علم و ادب کی ترویج کے نام پر لوٹ مار

کالم نگار  |  آغا امیر حسین
علم و ادب کی ترویج کے نام پر لوٹ مار

پاکستان میں علم و ادب کی ترویج و اشاعت کیلئے مرکزی اور صوبائی سطح پر بڑے بڑے ادارے کام کر رہے ہیں۔ مرکز میں اکیڈمی ادبیات پاکستان، نیشنل بک فائونڈیشن، مقتدرہ قومی زبان اور دیگر چند ادارے سال ہا سال سے قائم ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں مجلس ترقی ادب، بزمِ اقبال، اقبال اکیڈمی، ادارہ ثقافت اسلامیہ اور دیگر چند ادارے ۔ اسی طرح سندھ، خیبرپختون خواہ اور بلوچستان میں بھی ترویج علم و ادب کے نام پر سرکاری خزانے سے گرانٹ کی صورت میں کروڑوں روپیہ خرچ کر رہے ہیں اگر مجموعی طور پر تمام اداروں کے فنڈز کو جمع کیا جائے تو وہ کروڑوں سے تجاوز کر جاتاہے۔ قیام پاکستان کے وقت اردو زبان میں چھپنے والی کتابوں کی تعداد ایک ہزار سے تین ہزار تک تھی لوگ ذوق و شوق سے کتابیں پڑھتے تھے اور ملک میں جگہ جگہ آنہ لائبریریاں قائم تھیں۔پاکستان کے کئی آئین بنے اور ٹوٹے ہر آنیوالی حکومت نے سابقہ حکومت کو نااہل نالائق قرار دیا اور اسکی طے شدہ پالیسیوں کو ختم یا تبدیل کر دیا لیکن کسی ایک حکومت کے دور میں بھی یہ ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ علم و ادب کی ترویج کے نام پر خرچ ہونیوالا یہ کروڑوں روپیہ مقاصد حاصل کر رہا ہے یا نہیں؟ ان اداروں میں ملازموں کی ایک فوج ظفر موجود ہے انکے ڈی جی، چیئرمین وغیرہ جنہیں بے تحاشہ مراعات حاصل ہیں، نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان اداروں کو جو فنڈز حکومت فراہم کرتی ہے وہ ملازمین کی تنخواہوں، الائونس اور پنشن وغیرہ پر صرف ہو جاتے ہیں۔ جس مقصد کیلئے ادارہ قائم کئے گئے تھے۔ اس پر خرچ کرنے لیے انکے پاس پیسہ نہیں بچتا، یہ سرکاری ادارے مختلف حوالوں سے پاکستانی پبلشرز سے نئی چھپنے والی کتابیں مفت حاصل کرنے کیلئے دھونس اور دھمکی کیساتھ خطوط بھجوانے سے گریز نہیں کرتے۔ ملک میں یہ روایت بن چکی ہے کہ لائبریری بنائو بے شک وہ گھر کے اندر ہی ہو اور پبلشرز کو خط لکھ کر مطالبہ کرو کہ وہ اسے کتابیں مفت بھجوائیں۔ حکومتِ پنجاب نے پرویز الٰہی کے دور میں ایک اسکیم بنائی کہ نویں اور دسویں جماعتوں کے بچوں کیلئے بڑی تعداد میں کلام پاک تیار کروائے جائیں اور انہیں طلبہ میں مفت تقسیم کیا جائے۔ اس کیلئے ایک ادارہ محکمہ اوقاف پنجاب میں قائم کیا گیا تین کروڑ روپے کے فنڈز ابتدائی طور پر مختص کئے گئے اس ادارے کے چیئرمین جن کا تعلق ملتان سے تھا، کی زیر صدارت کلام پاک چھاپنے والے اداروں کے ساتھ کئی میٹنگز ہوئیں اور نمونے کے کلام پاک بھی تیار کروائے گئے اس سے پہلے کہ یہ منصوبہ حتمی شکل اختیار کرتا حکومت تبدیل ہوگئی، نئے حکمرانوں نے کلام پاک بچوں تک پہنچانے کی پوری کی پوری اسکیم ہی بدل کر رکھ دی اب اس ادارے کا کام کلام پاک کے بوسیدہ اوراق کو جمع کرکے پاک صاف محفوظ طریقہ سے ٹھکانے لگانا تھا بوسیدہ اوراق کی تدفین سے لیکر ری سائیکلنگ کے عمل پر بڑی بڑی بحثیں ہوئیں کسی نے کہا کہ کلام پاک کی مقدس سیاہی کا زمین پر گرنا کلام پاک کی بے حرمتی کے ذیل میں آتا ہے، کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا اور اب اس ادارے کی شکل و صورت بدل چکی ہے۔ اپر مال پر ایک بڑی بلڈنگ بنا دی گئی ہے جہاں دور حاضر کے سقراط اور بقراط بوسیدہ اوراق کے بارے میں غور و فکر کرتے اور تنخواہوں اور دیگر مراعات کی صورت میں لمبی لمبی رقمیں وصول کرتے پائے جاتے ہیں۔ علم و ادب کی ترویج ہو یا کلام پاک کا بچوں تک پہنچانے کا اہتمام تمام کا تمام عمل صفر سے شروع ہو کر صفر پر ختم ہو جاتا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج کے زمانے کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھ کر ان اداروں کیلئے ایک نیا لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا اس دائرہ کار کی عمر پانچ سال سے زیادہ نہ ہوتی، پانچ سال بعد اس پر نظرثانی ہوتی رہتی۔ اگر منظم طریقے سے لائبریریوں کے فنڈز کو آرگنائز کر لیا جائے اور فنڈز کو انفرادی طور پر تقسیم کرنے کی بجائے، اجتماعی طور پر خرچ کئے جائیں تو آج بھی ہمارے ملک میں دس ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک علمی ادبی کتب باآسانی شائع ہوسکتی ہے۔ اس طرح مصنفین کو معقول معاوضہ بھی مل سکتا ہے اور کتاب کا معیار بھی بہتر ہوسکتا ہے۔ سرکاری امداد سے چلنے والے تمام اداروں کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے یہ بڑے بڑے سفید ہاتھی علم و ادب کی ترویج و اشاعت کے نام پر کلنک کا ٹیکہ ہیں جو رقم ان اداروں پر ہر سال حکومت خرچ کرتی ہے اس سے کم رقم میں وقت اور زمانے کی ضرورتوں کے تحت کتابوں کی نشرو اشاعت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔حکومت کی پالیسیوں میں تضاد ہے ایک طرف تو پرائیویٹائزیشن کا شور ہے دوسری طرف جو سرکاری ادارے مقاصد حاصل نہ کرسکیں اور کروڑوں روپے ضائع کر رہے ہیں انکے بارے میں سوچنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ان اداروں میں نامور ادیبوں اور سابق بیوروکریٹس کو ملازمتیں دے کر نوازا جاتا ہے اور انکے منہ بند کئے جاتے اور سوچ اور فکر کو پابند کیا جاتا ہے! علمی ادبی کتب کی نشرو اشاعت کا کام کرنیوالے پرائیویٹ ادارے آجکل شدید بحران سے دوچار ہیں۔ یہی حال ٹیکس بک بورڈوں کی درسی کتابوں کا بھی ہے۔ معیار کیمطابق نہیں ہوتیں، اغلاط سے بھرپور ہوتی ہیں اور قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ پرائیویٹ ادارے جب درسی کتابیں شائع کیا کرتے تھے تو حکومت کے ماہرین سبجیکٹ کیمطابق کتابوں کی جانچ پرکھ کا کام کیا کرتے تھے اور جو کتاب سب سے اچھی سمجھی، پائی جاتی تھی اس کی اشاعت کا کنٹریکٹ اس پبلشرز کو دے دیا جاتا تھا جس کی طرف سے وہ کتاب پیش کی گئی ہوتی تھی وہ تمام پاکستانی ادارے نہ صرف یہ کہ حکومت سے کوئی گرانٹ نہیں لیتے ہیں بلکہ حکومت کو انکم ٹیکس وغیرہ بھی ادا کرتے ہیں، اپنے اور اپنیسٹاف کی تمام ضرورتیں خود پوری کرتے ہیں۔ حکومت پر کسی بھی قسم کا بوجھ اس کی طرف سے نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک اور قوم کے مفاد میں فیصلے کئے جائیں۔ جتنی جلدی ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائینگے ترقی کے راستے ہم پر کھلتے چلے جائینگے۔!