’’خوشبو کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی ‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’خوشبو کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی ‘‘

قدم پہلے اُٹھا ۔ اقدامات کی شہ سر خی بعد میں بنی۔ چشمِ زدن میں دنیا کے طاقتور ترین افراد فرش پر آپڑے نہ دولت کام آئی نہ عہدے، مکافاتِ عمل 100"ارب ڈالر کی کرپشن"۔ ذاتی کھاتے منجمد "نوجوان شاہ محمد بن سلمان" کا عزم کہ "ہم جو پہلے تھے اسی کی جانب لوٹ رہے ہیں"۔نہ دعویٰ نہ لمبی چوڑی تقریر میں لوگوں کا وقت برباد کیا ۔ "نیب" میں اُردو کا نفاذ ، سرکاری کھاتے سے موج میلے بند " معزز جسٹس جاوید اقبال" روزانہ اسلامی تعلیمات اور کرپشن پر ملازمین کو لیکچر دیتے ہیں ۔

قول و فعل کا پہلا عکس وعظ نہیں عمل سے ثابت کیا کہ یہ ہے لیڈر شپ یقیناً بلاامتیاز کرپٹ مافیا کی سرکوبی عمل کو ثابت کرے گی۔ حکمت ’’مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطّار بگوید‘‘ داناچون طبلہ عطّار ست، خاموش و ہنر نما و نادان چون طبل غازی بلند آواز و میان تہی"ترجمعہ" مشک وہ ہے جو خود خوشبو دے نہ کہ عطر فروش اِس کے بارے میں بتائے۔ دانا شخص عطر فروش کے صندوقچہ کی طرح ہے خاموش مگر اِس کی خوبی ظاہر ہو جاتی ہے اور نادان طبل جنگ کی طرح ہے بلند آواز مگر اندر سے خالی" ہمارا حال صدر مملکت سے لیکر خادمِ اعلیٰ تک"اللہ تعالیٰ رحیم" کے واسطے دے رہے ہیں ۔
کرپٹ عناصر کو پکڑنے کی اپیل اُس" ذات" سے کی جا رہی ہے جو خود انھی" طاقتور ترین لوگوں "کی محتاج ہے۔ "اِن" کی غلامی میں بندھی محرومی، لاچاری کی زندگی گزار رہی ہے ہم تو شک میں پڑ گئے ہیں کہ واقعی عوام فیصلہ کن کردار تو نہیں بن گئے ۔ اتھارٹی عوام کے پاس تو نہیں آگئی "کھربوں لُوٹنے والوں کو کوئی پکڑنے والا نہیں ہم غریبوں کو بنیادی سہولتیں دینے میں ناکام رہے۔ شفاف احتساب دفن ہوچکا" تو"جناب عالیٰ" اِس کا ذِمہ دار کون ہے ؟ عوام یا وہ جو دنیا کو بدلنے والے سجدے تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔ شفاف احتساب تو اب" روز محشر" ہی ممکن ہے یہاں تو ہلکی سی ہوا چلی تو لوگوں نے دوسروں کے گھروں کی چھتیں اُڑا دیں۔کیا کیا القاب سے نہیں نوازا گیا ۔
غریب کا سب سے بڑا جرم غربت ایک" امرود" کھانے پر جیل مقدر۔ دوسری جانب سے بجا فرمایا گیا ہمارے صبر کی داد دیں کِسی کے کہنے سے شان کم نہیں ہوگی۔ بلاشبہ سچائی حق کا پھل آخرت کے یقینی انعامات ہیں پر دنیا میں بھی بول بالا ہوتا ہے۔ انصاف، عدل فیصلوں سے بولتے ہیں تو خدمت انسانی کے مظاہر بھی عمل سے نظر آجاتے ہیں۔ چار سال میں خدمت کی مثالیں قائم کرنے آگے بڑھتے رہیں گے کہنے والے" عالی جناب" آج بیحد دل گرفتہ نظر آئے شفاف احتساب نہ ہونے پر ہمیشہ کی طرح ہمارا دل ہر مرتبہ یقین کر لیتا ہے مگر دعوؤں کی تصدیق روز مرہ کی مارکیٹ نہیں کرتی بھڑکیلے حروف اُمید کو جگاتی تقاریر اس وقت دھندلی گم ہو جاتی ہیں۔
جب ہم عام آدمی غرباء کی حالتِ زار کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں یہ ہمارا ملک ہے25"کروڑ پاکستانیوں" کا دیس" ایک کروڑ اشرافیہ" کی جاگیر نہیں۔ ایک وقت تھا ہم شاہراتی ترقی بڑے منصوبوں کے حامی تھے۔ روٹی، پانی، دوائی جیسی ضروریات کے فوائد کم سٹرک ۔ موٹر وے کے زیادہ فوائد گنواتے تھے تو اب کیا ہوا ؟ بس" فیز" کی بات ہے انسان کی زندگی ادوار کا مجموعہ ہے ۔
کبھی ایک فیز کبھی دُوسرا اِس کا سیدھا مطلب تو ؟ بے سُر کی تان اُٹھانے کا فائدہ نہیں تو پھر موقف میں 90" ڈگری" تبدیلی کیوں ؟ موقف اب بھی وہی مگر جب دیکھتے ہیں کہ "ہسپتالوں" میں گزرنے کی جگہ نہیں ۔ مریض کے علاج کے لیے مختص وسائل" لمبی گردنوں" کے حلق میں اُتر جاتے ہیں گھریلو ملازمین کے ماں باپ کی روتی ہوئی فون کالز جب بڑھ جاتی ہیں تو نظریںکان دوائی سبزی کے اشکال بُننے لگتے ہیں۔ تب دل بہت دُکھ محسوس کرتا ہے ایسی باتوں کو سُن کر پڑھ کر عمل کے بغیر ارادہ کچھ نہیں تو نماز کے بغیر وضو کارِ عبث ہے کتنے ہی واقعات تھے نوٹس لئے گئے کمیٹیاں بنیں نتائج زیرو انٹری ٹیسٹ ذہانت کے ساتھ کھلواڑ تھا لاکھ شکایات آئیں احتجاج کی صدائیں بلند ہوئیں ایک آدھ پکڑے گئے پر اِس کے بعد کیا ہوا ہنوز اندھیرا "غلط فیصلہ "اپنی جگہ ڈٹا رہاکرپٹ مافیا کو ضرور پکڑیں مگر وہ نظام جو کرپشن کا سب سے بڑا سہولت کار ہے اُسے بدلنے کی ضرورت ہے۔
قواعد و ضوابط بنانا آسان ہیں نفاذ بھی مشکل نہیں دشواری عمل درآمد میں ہے الفاظ بہت خوبصورت انداز بیحد دلنشیں مگر حقائق بہت تلخ ہیں اس لئے سوالات توتیکھے ہونگے۔ دنیاوی مال کی محبت اتنی شدید کہ چڑھ دوڑے دوسری طرف فنی غلطی تھی نہ ہی دفتری بگاڑ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت "ختمِ نبوت "کے نازک ایشو کو چھیڑا گیا ۔ بے شک واپسی ہو چکی مگر خود سے نہیں ۔ شور مچنے پر ۔ مگر جو دھول اُڑنا تھی وہ اپنا رنگ دِکھا گئی کیا خفت بدنامی سے بھری جھولی اب اُلٹی جا سکتی ہے ؟
72" سالوں" کا کیا دھرا تو شاید معاف ہو جائے مگر یہاں تو گڑ بڑ ہے بھئی بہت بڑا" فساد کا قالین" اپنے لیے بچھا بیٹھے ہیں وہ بھی کانٹوں بھرا ۔" اللہ تعالیٰ کریم اور شافع محشر ﷺ "کے ساتھ نعوذ باللہ جنگ کیا بنے گا ؟ یہ ایشو تو اب" ساتواں آسمان پار" کر چکا ہے
اس لئے مزید رائے زنی مناسب نہیں ۔ پہلے ہماری ساکھ اتنی اچھی کب تھی ۔" ساکھ نام" پر تو کرپشن اپنی دلدل جما چکی ہے ۔ معیشت کا جو حال ہے۔ خارجی محاذ پر جو صورتحال چل رہی ہے ۔ دائیں بائیں سے دشمن جس طرح گھناوٗنی وارداتیں کر وا رہا ہے ۔ سرحدوں پر بھی حالات حساس نوعیت ظاہر کر رہے ہیں "اللہ تعالیٰ رحمن" نہ کرے آج جنگ چھڑ جائے پیسے نہیں ہونگے تو طیارے کیسے اُڑان بھریں گے۔ ٹرینیں کیسے چلیں گی ؟ جن اداروں کو ہم دُشنام دیتے نہیں تھکتے ۔
اُن کے ساتھ اِتنا بُرا رویہ تو" دشمن" نے نہیں اپنایا "گفتار کے غازیوں "نے یوم اقبال مناتے ہوئے "علامہ اقبال "کے افکار و نظریات پر چلنے کا درس دیتے ہوئے حق سچ پر فیصلے کرنے کو کہا درست " اقبال" کے افکار و نظریات اور تھانہ، کچہری کی فضا میں بہت فرق ہے ۔" تھانے" میں حق سچ کی کہانیاں ڈنڈوں لوہے کے راڈ اور مرچوں کے عناصر ترکیبی سے لکھی جاتی ہیں ۔ اِس کلچر کو تبدیل کریں ۔ تبدیلی کی خوشبو پھیل کر خود ہی بتا دے گی نہ "شعر" پڑھنے کی زحمت اُٹھانا پڑے گی نہ ہی کروڑوں کے اشتہار" ردی "ثابت ہوں گے ۔