پولیس کو خدا یاد نہیں!!

کالم نگار  |  سید روح الامین
پولیس کو خدا یاد نہیں!!

واہگہ تقریب کے خاتمے پر ایک دہشت گرد نے 62بے گناہ شہریوں کی جان لے لی۔ کوٹ رادھا کشن میں مقدس اوراق کی بے حرمتی پر مسیحی میاں بیوی کو تشدد سے قتل کر کے نعشیں بھٹے میں جلا دی گئیں۔ گجرات میں تھانیدار نے توہین مذہب کا الزام لگا کر ملزم کو حوالات سے نکال کر کلہاڑی سے قتل کر دیا۔ گجرات میں ہی سابق ایم این اے کے عزیزوں نے معذور والد کو گرانے پر 18سالہ خرم محنت کش کو قتل کر دیا۔ دورہ چین روانگی سے قبل وزیر اعظم صاحب کا دلکش بیان بھی ملاخطہ فرمایئے کہ ” دورہ چین کا مقصد عوام کو لوڈشیڈنگ سے بچانا ہے“ تو جناب ایسے دورے 67 سال سے آپ جیسے کئی حکمران کرتے آ رہے ہیں مگر عوام ان کے ”ثمرات“ سے محروم ہی رہے ہیں خدارا پہلے انسانی زندگیوں کو تو بچائیے جو آپ کی آئینی، اخلاقی ذمہ داری ہے، بلاشبہ وطن عزیز میں جو بھی اندھا دھند قتل اور بربریت ہو رہی ہے اس کی ذمہ داری بالواسطہ اوربلا واسطہ حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس پر عائد ہوتی ہے جس مذہب کے نام پر بے گناہوں کو مارا جا رہا ہے ہم خود اس مذہب کی تعلیمات پر کس حد تک عمل پیرا ہیں کیا ہم واقعی ہی مسلمان ہیں؟ اور یہاں حکومت نام کی کوئی چیز ہے؟ اگر ماڈل ٹاﺅن کے سانحہ میں ذمہ دار پولیس والوں کو فوراً قانون کے مطابق سزا دے دی جاتی تو دوسروں کے لئے عبرت کا باعث ہوتی۔ یہ کیسا جنگل کا قانون ہے کہ پولیس والے ایک بے گناہ کو قتل کر دیں یا 20کو۔ ان کی سزا صرف ”معطل“ ہے۔ خادم اعلیٰ صاحب نے تھانہ کلچر تبدیلی کا نعرہ بھی لگایا تھا۔ وزیراعظم صاحب ہی بہتر جانتے ہوں گے کہ ان کا یہ نعرہ بھی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے نعرے کی مانند ”جذباتی“ تھا یا اصلی، وزیر اعلیٰ کی بجائے”خادم اعلیٰ“ بن جانا ایسے ہی کم از کم تھانوں کے نام ہی تبدیل کر دئیے جائیں تاکہ عوام الناس کو کچھ حوصلہ ہو جائے۔ آج ہمارے تھانے وڈیروں دولت مندوں کی آماجگاہیں اور غریب، مظلوموں کے لئے جہنم کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ مظلوم کی کوئی نہیں سنتا۔ اہل ثروت پیسے سے ہر جائز و نا جائز کام نکلوا لیتے ہیں۔ اگر مظلوم کو انصاف ملے اور ظالم کو سزا ملے تو معاشرے میں جرائم ختم نہیں مگر کم ضرور ہو جائیں۔ یہ کیسی اسلامی جمہوری ریاست ہے۔ اگر کوئی مقتول کا وارث تھانے کچہریوں میں اپنا گھر بار لٹا کر قاتل کو عدالت عظمیٰ سے سزا دلوانے میں کامیاب ہو ہی جاتا ہے تو پھر اس کی سزا پر عمل نہیں ہوتا کیوں کہ ریاست خود اڑے آ جاتی ہے اور ظالم قاتل کے لئے ڈھال بن جاتی ہے2008ءسے کسی کو بھی پھانسی نہیں دی گئی۔ کیوں؟ کبھی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کبھی پوری یونین اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ ہماری ”آزاد، خودمختار“ ریاست کے حکمران ان کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتے ہیں۔ جب کسی کو یقین ہو گا کہ مجھے سزا نہیں ہونی تھانے میں ہی ” مال“ لگا کر آ جانا ہے تو پھر حوصلے بڑھیں گے اور جرائم بھی کثرت سے ہوں گے۔ چند ماہ قبل مظفر گڑھ میں آمنہ نامی بچی سے زیادتی کے مرتکب شخص کو پیسے لے کر تھانے میں ہی بری کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ D.N.A رپورٹ بھی درست تھی تو اس بچی نے تھانے کے سامنے ہی خود سوزی کر لی تھی۔ خادم اعلیٰ جب گھر جا کر اسے ”اعزازیہ“ دے آئے مگر پولیس کو کیا سزا دی گئی؟ کوٹ رادھا کشن کا واقعہ پولیس کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مشتعل گروہ کو روکنا پولیس کا کام تھا متعلقہ S.H.Oکی کیسی بے خبری ہے؟ کہ اگر مسیحی جوڑے نے توہین مذہب کی بھی تھی تو فوراً انہیں پکڑ کر قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی۔ شہریوں نے انہیں خود قتل کیا، بھٹے میں جلایا جب سب کچھ ہو گیا تو تمام افسران وہاں پہنچ گئے۔ نشتر کالونی میں چار سالہ آئزک مسیح کو گلا کاٹ کر قتل کر دیا گیا۔ مگر کوئی مجرم نہیں پکڑا گیا، لوگوں کے دلوں سے قانون اور سزا کا خوف ہی ختم ہو گیا ہے۔ پولیس کا ادارہ کرپشن کی آماجگاہ بن چکا ہے ملزم کو علم ہوتا ہے کہ تھانے میں میرے خلاف F.I.R ہی نہیں کٹے گی۔ اگر مخالف فریق کے دباﺅ سے پولیس نے F.I.Rدرج بھی کر لی تو بعد میں بھی پولیس نے ہی کارروائی کرنی ہے، تو مال لگانے سے سب کچھ ٹھیک ہو گا۔ اب ایسا ہی ایک خط قارئین کی نذر، سیالکوٹ سے محمد اشرف صاحب لکھتے ہیں کہ جناب میں سیالکوٹ لاری اڈہ پر معمولی ہاکر ہوں۔ 250/- روپے دیہاڑی پر محنت کر کے اپنے 6بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔ میرے بائیں بازو کو پہلے ہی فالج ہے چند روز قبل خادم حسین عرف پپو پورب والا شراب پی کر آیا اور مجھ سے بھتہ مانگا میں نے انکار کیا تو اس نے مجھے گالیاں دیں مجھ پر اتنا تشدد کیا کہ میرے بائیں ہاتھی کی انگلی ٹوٹ گئی، وہ مسلح تھا بہرحال میں نے تھانہ کینٹ سیالکوٹ میں درخواست دے دی دس بارہ دن کوئی کارروائی نہ ہوئی کیونکہ پولیس مال لے چکی تھی۔ پھر ایک ”صاحب“ کے کہنے پر S.H.Oصاحب نے F.I.R تو درج کر لی مگر اس کو گرفتار کرنے کی بجائے تین چار روز میں بھاری نذرانہ کے بدلے خود ہی اسے بے گناہ قرار دے دیا۔ جناب میں ایک غریب آدمی ہوں مجھے انصاف کون دے گا آپ کی وساطت سے میری آئی جی پنجاب اور جناب خادم اعلیٰ پنجاب سے استدعا ہے کہ مجھے انصاف مہیا کیا جائے“ یہ ایک نہیں ایسے ہزاروں واقعات ہیں۔ پولیس خود ظالموں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کی کارکردگی ایک طرف ان کا تو کام ہی عوام کو ” لالی پاپ“ دینا اور ٹرخانا ہوتا ہے۔ پولیس والے بھی عوام میں سے ہی جاتے ہیں۔ جب تک ان کو ملازمت نہیں ملتی عام شہری ہوتے ہیں۔ مگر جب کالی وردی زیب تن کر لیتے ہیں تو دل کالے کیوں ہو جاتے ہیں۔ غریبوں ،مظلوموں، بے بسوں پر مظالم کیوں ڈھاتے ہیں۔ حکومت کا نہ سہی خالق کا خوف بھی نہیں رکھتے جس کی دی ہوئی یہ چند سانسیں اس کی امانت ہیں اور دوبارہ اس کے پاس لوٹ کر بھی جانا ہے وہاں پورا پورا عدل ہو گا۔ ہر چیز کا حساب ہو گا کوئی ظالم بچ نہیں پائے گا۔ یوم آخرت پر بھی ہمارا یقین نہیں جو کہ برحق ہے آج ہم مجموعی طور پر مسلمان تو کہلاتے ہیں مگر اللہ، اور اس کے رسول کی تعلیمات کو ہم فراموش کر چکے ہیں، آپ نے حضرت علیؓ کو فرمایا تھا کہ ”علیؓ کسی کو بھی آگ کا عذاب نہ دینا“ ہمیں اپنی مسلمانی پر نظر ثانی کرنا ہو گی اور اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا۔ لگتا ہے پولیس سمیت ہم میں سے کسی کو بھی خدا یاد نہیں۔