراہٹ کا عالمی دن‘‘

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مُسکراہٹ کا عالمی دن مروجہ طریقوں کے مطابق منایا گیا ۔ یقینا واک کے شرکاء ۔ سیمینار کے مدعوئین دن کی مناسبت سے مُسکرائے ہونگے ۔ یہ 1987سے ہر سال" یو۔این ۔ او" کے ممبر ممالک میں بھرپور طریقے سے منانے کی روایت چلی آرہی ہے ۔ ممکن ہے" اقوام متحدہ "نے اپنے طے کردہ فیصلوں کی دُرگت ۔ حالتِ زار کو دیکھتے ہوئے دن منانے کی رِیت ڈالی ہو کہ قوت نافذہ پاس نہیں ۔ عمل در آمد کی طاقت نہیں تو ہنسنے کا اختیار تو رکھتے ہیں ۔ ہمت نہیں ۔ غم ۔ فکرِ دنیا ۔ چکر ہائے روز گار ا تنے کہ مسکرانے کا یارانہیں مگر دن تھا ۔ رسمِ دنیا تو نبھانی ہے جب تک سانس رواں ہے ۔ اُوپر سے خبریں بھی ایسی چلبیلی کہ خوشی کے بغیر مسکراتے گئے ۔ جواز کے بغیر خوشی میں آپ کو بھی شامل کیے لیتے ہیں ۔نابینا افراد سے پھر دھوکہ ۔ "پولیس ۔سوشل ویلفیئر "کے اہلکار مذاکرات کے نام پر شملہ پہاڑی سے ٹاوٗن شپ لے گئے ۔ دفتر لیجا کر موبائل فون بھی چھین لیے ۔ یقینا ہمارے ساتھ آپ بھی مُسکرا اُٹھے ہوں گے کہ آنکھوں والوں نے رات کے اندھیرے میں یہ ایکشن کیا ۔ نابینا افراد نے نوکری دینے کا حکومتی وعدہ پورا نہ ہونے پر دھرنا دے رکھا تھا ۔ 35" سالوں "سے بر سر اقتداروہ حکومت عوامی مسائل کیا حل کرے گی جو خود" دھرنا "دئیے بیٹھی ہو ۔ 

"میٹرو ٹرین "کی آمد کا جشن منانا چاہیے ۔ "وزیر اعلیٰ پنجاب۔" شاید ایسا ہی کچھ منظر تھا۔" راولپنڈی "کے ایک نواحی علاقے کے باسی ہاتھوں میں بالٹیاں اُٹھائے نظر آئے ۔ یاد آیا وہ جشن نہیں ۔ احتجاج کر رہے تھے ۔ کئی ماہ سے پانی کی بوند ۔ بوند کو ترسے ہوئے لوگ کچی سٹرک پر کھڑے تھے ۔ ہم" اُن" کی لاعلمی پر مُسکرا اُٹھے کہ اتنی بڑی کامیابی کو بُھلانے بیٹھے ۔ جشن منانے کی بجائے سیاپا گردی میں مشغول ۔ بے صبرے لوگ۔ مہینوں سے پانی بند ہے تو کیا ہوا ۔ زندہ تو ہیں ناں۔ اِس موقع پر" لاہور ہائیکورٹ "کے عزت مآب ریمارکس خوب یاد آئے کہ" سیاستدان پلے سے دھیلا نہیں لگاتے ۔ مگر سرکاری خزانے سے بننے والے منصوبوں پر اپنے ناموں کی تختیاں سجا لیتے ہیں" ۔
"صاف پانی "کے لیے مختص 7" ارب" کہاں خرچ ہوئے ۔ یہ کون سا منصوبہ ہے جس کے لیے "دوبئی" میں انٹرویو لیے گئے ۔ "ایل ۔ ڈی۔ اے" کاریکارڈ جلانے والوں پر" اللہ رحمن" کا عذاب نازل ہوگا ۔ عذاب والی بات پر ہنس پڑے کہ اب پیچھے کیا بچا ہے ۔ 25"کروڑ "پر مسلط ایک کروڑ اشرافیہ عذاب ہی تو ہے ۔ "قارئین" یہ تو تھی معزز" اعلیٰ عدلیہ "۔ جس کو آجکل بہت زیادہ یاد کیا جارہا ہے ۔ مگر حکومتی صفوں میں بھی بے چینی پہنچ چکی ہے ۔ پانی پینے کے قابل نہیں ۔ ہر چیز میں ملاوٹ ۔ بچوں کو زہر کھلا رہے ہیں ۔ بلوچستان کے علاقے" مچھ اور نوکنڈی "میں پانی پینے سے عجیب و غریب بیماریاں ۔ کئی لوگوں کی آنکھیں نکل کر سڑک پر گر گئیں ۔ چلو یہ تو دوسرے صوبہ کی بات ہے ۔ اِدھر" رائیونڈ "میں صاف پانی منصوبہ کرپشن کی مد میں 21" کروڑ "ہضم کر گیا ۔ ایک اہلکار پکڑا بھی گیا مگر نتائج زیرو۔ ہر" ساتوں شہری یرقان" کا مریض ۔ لوگ ابھی بھی گیلن خریدنے پر مجبور ۔ "سینٹ کمیٹی "کے انکشاف نے بھی کوئی تھرتھلی نہیں مچائی ۔ کِسی اُنگلی نے نوٹس نہیں لیا ۔
متذکرہ خبریں ایسی نہیں کہ ہنس چُھوٹے مگر جب پڑھا کہ عوام کی مشکل میری مشکل ۔ "پنجاب حکومت" کے منصوبے اپنی مثال آپ ہیں ۔ یہ الفاظ پڑھ کر ہنسی ضرور آئی ۔ ناممکن ہے کہ" وزیراعلیٰ" کے نوٹس میں معاملہ آکر بھی لٹک جائے ۔ اِس سادگی کا سہارا لیتے ہوئے لکھے دیتے ہیں کہ" وزیر اعلیٰ پنجاب" کے حلقہ انتخاب کے پرائمری سکول بوگن کو 50" برس "سے راستہ نہیں ملا ۔ اقتدار کی شاہراہ پر مسلسل گامزن رکھنے میں ممدومعاون علاقہ کی محرومی کی بہت ساری تصویروں میں سے صرف چھوٹی سی جھلک۔
مجرموں کی گرفتاری کے لیے "کھوجیوں "سے مدد کا فیصلہ ۔ عمل درآمد ہوگیا تو تمام قیدی رہا ۔ جیلیں ختم ۔ پولیس فارغ ۔" عوام کی مشکل میری مشکل "۔ بیان کی حد تک بجا ۔ سپڈو بس ۔ میٹروٹرین بہت اہم عوامی سہولت ہیں مگر ہم سب جانتے ہیں کہ "پیٹ" میں جو" روٹی" اُترتی ہے وہ سفید یا براوٗن رنگ کی ہوتی ہے۔ لال یا مالٹا رنگ کی نہیں ۔ اپوزیشن معترض ہے کہ بنیادی ضروریات کی بجائے دکھاوے کے منصوبے ترجیح میں رہتے ہیں تازہ مثال لاہور میں۔ 4" مقامات" پر چیئر لفٹ کی صرف فزیبلیٹی کے لیے12"کروڑ "کا اجراء ۔ظلم ہے جناب عالی بہت بڑا ظلم ۔لاہور ۔ پاکستان کا" سیاسی دارالخلافہ" ۔ صرف ایک منصوبہ کی جائزہ رپورٹ پر12"کروڑ "۔ اِس شہر کا واسا ڈوب رہا ہے ۔ شہر کے گٹر اُبل رہے ہیں ۔ سفاکیت کا یہ عالم کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بنائے گئے ادارے تا حال ساکت ہیں ۔ بلدیہ عظمیٰ کا اجلاس جو بچوں کے گٹروں میں گرنے کے حل کے لیے بلایا گیا تھا وہ حسبِ روایت لڑائی کی نذر ہوگیا ۔ سرکاری ہسپتالوں کا بُرا حال ہے ۔ ادویات کی خریداری سے لیکر بلڈنگ تک گھپلے ہی گھپلے ہیں ۔ صرف لاہور شہر میں اربوں روپے کی کرپشن زدہ شخصیات دھڑلے سے گھوم پھر رہی ہیں ۔ کھربوں روپے "مافیا" کے پیٹ میں اُتر گئے مگر نظر اتنی گندی کہ بھر نہیں رہی ۔
"وزیراعلیٰ صاحب" آپ کی گوناں گوں مصروفیات کی بناپر ہم تجویز کرتے ہیں کہ "لاہور شہر" کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے بلکہ پورے پاکستان کی حالت ِزار نظر کرم کی ملتمس ہے ۔ بہت بہتر ہوگا کہ" حمزہ شہباز" کے ذمہ بنیادی ضروریات کی فراہمی ۔ نگرانی لگا دی جائے ۔ کوئی بھی منصوبہ فیل نہیں ۔ سب کی افادیت مسلمہ ۔ فوائد بے تحاشا مگر نگرانی بہت ضروری ہے ۔ مانیٹرنگ کے بغیر فعالیت نا ممکن ہے ۔ جاری کھاتوں کا خسارہ حد سے زیادہ بڑھ گیا ۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی ۔ سرکاری اخراجات طے شد ہ حد سے سینکڑوں گنا بڑھ گئے ۔ "عالمی بینک "کی رپورٹ ہے کہ2018میں بھی شدید دباوٗ رہے گا ۔ شُنید ہے کہ31" ارب ڈالر "نئے قرضہ کی بات چل رہی ہے ۔
"آرمی چیف "نے بجا فرمایا کہ ترقی ہوئی مگر قرضے آسمان پر پہنچ گئے ۔ آخر کب تک ہم قرضوں پر چلتے رہیں گے ۔ ویسے بھی آج تک جتنے قرضے لیے گئے اُن کے ترقی مند فوائد ۔ ثمرات عوام کے گھروں تک کب پہنچے ؟ قرضے اور اثرات دونوں کے نتائج ثابت و ظاہر ہیں ۔ عوام کی جو حالت ہے اور حکمرانوں کے جو عیش ہیں ۔ ہمارا یقین ہے کہ یہ رپورٹ محض "چھاپہ" ہے۔ پچھلی تمام رپورٹس نکال کر دیکھ لیں ۔ کبھی بھی صورتحال اطمینان بخش نہیں بتائی جاتی ۔ جب تک قرضہ لیتے رہیں ۔ مالیاتی نظم و ضبط مثالی رہے گا ۔ ہماری معیشت" قرضہ آکسیجن ٹینٹ" میں ہے ۔ مہنگائی کا جو عالم ہے اِس سے زیادہ خطرناک صورتحال کیا ہوگی ؟ سوچ کر ہنسی آتی ہے۔