پاکستان کے روشن مستقبل کی آمد کے آثار

پاکستان کے روشن مستقبل کی آمد کے آثار

گو کہ بظاہر اسلامی جمہوریہ پاکستان دہشت گردی انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف حالت جنگ میں ہے اور حالات کے جبر نے عوام میں ایک مایوسی اور بے بسی کی فضا میں تاریکی کے عالم میں گھیر رکھا ہے لیکن قانون قدرت کا تقاضا ہے کہ ایسی صورتحال میں کہیں نہ کہیں سے امید اور نور کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔
جیسے صحرائوں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
کچھ ایسے ہی عالم میں تین ماہ قبل 16 دسمبر 2014ء کی صبح آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردوں نے پاک فوج کی طرف سے آپریشن ضرب عضب کا گھیرائو تنگ ہوتے دیکھ کر راہ نجات کی بے سود تلاش میں قیامت صغریٰ برپا کر کے 150 سے اوپر معصوم بچوں اور انکے اساتذہ کو بربریت کیساتھ اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا۔ سانحہ پشاور نے حکومت پاکستان پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیاسی پارٹیوں اور 18 کروڑ عوام کو دہشت گردی انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے مجرموں اور انکی پشت پناہی کرنیوالوں کیخلاف متحد ہو کر پاک فوج کے شانہ بشانہ دہشت گرد اور شدت پسند و فرقہ واریت میں مبتلا عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اظہار کیا۔ پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ فوراً حرکت میں آئی اور 15 دن کے اندر حکومت پاکستان اور فوجی قیادت نے ’’قومی ایکشن پلان‘‘ مرتب کر کے عزم مصمم کیساتھ اس اعلان کے 20 نکاتی ایجنڈا پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا اس دوران حالیہ ہفتہ میں چند ڈرامائی واقعات رونما ہوئے جنکے باعث بعض پاکستان دشمن عناصر نے ایک سازش کے تحت افواہوں کا جال پھیلانا شروع کر دیا کہ نیشنل ایکشن پلان کی کارکردگی اور ترجیحی نوعیت سست روی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ عدلیہ میں 21 ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ میں تبدیلی کے باعث فوجی عدالتوں کی مجوزہ کارروائیاں اور مجرموں کو پھانسی کی سزائیں التواء میں پڑ گئی ہیں۔ نیز یہ بھی کہ سینٹ کے انتخابات کی سیاسی گہما گہمی کی وجہ سے حکومت کی توجہ قومی ایکشن پلان کی 20 نکاتی منصوبہ بندی سے ہٹ کر سیاسی گٹھ جوڑ کی طرف مبذول ہو گئی ہے ان خدشات کو دور کرنے کیلئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اپنے کراچی لاہور اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے دوروں پر اپنے خطابات میں نہایت واضح انداز میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کا جس فولادی عزم کا اظہار کیا اس سے پاکستان کے روشن مستقبل کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ دہشت گردی اور ’’دیگر چیلنجز‘‘ کے مقابلے کیلئے آگے بڑھ کر لڑنا پاک فوج کی دیرینہ روایت ہے۔ انہوں نے مایوسی کی افواہیں پھیلانے والوں کے پروپیگنڈا کو رد کرتے ہوئے قوم کو یہ خوشخبری دی کہ وہ عوام کے تعاون سے ملک میں امن لائینگے۔ جنرل راحیل شریف نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے زیر ٹریننگ نوجوان کیڈٹس کو نصیحت کی کہ وہ جرأت اور بہادری کی صفات پیدا کریں اور موجودہ درپیش مشکلات سے ہرگز نہ گھبرائیں۔ انکی اس نصیحت سے مجھے بانی قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا پنجاب یونیورسٹی گرائونڈ لاہور میں 31 اکتوبر 1947ء کا وہ خطاب یاد آ گیا کہ ’’مسلمان کبھی مشکلات سے گھبرایا نہیں کرتے‘‘ اس تاریخی موقع پر راقم فوج کی طرف سے اس جلسہ میں قائد اعظم کی سکیورٹی پر مامور تھا۔ اس سے اگلے روز پاکستان کی سیاسی شطرنج میں ڈرامائی چالیں ظہور پذیر ہوئیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے نامزد چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی دانش اور فراست سے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی پوزیشن کو باعزت طریقہ سے یہ پیشکش کرتے ہوئے بحال کر دیا کہ وہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے بھی کوئی امیدوار نہیں لائیں گے اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا امیدوار بلوچستان سے ہو گا ۔اسکے ساتھ ہی پاکستان آرمی کی طرف سے قوم کو ایک بہت بڑی خوشخبری یہ سنائی گئی ہے کہ 2750 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائل شاہین تھری کا کامیاب تجربہ کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔ جس سے سب پر واضح ہو جانا چاہئیے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اس قدر مضبوط اور مستحکم ہو چکی ہے کہ ہماری بہادر افواج ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑجواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم نے بھی اس موقع پر قوم کو یہ یقین دلایا ہے کہ پاکستان کا ملکی دفاع نا قابل تسخیر بنانے پر دنیا کی کسی طاقت سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ جنرل راحیل شریف چیف آف آرمی سٹاف نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ پاک فوج کی آپریشنل تیاریاں جنگ نہیں امن کیلئے ہیں۔ تصادم روکنے کیلئے ڈیٹرنس اور مضبوط نیو کلیئر نظام ضروری ہیں۔ اس وقت ملکی سطح پر دہشتگردی کے چیلنج کیساتھ ساتھ ملک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز واحد بندرگاہ اور روشنیوں کا شہر جو MINI PAKISTAN کہلاتا ہے پاکستان کو درپیش بحرانوں کے طوفان کی آنکھ کی مرکزی حیثیت کا حامل ہے اور اسکی گزشتہ 48 گھنٹوں کے اندر کشیدہ ترین حالت نہ صرف صوبائی اور وفاقی حکومت بلکہ افواج پاکستان کیلئے بھی ایک چیلنج کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اور بعض حلقے اب برملا یہ خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور صوبہ سندھ کی انتظامیہ کے علاوہ قومی سطح کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مشترکہ منصوبہ بندی کے ساتھ کراچی پولیس کو مکمل طور پر Depoliticize یعنی ہر قسم کے سیاسی دبائو سے آزاد اور شہری آبادی کو حتی الا مکان DISARMیعنی ہتھیاروں سے پاک کرتے ہوئے رینجرز کا 100 فیصد ساتھ دینا چاہئے تاکہ پاک فوج اپنے آپریشنل رول پر زیادہ سے زیادہ توجہ مبذول کر سکے۔