عورت

کالم نگار  |  روبینہ فیصل
عورت

خواتین ڈے پر میڈیا میں مشہور و معروف عورتوں کی کہانیاں تو ہم سنتے ہی رہتے ہیں۔ میں اس دن کو اپنی امی کے نام سے منسوب کرتی ہوں۔ تب وہ سخت پردہ کرتی تھیں اور پردے کیخلاف جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیںکہ پردہ سوچ کو غلام کرتا ہے تو میری امی کی کہانی اس دلیل کو جھوٹا کر دیتی ہے انہوں نے فیصل آباد کے چھوٹے سے محلے میں رہتے ہوئے بھی مجھے مغربی تعلیم اوراعتماد دیا۔ میں نے عورت کی آزادی کا سبق ایک باپردہ عورت سے لیا ہے اس لئے میرے خیالات میں آزادی کے نام پر کوئی ننگ دھڑنگ بغاوت نہیں آتی، جو آزادی کے نام پر رشتے روند دے اور صرف اپنے بارے میں سوچنے کو آزادی کہہ دے بلکہ ایک ایسی مقدس عورت کا باہمت اور محنتی چہرہ نظر آتا ہے جس نے اپنی ہم عمر عورتوں کی طرح فیشن اور شاپنگ کبھی نہیں کی بلکہ گھر کے اندر بنے سکول اور ٹیوشن سنٹر کو دن رات چلایا جس نے کبھی ایک وقت کی نماز بھی قضا نہیں کی اور کمانے والا ہاتھ ہونے کے باوجودبھی ہمیں اپنے ہاتھ ہی کی بنی ہوئی روٹی کھلائی۔ میری امی کی تربیت کا ایک حصہ جو میں چاہتی ہوں اسے ہر ماں اپنی بیٹی کو نوازے وہ یہ کہ انہوں نے مجھے کبھی تعلیم میں اور نہ تربیت دینے میں یہ احساس ہونے دیا کہ میں لڑکی ہوں ۔ اسی لئے جب اٹھارہ سال کی عمر میں میں کو ایجوکیشن میں گئی تو لڑکوں کو کبھی لڑکا سمجھ کر بات نہیں کی اور جمعیت کی بے جا سختی کیخلاف آواز اٹھائی ۔ اور انہی کی تربیت کا حصہ کہ شادی کے بعد بھی جب کبھی جذباتی یا معاشی مشکلات پڑیں تو اپنے شوہر کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ انہی کی تربیت کا حصہ کہ آزادی اور بدکرداری میں فرق نظر آتا رہا اور معلوم رہا کہ بد کردار عورت ہو یا مرد دونوں برابر کے جوابدہ ہیں ،کیونکہ دونوں کا راستہ پہلے گھر اور پھر معاشروں کی تباہی پر آکر ختم ہوتا ہے ۔ یہ تربیت ہے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ مائوں کو اپنی بچیوں کو دینی چاہیئے۔ 8 مارچ کوخواتین کا دن منایا جاتا ہے ۔ مرد حضرات پوچھتے ہیں کہ مردوںکا دن کیوں نہیں ہوتا ؟ ترقی یافتہ ممالک میں عنقریب یہ بھی ہونیوالا ہے۔ کیونکہ ادھر پہیہ الٹا چل پڑا ہے۔ اس بات سے بہت سے لوگ اختلاف کرینگے مگر جتنے اختیارات یہاں عورت کو مل گئے ہیں وہ ان کا ناجائز استعمال بھی کرتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح مغربی ممالک میں بھی جب آدمیوں کے پاس عورت سے زیادہ اختیارات ہوتے تھے تو وہ اسے غلط استعمال کرتے تھے۔ طاقت بغیر تربیت کے کسی کے بھی ہاتھ میں آجائیگی وہ غلط استعمال ہوگی جن کے پاس طاقت ہو انکی تربیت ہونا بہت ضروری ہے۔ 2015کی جو عورت ہے اس نے آزادی بہت سال گھٹن میں رہنے کے بعد مرحلہ وار لی ہے اور اسے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی گئی کچھ اس نے خود جدو جہد کی اور بڑا حصہ حالات کا بھی رہا۔ جب دنیا کو معاشی بحران سے نکلنے کیلئے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی بھی عملی و معاشی میدان میں ضرورت پڑی، گھر کے کام سے نکل کر معاشی ترقی میں شامل ہونے کی دیر تھی کہ ایک ایک حق،ووٹ کا، جائیداد کا اور اپنے آپ کا،سب منوانے آگئے۔ دنیا میں ہر غلامی کی زنجیر ’’معاشی انحصار‘‘ ہے۔ آپ کسی کو معاشی طور پر آزاد کر دو، اسکے اندر اعتماد پیدا ہوجائیگا اپنے لئے بلکہ دوسروں کیلئے بھی فیصلے کرنے کا۔ یہ فیصلے ایک گھر کے اندر رہ کر خود مختاری اور اعتماد سے بھی ہوسکتے ہیں اور گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے اور ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے بھی ہو سکتے ہیں۔ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دینا ایک اور بات ہے جسکی تائید ہر باشعور آدمی کریگا۔ لیکن عورت کو مرد کے برابر سمجھنا یہ وہ پوائنٹ ہے جہاں پر ماڈرن عورت اور معاشروں کو رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ایک سیدھی سی بات ہے جب عورت کو جسمانی طور پر مرد کی طرح نہیں بنایا گیا۔ یعنی وہ اپنی مختلف جسمانی ساخت اور جسمانی مسائل کی وجہ سے عورت ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ جسم کا تعلق دماغ اور روح سے ہوتا ہے اس لئے مرد کو عورت کا سہارا کہا گیا ہے۔ یہ سہارا بروقت تھام لے تو عورت ماں، بیٹی،بہن اور بیوی کے روپ میں محبت اور شفقت نچھاور کرتی ہے۔ تعلیم کو عورت کا زیور بنا دیا جائے تو وہ اس سے آپکی نسلیں سدھار سکتی ہے۔ اسکے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ گھر رہ کر بچوں کی تربیت کرنا چاہتی ہے یا ملازمت؟ اور کسی بھی دوسرے انسان کی طرح عورت کے نزدیک بھی مختلف کاموں کی مختلف اہمیت ہوسکتی ہے ۔ ایک عورت کا فیصلہ ملازمت کے حق میں بھی ہوسکتا ہے اور ایک عورت کا گھر میں رہ کر گھر کے معاملات کو اپنے طریقے اور فہم کے مطابق چلانے کا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ آزادی ہے۔ یہ عورت کے حقوق ہیں۔ ایک عورت کو جب یہ لگتا ہے کہ اسکے بد قماش اور عیاش شوہر کی وجہ سے اسکے بچوں پر غلط اثر پڑ رہا ہے تو عورت کو اس سے با ز پرس کرنے کا اسی طرح اختیار ہے جیسے باپ،بھائی یا شوہر بیٹی، بہن یا بیوی سے سوال کرنے کا حق رکھتا ہے۔ بدکرداری یا آزادی کے اصول اپنے لئے مختلف اور عورتوں کیلئے مختلف۔ یہ نہیں ہونا چاہئے۔ ان بچاریوں کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ انکے نام پر اور ان پر ہونیوالے ظلم لوگوں کیلئے کمائی کا کیسا کیسا طریقہ ہیں۔ کینیڈا میں ہونیوالے ایک ریڈیو پروگرام میں نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سائوتھ ایشاء کی عورت یہاں آکر اپنے شوہر کیخلاف 911 کرنے سے پہلے تھوڑا سوچ لے تو بہت سے گھر بچ جائینگے۔ ایک سکھ بھائی نے کال کر کے کہا شکر ہے کسی نے آدمی کے حقوق کی بات بھی کی‘ ورنہ ہم روز مار کھاتے ہیں مجال ہے پولیس بھی سن لے ہماری بات۔ ان غیر متوازن رویوں نے گھروں کے توازن بھی خراب کر دیئے ہیں۔ جب آپ ایک دوسرے کا اعتماد نہیں توڑتے تو عزت برقرار رہتی ہے۔ مل کر فیصلے کرنے سے پڑھی لکھی عورتوں کو گھر رہ کر اپنے کیرئیر تباہ ہونے کے دکھ بھی نہیں رہتے۔ وہ اپنے آپ کو زندگی کی گاڑی میں شریک سمجھتی ہیں۔ میں میں کا شور اور آزادی کا شور اپنی جگہ۔ مگر ہر گھر کی اپنی ایک منفرد کہانی ہے۔ اس کا کسی دوسرے کے ساتھ موازنہ نہیں ہے۔ عورت اور مرد کا باہمی اعتماد اور عزت گھر کو جوڑتا ہے اور یہی دونوں کی آزادی ہے۔