’’عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے‘‘

پنجاب پولیس چاہے تو کتا بھی اقرار جرم کرے۔ سپریم کورٹ۔ اقرار جرم تو نہیں کروایا البتہ منڈی بہائوالدین میں جائیداد کے تنازع پر پولیس نے لڑکے پر ’’کتا‘‘ چھوڑ دیا۔ اب پیٹی بھائی کو بچانے کیلئے سرگرم ہے۔ سرگرم تو چھوٹے میاں صاحب بھی ہیں۔ عوام کے مسائل حل کرنیوالے فرماتے ہیں کہ وسائل کا رخ محروم طبقات اور غریبوں کی جانب موڑ دیا۔ اب غریبوں کو کون سمجھائے کہ وسائل کی زد میں آکر رحیم یار خان میں 20 افراد نے خودکشی کر لی۔ سمجھ تو حکومت بھی نہیں رہی‘ جب اعلیٰ عدلیہ فرماتی ہے کہ حکومت شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ خیال تو حکومت رکھ رہی ہے مگر عوامی نمائندوں کا پنجاب اسمبلی کے 3 روزہ اجلاس پر 25 کروڑ 90 لاکھ سے زائد کے اخراجات ‘ دردناک واقعات پر حکومت مستعفی کیوں نہیں ہو جاتی۔ سپریم کورٹ حکومت کو تو شاید خبر بھی دردناک معلوم نہ ہو کہ غازی بروتھا پروجیکٹ میں تاخیر کی وجہ سے 3 ارب 24 کروڑ سے زائد کے کلیم ٹھیکیدار کو ادا کرنا شاید یہ بھی دردناک کہانی نہ ہو کہ پونے 2 ارب روپے خرچ کرنے کے بعد ریکوڈک میں ثمر مبارک پراجیکٹ بند کر دیا گیا۔ ہاں عوام کیلئے یہ خبر بڑی دردناک ہے کہ بلوچستان میں سونے‘ تانبے کے 26 ارب ڈالر کے ذخائر کو نکالنے کیلئے متحدہ عرب امارات نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ دردناک اس لحاظ سے کہ اس دھرتی پر ایک بھی جوہر قابل نہیں۔ قابل بھروسہ ادارہ نہیں جو اپنے وسائل کو ایمانداری سے کھوج سکے۔ نکالے‘ نکال تو حکومت بھی رہی ہے‘ ’سٹیل ملز‘‘ کو بحران سے ’’اربوں روپے‘‘ کے بیل آئوٹ پیکیج کے باوجود یہ حالت ہے کہ تنخواہیں اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی بھی مشکل پیداواری پلانٹ کسی بھی وقت بند ہو سکتا ہے‘ نااہلی کا تابوت کس کے کندھے پر رکھیں۔ نااہل تو خیر اینٹی کرپشن حکام بھی نہیں اس کے باوجود زیر التوا انکوائریوں کی تعداد 4 ہزار 876 ہو گئی۔ 2008ء سے ہزاروں مدعی دفتروں کے چکر لگا لگا کر خوار ہو رہے ہیں۔ خوار تو اب عوام بھی مزید ہونگے جب کھاد کی بوری خریدتے وقت 200 روپے اضافہ شدہ ادا کرنا پڑینگے۔ جرمانہ تو سیمنٹ خریدتے ہوئے بھی بھرنا پڑیگا اور وہ بھی دو مرتبہ۔ اس ملک میں عام چلن ہے کہ چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ دو مرتبہ ہوتا ہے۔ اک قیمت بڑھانے کا عندیہ جب دیا جاتا ہے اور دوسرا جب قیمت بڑھائی جاتی ہے۔ اس پر اتفاق نہیں۔ گیس قیمت میں بھی اضافہ کی صورت لاٹھی چارج ہونے جا رہا ہے۔ لاٹھی چارج تو وہاڑی میں کسانوں پر پولیس نے بھی کر ڈالا۔ شیلنگ‘ تشدد ‘ ناانصافی‘ من چاہے فیصلوں کی دل پسند تعبیریں‘ تفسیریں‘ ناانصافی تو سمندر پار پاکستانی بھی برداشت کر رہے ہیں کہ ووٹ کے حق سے محروم‘ اوپر سے الیکشن کمیشن کہہ رہے ہیںکہ تکنیکی‘ قانونی وجوہات کے باعث حق دینا ممکن نہیں تو قارئین‘ زرمبادلہ کی صورت میں اربوں روپے وصول کرنے کا کیا حق ہے۔ اس راہ میں کوئی رکاوٹ کیوں نہیں۔ پیسہ قابل قبول مگر سمندر پار پاکستانی قابل بھروسہ نہیں۔ پیسے محفوظ مگر بھجوانے والے نہیں۔ محفوظ تو عوام اب اپنے ہم وطنوں سے بھی نہیں۔ ٹیکسوں کے بعد جوکچھ باقی بچتا ہے وہ ڈاکو لوٹ لیتے ہیں۔ لاہور میں ایک دن میں لاکھوں روپے‘ ہزاروں شہری لٹ رہے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہا حتیٰ کہ اعلیٰ عدلیہ بھی دہائی دے بیٹھی کہ غریبوں کا جینا حرام ہو چکا۔ مظالم پر عدالتیں آنکھیں نہیں بندکر سکتیں۔ آنکھیں تو شاید حکومت نے بھی بند نہیں کر رکھیں۔ دن رات پسندیدہ شعر قوم کی نذر کرتے رہتے ہیں۔ ظلم بچے جن رہا ہے۔ کوچہ و بازار میں‘ سڑکوں‘ گلیوں میں ظلم تو نہیں بربریت ضرور بچے جن رہی ہے۔ وہ بھی پولیس کے ہاتھوں۔ لاہور میں تشدد سے نوجون مارا گیا۔ فیصل آباد میں مقابلہ کے نام پر 3 نوجوان ہلاک کر ڈالے۔ عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے۔ وزیرعلیٰ نے نوٹس لے لیا۔ ہماری گزارش ہے کہ نوٹس سے تدارک‘انسداد کی طرف بھی بڑھنا چاہئے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ذمہ دار ڈرائیور کو ٹھہرایا جاتا ہے اور اس وقت ڈرائیونگ سیٹ پر تو حکومت بھی بیٹھی ہے مگر کچھ کچھ‘ کبھی کبھار لاتعلق اس لئے کوئی نہ کوئی سپیڈ بریکر نمودار ہو جاتا ہے۔ نہ دکھائی دینے والے سپیڈ بریکر وہاں ڈرائیور ماہر ہوتو گاڑی نکال لے جاتا ہے۔ مایوسی تو ہے کہ گاڑی کو مطلوبہ رفتار‘ مہارت اور درست سمت میں لے جا رہا ہے۔ اب اگر کوئی خود سے ارادہ کرے‘ گاڑی کے آگے آجائے تو اس میں ماہر کا کیا قصور۔آپریشن تو آپریشن ہوتا ہے۔ برے اچھے کی تمیز تو صرف کام سے کام رکھنے والے ہی کر سکتے ہیں۔ بے حد خوشگوار خبر کہ اعلان کے ساتھ عمل کو برسوں بعد نہ صرف دیکھا بلکہ محسوس بھی کیا جا رہا ہے۔ دہشت گرد‘ ٹارگٹ کلرز‘ جرائم پیشہ ‘ قبضہ مافیا کے ساتھ اب کوئی نوگو ایریا بھی نہیں رہے گا۔ پاکستان کا واحد ادارہ کہ ’’صاحب اولاد‘‘ بھی ہے۔ آرمی چیف کو سیلوٹ‘ زبردست رینجرز‘ برسوں سے بارود کی پھیلی ہوئی بو‘ دھیرے دھیرے سہی مگر اب کی مرتبہ سمٹتی جا رہی ہے۔ اس پر تو یقینا اعتراض تنظیم والوں کو بھی نہیں ہوگا۔ جرم جس صف میں بھی ہے‘ جس کارپٹ کے بھی نیچے ہے‘ کارپٹ سمیت جلا ڈالنا پڑیگا۔ بہت برداشت کر لیا‘ بہت ظلم سہہ لیا اب ہر ایک کو صاحب اولاد ہونا پڑے گا۔ ظلم کو بچے جننے سے روکنا ہوگا‘ روکنا تو اب حکومت کو بھی ہوگا۔ تقریر بازی کے ذریعہ عوام کو بے وقوف بنانے سے ریلیف دینا پڑیگا۔ اب جھٹکے مارنے والا دور گر گیا۔ ریلیف تو بہادر افواج نے بروقت ‘ درست حکمت عملی‘ جاندار فیصلوں سے‘ ملک عزیز کو دینا شروع کردیا۔ جھٹکے مارنے والے گرفت میں تو کبھی نہ کبھی آ ہی جاتے ہیں مگر اب عوام جھٹکے کھانے والے نہیں۔ اس لئے حکومت کھاد‘ گیس‘ سیمنٹ کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ واپس لے۔ پہلے ہی عام آدمی کی معاشی حالت دگرگوں ہے۔ خود قیادت کی حالت بھی اسی منظر سے مختلف نہیں۔ گرمیوں کی آمد آمد ہے اور بجلی کی پیداوار میں بڑھوتری کی کوئی خوش کن تصویر ابھر نہیں رہی۔ ہاں البتہ عوام کا ایک تباہ کن سیلاب ضرور امڈتا نظر آرہا ہے۔ تو الجھائو کس بات میں ہے۔ حقیقت پسندی سے کام لیں‘ ہزاروں شعر ہمیں بھی ازبر ہیں۔ ہمیں شاعری سے نہیں معدنی ذخائر کی اصل رپورٹ سے بہلائیں۔ پاکستان کی تقدیر داد سمیٹنے کیلئے تالیاں بجانے سے نہیں‘ زمین میں چھپے خزانوں کو تلاش کرنے سے بدلے گی۔ زمین پر موجود وسائل‘ افراد سے مبنی بر انصاف استفادہ کرنے سے عدل صاحب اولاد ہوگا۔ ورنہ؟؟ ہمیں باتوں پر شک نہیں‘ بات نیت اور ارادے کی ہے۔ بات تو ایک اور بھی ہے تو پسپائی ہی پسپائی ہے۔ ساحل سمندر سے ‘ صبح والا طنطنہ‘ دھمکیاں تو اب قصہ ماضی بن گئیں کہ گیند صاحب اولاد کے گھر میں ہے۔