شمشیروسناں اول طائوس ورباب آخر

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
شمشیروسناں اول طائوس ورباب آخر

وطن عزیز کی محب وطن قوتیں اپنے اپنے دائرے میں نہایت مستعدی سے سرگرم عمل ہیں۔ انکی خاموش سعی و کوشش کے نتائج سامنے آتے ہیں تو اہل پاکستان کی تسلی کا باعث ہوتے ہیں اور وہ اپنے بحرانی حالات کو اچھے مستقبل میں بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ مایوسی کے حالات میں امید افزائی کی نوید انکے حوصلوں کو بلند کرتی ہے۔ ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ ملک کے اندرونی حالات درست ہو جائیں اور بیرونی محاذوں پر زندگی پرسکون اور محفوظ نظر آئے۔ بدقسمتی سے گزشتہ دنوں ہمارے پڑوسی ملک نے سرحدوں پر وقفے وقفے سے بلا جواز جارحیت کا ارتکاب کیا۔ بے گناہ نہتے پرسکون اور پرامن شہریوں پر گولہ باری کی اور فلیگ میٹنگ کے بہانے سے بھی پرامن حالات کو مخدوش کیا۔ دوسری جانب بین الاقوامی اسلحہ فروشی کے اجارہ داروں نے بھارت کو جدید ترین اسلحہ فراہم کرنے کا اعلان کیا اور ایشیائی خطے میں اسلحے کی بھرمار کرنے کا ایک نیا انداز شروع کیا، بیرونی دنیا میں کچھ قوتیں پاکستان کی بقا اور سلامتی کو ایک شوقین کھلاڑی کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ وہ اس شوق بے جا کو تسکین دینے کیلئے ہماری سرحدوں پر اور ہمارے شہروں میں اسلحہ آزمائی اور نیم حربی مشقوں کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔ افواج پاکستان کے محاذ بڑھتے جا رہے ہیں، عساکر پاکستان ملک کی داخلی اور خارجی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت اپنی جانوں کو ہتھیلی پر لئے مصروف عمل ہیں۔ دشمنان وطن تو یوں سمجھتے ہیں کہ خطہ پاکستان کو اپنی مٹھی میں لے کر داستان فراموش بنا دیں گے اور وہ وقت کے ہر لمحے کو اپنی مکروہ خواہشات کی تکمیل کا لمحہ جانتے ہیں لیکن فطرت کا ایک نیا نظام ہے جو بلند ارادہ بہادروں کی نیتوں اور کوششوں کا مددگار ہوتا ہے۔ افواج پاکستان اپنے پرعزم حوصلوں کے ساتھ وطن کے دفاع کیلئے ہر میدان میں بیدار رہتی ہیں۔
کتنی مبارک خبر ہے کہ پاکستانی افواج نے ایک بیلسٹک میزائل کو کامیاب تجربے سے گزار لیا ہے جس کی رسائی برصغیر کے آخری کونوں تک ہے۔میزائل دو ہزار سات سو پچاس کلو میٹر تک اپنی کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ یہ ضرورت دفاع ہے، یہ ضرورت بقا ہے اور یہ ضرورت بلندی عزت ہے اور یہ ضرورت اہل وطن ہے۔ یہ ضرورت زندگی ملت پاکستان ہے۔ دشمن کی میلی آنکھوں کو نیچا دکھانے کا اعلان ہے۔ یہ اسلحہ کی دوڑ نہیں ہے، یہ تو غریب اہل پاکستان عوام کی حفاظت کا اعلان ہے۔ جنرل راحیل شریف اور دیگر سربراہان افواج نہایت لائق مبارکباد ہیں کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ ان فرائض کو نہایت دلجمعی، تندہی اور پوری صلاحیت سے ادا کرتے ہیں۔ انکی فکر کار صرف پاکستان کیلئے ہے۔ انکا ہر عمل دفاع پاکستان کیلئے ہے لیکن عجیب انداز تبصرہ ہے ان لوگوں کا جو اس مرحلہ اعزاز پر منفی سوچوں اور فرسودہ جملوں کا سہارا لیکر اہل وطن کے پاکیزہ جذبات کی توہین کرتے ہیں اور افسوس ان ذرائع ابلاغ پر جو اپنی بدنیتی کا مظاہرہ کئے بغیر نہیں رہتے وہ ایسے مایوس ذہن اور ناکارہ لوگوں کو بطورمبصر بلاتے ہیں اور اپنی زبان انکی زبان پر لپٹوا کر بلواتے ہیں کہ رہے نام خدا کا۔ وطن عزیز کی اس عسکری سربلندی پر ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ ہمیں روایتی اور غیر روایتی اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ نجانے روایتی اور غیر روایتی اصطلاح کی سوچ کس نے اس مبصر کو پڑھا ڈالی، ورنہ مبصر صاحب تو تمام عمر ہی اسلحے سے کھیلنے میں گزار چکے ہیں۔ کوئی انکی عقل کے دروازے پر دستک دے کر پوچھے کہ آپ روایتی اسلحہ سے کام لیتے تھے یا غیر روایتی اسلحے سے۔ وقت کی رفتار میں روایت اور غیر روایت تمام ہی لپٹ کر رہ جاتی ہیں۔ افواج پاکستان تم لائق تحسین ہو کہ تم نے فن حرب سیکھا اور روایت کو بلند کیا روایات بسالت کو نئے موڑ دیئے، روایات شجاعت خود تم پر فخر کرتی ہیں۔ تم روایات کو جنم دیتے ہو۔ تم رکتے نہیں ہو، تم بڑھتے ہو۔ تم گنواتے نہیں ہو سنوارتے ہو۔ تم بھولتے نہیں ہو، ماضی اور حال کو غالب مستقبل میں بدلنے کیلئے تمہارا ہر سانس وقف ہے۔ تمہیں امام المجاہدین سید الاشجعین حضرت محمد ؐ کا یہ قول خوب یاد ہے کہ ’’جس نے تلوار، تیروتفنگ اور نیزہ بازی کا فن سیکھ کر بھلا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔ تمہارے ارادوں میں وہ تمام بلندیاں محفوظ ہیں جن بلندیوں سے جوہر شجاعت کو تقویت ملتی ہے۔ یہ بلندیاں مدینہ طیبہ کی ان وادیوں میں بسیرا کرتی ہیں جہاں پر رات کے عقابوں کو دن میں شیران نر کا شیوہ طراری سکھایا جاتا ہے۔ حکم تھا کہ نماز عصر کے بعد سے فوراً حربی مشاقی کا اہتمام کیا جائے۔ اسلحہ کے کھیل کو مجاہدین کیلئے بازیچہ اطفال بنا دیا گیا تھا۔ میدان بدر سے لیکر خندق وخیبر تک جدید ترین اور بے مثال انداز ہائے حرب اپنائے گئے۔ فتح خیبر میں خود رسول ؐ نے انداز حرب اور اسلحہ کی تیاری میں پوری طرح سے نگرانی فرمائی۔ منجنیق اور طرز قدیم کی توپوں کا ایک نیا انداز متعارف کروایا۔ نو بہ نو تلواریں رسالت پناہ ؐ کے ذاتی اسلحہ خانے میں موجود تھیں۔ طرز جدید کے گھوڑے اور بار برداری کیلئے مشاق اونٹوں کا قافلہ بطور خاص تربیت حربی میں رکھا جاتا تھا کیونکہ آسمانی ہدایت تھی اور قرآن کی لازوال تعلیمات میں آج بھی ہدایات ہی ہیں کہ ’’تم اپنی آخری حد تک تیاری میں مصروف رہو اور خدا کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر ہیبت طاری کئے رکھو‘‘۔ راگ رنگ کے ڈھلے ہوئے ماحول میں بیٹھ کر بقراطیت بگھارنا اور ہے اور کفن بردوش ہو کر دشمنان ملت سے پنجہ آزمائی کرنا مردان جانباز ہی کا کام ہوتا ہے۔ جانبازان ملت ہی جرم ضعیفی کی سزا سے بچاتے ہیں۔ … ؎
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات