ون بیلٹ ون روڈ۔ ترقی کی شاہراہ

کالم نگار  |  لبنیٰ صفدر
ون بیلٹ ون روڈ۔ ترقی کی شاہراہ

یکم اکتوبر 1949ء کو چین کے نام سے ایک نیا ملک معرض وجود میں آیا، کچھ دن قبل یکم اکتوبر 2017ء کو عوامی جموریہ چین نے اپنے انقلاب کی 68 ویں سالگرہ منائی۔ صدیوں تک دُنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور مشرقی ایشیا کا مرکز رہنے والی زمین آج بھی تہذیب و روایات کا مرکز ہے جس میں ایک روایت دوسروں کی خیر خواہی اور بھلاچاہنے کی بھی ہے اور بلاشبہ یہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ قوم کا امتیاز ہے۔ 21 مئی 1955 کو پاک چائنہ دوستی نے اپنی بنیاد رکھی اور اتنی مضبوط بنیاد رکھی جس کو آج بھی کئی سازشیں اور طاقتیں مل کر بھی کمزور کرنے میں پوری طرح سے ناکام ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد سے آج تک ہندوستان کا پاکستان کے خلاف گھنائونی سازشوں کا مرکزی کردار رہا ہے اگرچہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے بھی بامقصد اور پرامن مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کیلئے ہمیشہ پیش رفت کی ہے لیکن بدقسمتی سے ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم اس راہ میں ہمیشہ سے رکاوٹ بنے رہے ہیں۔ کبھی سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں تو کبھی کشمیریوں پر سرعام مظالم ہندوستان کی تنگ نظری اورحاسدانہ رویئے کو ظاہر کرتی ہیں تو کبھی سی پیک منصوبہ پر بے وجہ کی چیخ وپکار ہندوانہ ذہنیت کی عیاری و مکاری کا انکشاف کرتی ہے۔

جب سے سی پیک منصوبہ تشکیل پایا ہے بھارت کے سینے پر سانپ بن کر لوٹ رہا ہے لیکن اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کی نیت سے کچھ عرصہ قبل بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیااور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان کی بولی بولنے لگے۔ ٹرمپ نے حق اور ناحق سے بے نیاز ہوکر پوری طرح سے بھارت کی طرف داری کی اور سی پیک میں خامیاں نکالنا شروع کر دیں۔ بھارت نے یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ چونکہ پاک چین اقتصادی راہداری کشمیر سے ہوکر گزرتی ہے اور کشمیر چونکہ متنازعہ علاقہ ہے وہاں پاک چین اقتصادی راہداری پر اعتراض کرنے والے امریکی وزیر دفاع جیمز اور ٹرمپ کو کشمیریوں پر بھارت کی طرف سے کئے جانے والے مظالم یکسر فراموش ہو گئے، دوسری طرف امریکہ نے نئی چال چلتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیکر اس منصوبے کو ناکام بنانے کی بے ہودہ چال چلنے کا ارادہ کیا ہوا ہے اس حقیقت سے امریکہ کیسے چشم پوشی کرسکتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاکستان نے بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں، امریکہ حقائق کو نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کر رہا ہے اور ایسی پالیسیاں کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتیں۔
سی پیک پر دہائی دینے والے ٹرمپ کو سات دہائیوں سے کشمیریوں کے حق خودارادیت سے روگردانی کی روش اس کے متضاد ردعمل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چینی قیادت کی جانب سے بین الاقوامی معاشی تعاون اورترقی کے انقلابی تصور ون بیلٹ ون روڈ کی پوری دنیا میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے، تقریبا پانچ ماہ قبل بیجنگ میں ون بیلٹ ون روڈ سربراہی کانفرنس میں امریکہ سمیت دنیا کے ایک سو تیس ممالک نے شرکت کی اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس طرح کے منصوبہ جات کسی ایک ملک کی ترقی تک محدود نہیں بلکہ عالمی برادری کو قومی مفادات سے باہر نکل کر مشترکہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔ خطے کے تمام ممالک سمیت افریقہ اور یورپ کے درجنوں ممالک نے اس منصوبہ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دوسری طرف تعصب اور تنگ دلی کی بناء پر بھارتی قیادت اس سی پیک میں کھلی دعوت کے باوجود شرکت سے انکاری ہے۔ بلکہ اسے ناکام بنانے کی طرح طرح کی چالیں چلنے میں مصروف ہے۔ اوباما دور میں بھی اس منصوبہ کی کوئی مخالفت پیش کی گئی نہ ہی اس منصوبے کے کشمیر سے گزرنے میں اعتراض کو کوئی اہمیت دی، یہاں تک بات تو بھارت پاکستان دشمنی تک تھی، دوسری طرف امریکہ کا بھارت کا ساتھ دینے کی کچھ اور بھی وجوہات ہیں، حال ہی میں انفرڈ میک کاٹے نے اپنی کتاب in the Shaddow of the American Century میں امریکہ اور چین کے درمیان ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے منظر نامے کے حوالے سے وار گیمز بیان کی گئی ہیں۔ مصنف کے مطابق چین اپنی جدید ترین سائبر اسپیس اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کی بدولت امریکہ کے کمپیوٹر اور ڈیجیٹل سسٹم کو کریک کر کے غیر فعال بنا دے گا امریکہ چونکہ موجودہ حالات سے بھی باخبر رہتا ہے اور آنے والے حالات سے بھی آگاہ ہے اس طرح وہ چین سے کئی طرح کے خطرات محسوس کرتا ہے دوسری طرف امریکہ کو ایک خدشہ یہ بھی ہے چین کے عالمی عزائم امریکہ کی بالادستی کو ختم کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں ان تمام پہلوئوں کے مدنظر امریکہ چین کو تنہا کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ چین نےG-20کے اجلاس میں امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا پر بھی پابندی نہ لگنے دی جبکہ شمالی کوریا امریکہ سے شدید نفرت کی بناء پر کھلم کھلا چیلنج بھی کر رہا ہے۔ شمالی کوریا کے اس طرح کے چیلنج کو امریکہ اسے روس اور چین کی پشت پناہی سمجھتا ہے۔ جبکہ کوریا کے کئی ملین افراد کے قتل کا گناہ گاہ خود امریکہ ہے۔ ایک اور الزام چین پر یہ ہے کہ اس نے اپنی فوجیں پاکستان میں تعینات کر رکھی ہیں اور پاکستانی سرحدوں کو مضبوط بنارہا ہے تاکہ امریکہ اور ایسے دوسرے ممالک کے خلاف کسی بھی وقت کارروائی کی جاسکے۔ ان کے مطابق گوادر کی بندرگاہ پر بھی چینی بحریہ موجود ہے اور پاک بحریہ نے اس بات کا منہ توڑ جواب یہ کہہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کو خود حفاظت کرنا جانتی ہے۔ دوسری طرف بھارت بھی چین پر الزام تراشیاں کر رہا ہے کہ چین بھارت کو گھیر رہا ہے۔ چین نے امریکی افریقہ میں بحری اڈے لی موشٹر سے چند میلوں کے فاصلے پر ڈی جی بیوٹی پر بحری اڈہ قائم کیا ہے جس سے انسانی سمگلروں اور قذاقوں کا نہ صرف راستہ رکا ہے بلکہ اس سے عالمی بحری تجارتی راستوں کی حفاظت کے امکانات بھی مستقبل قریب میں بڑھ جائیں گے اس کے علاوہ چین شام کو ازسر نو تعمیر کرنے کا مصمم ارادہ بھی کرچکا ہے جو امریکہ کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں۔ امریکہ کئی دیگر ممالک کو اپنے ساتھ شامل کرکے ہمارے خلاف ہائی برڈ وار لڑنے کی کوشش میں ہے لیکن انشاء اللہ وہ اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
سی پیک کشمیریوں کیلئے بھی خوشحالی کا پیغام ہے۔ پوری عالمی برادری کی جانب سے ایسے شاندار اور کامیاب منصوبے کے خلاف سازشوں کی مخالفت ہونی چاہئے۔
پاک چائینہ دوستی نے ایک عرصے سے محبت اور رواداری کی عظیم روایت کی پاسداری کو اپنا منشور بنا رکھا ہے دُنیا کی کوئی طاقت اس بے مثال دوستی کی زنجیر کو توڑنے کی طاقت نہیں رکھتی۔