سینٹ کے انتخابات

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
سینٹ کے انتخابات

ایوانِ بالا (سینٹ) کی 52 نشستوں کیلئے انتخابات گذشتہ دنوں منعقد ہوئے۔ ان انتخابات کا بہت چرچا تھا اور بہت سے خدشات کا بھی اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ شاید ان انتخابات سے پہلے ہی ملک میں تبدیلی آجائے اور حکومت کی بساط لپیٹ دی جائے۔ ان تمام خدشات اور غیر یقینی کے باوجود ان انتخابات کا احسن طریقے سے منعقد ہونا جمہوری عمل کی بہت بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکی اور بہت سی وجوہات کی بنا پر اس میں تعطل آتا رہا جسکی وجہ سے ان خدشات کا موجود رہنا بھی ایک قدرتی امر ہے۔ یہ انتخابات کئی وجوہات کی بنا پر بہت اہمیت کے حامل تھے۔ ایک تو ایوانِ بالا کی پارلیمانی جمہوریت میں اپنی ایک اہمیت ہے لہذا اس اہم ایوان کا مکمل رہنا بھی نہ صرف ایک آئینی تقاضا ہے ۔ سینٹ میں چونکہ وفاق کی تمام اکائیوں کو برابر کی نمائندگی حاصل ہے اس لیے بھی ان انتخابات میں سیاسی پارٹیوں اور عوام کی دلچسپی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت کو قومی اسمبلی میں تو واضح اکثریت حاصل ہے مگر چونکہ یہ اکثریت بُنیادی طور پر پنجاب سے تعلق رکھتی ہے اس لیے سینٹ کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے جہاں ابھی تک حکومت اقلیت میں تھی۔ اس بُنیادپر قانون سازی کے مراحل بھی حکومت کیلئے اتنے آسان نہ تھے۔ ان انتخابات کے بعد وفاقی حکومت کو اُمید تھی کہ اب ایوانِ بالا میں بھی عددی طور پر وہ کسی حد تک اس پوزیشن میں آجائیگی کہ قانون سازی میں اُسے آسانی ہوسکے۔ گذشتہ سال کے وسط میں ملک جس احتجاجی سیاست سے دوچار ہوا اُسکے دوران ان خدشات کا بھی اظہار کافی شدو مد سے کیا جاتا رہا کہ سینٹ کے انتخابات سے پہلے ہی حکومت کی چھُٹی ہو جائیگی۔ ویسے تو چونکہ یہ انتخابات قومی و صوبائی اسمبلیوں میں جماعتوں کی عددی اکثریت کے مطابق ہی ہوتے ہیں لہذا نتائج کا بھی کسی حد تک اندازہ ہوتا ہے مگر چونکہ ہمارے ہاں وفاداریاں تبدیل کرنا ایک عام امر ہے اس وجہ سے نتائج توقعات کے برعکس بھی آتے ہیں۔ اس سلسلے میں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ نے ماضی کی اسمبلیوں کی تاریخ کافی داغدار ہے۔ اس مرتبہ بھی میڈیا میں اس سلسلے میں بہت چرچا رہا کہ بولیاں لگ رہی ہیں۔ عوام اور سیاسی جماعتوں میں اس بارے میں بہت تشویش پائی جاتی تھی اور ظاہر ہے اس بات کے چرچے سے ملک اور جمہوریت کی بہت بدنامی بھی ہوئی۔ نئی سیاسی سوچ کی علمبردار جماعت تحریکِ انصاف جنکی خیبر پختونخواہ میں حکومت بھی ہے اس سلسلے میں سب سے زیادہ پریشان تھی کہ اُسکے اراکین بھی پیسے لے کربِک نہ جائیں۔ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے تو اس سلسلے میں اسمبلی توڑنے تک کی دھمکی بھی دے دی۔ ان دونوں صوبوں میں بعض آزاد اُمیدوار بھی انتخابات میں حصہ لے رہے تھے جن کی وجہ سے خدشات اور بڑھے کیونکہ ماضی میں بعض آزاد اُمیدوار منتخب بھی ہوتے رہے ہیں جو کہ کسی لالچ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ان حالات میں یہ انتخابات منعقد ہوئے اور خدشات سے بہت کم ووٹ بِکے۔ نتائج کم و بیش توقعات کے مطابق ہی رہے اور اراکین اسمبلی نے زیادہ تر اپنی سیاسی وابستگیوں کیمطابق ہی ووٹ دئیے۔ بلوچستان میں ایک آزاد اُمیدوار کی کامیابی اور خیبر پختونخواہ میں بعض اراکین کا پارٹی لائن کے بر خلاف ووٹ دینا باعثِ تشویش ضرور ہے مگر ماضی کے مقابلے میں یہ تعداد بہت کم ہے۔ پارٹی کیخلاف ووٹ دینے میں پیسے کا لالچ تو ہو ہی سکتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ سب نے پیسے لے کر ایسا کیا ہو۔ بعض اراکین اپنی جماعت کے مجموعی رویے اور قیادت سے ناراضی کا اظہار بھی اس طریقے سے کرتے ہیں لہذا سیاسی جماعتوں کو بھی اس سلسلے میں مثبت سوچ کا اظہار کرتے ہوئے اپنی اندرونی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ اسے انا کا مسئلہ بنا کر صرف اس طرح کے اراکین کیخلاف تادیبی کارروائی تک ہی محدود رہیں۔ بد قسمتی سے ایسے اراکینِ اسمبلی کی شکایات بھی ذاتی نوعیت کی ہوتی ہیں نہ کہ اصولوںپر مبنی یا مجموعی پالیسیز کیخلاف۔ سیاسی جماعتوں کو ٹکٹ دیتے ہوئے بھی اہلیت کو ضرور مدِ نظر رکھنا چاہیے کیونکہ سینٹ کے انتخابات میں ایسے افراد کو پارلیمنٹ کا رُکن بنایا جا سکتا ہے جو کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اعلیٰQualification   کے حامل ہوں اور بنیادی مقصد ہونا بھی یہی چاہیے۔ قومی اسمبلی کا انتخاب براہِ راست ہوتا ہے جو کہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں مگر دیکھا یہی گیا ہے کہ یہاں بھی ہماری سیاسی جماعتیں صرف دعوئوں کی حد تک ہی رہتی ہیں اور کئی ایسے افراد کو ٹکٹ جاری کیے جاتے ہیں جو کہ اسکے اہل ہی نہیں ہوتے نتیجتاً سیاسی جماعتوں کے اندر بغاوت کی سی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ کسی حد تک حکمران جماعت کو بلوچستان میں سامنا کرنا پڑا اور ایک آزاد اُمیدوار کامیاب ہوا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم مرکزی رہنما خلافِ توقع شکست سے دوچار ہوئے۔ فاٹا کے انتخابات بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر ابھی تک نہیں ہو سکے جس کی بنیاد حکومت کی طرف سے آخری لمحے پر جاری کیا جانیوالا صدارتی حُکم نامہ تھا۔ حُکم نامے کے مندرجات اور ضرورت سے تو اتفاق کیا جا سکتا ہے کیونکہ موجودہ طریقہ انتخاب بھی کسی خاص گروہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے 2003 میں نافذ کیا گیا تھا مگر اس کی Timing نے بلاوجہ بہت سے خدشات کو جنم دیا لہذا اسے بہت پہلے نافذ کر دینا چاہیے تھا۔ بہرحال اب چونکہ یہ عمل بخیرو خوبی مکمل ہو چُکا ہے لہذا اسے جمہوری عمل کی مضبوطی کیطرف ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ عمل اسی طرح چلتا رہا تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہو گی کیونکہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود جمہوریت ہی میں ہم سب کی بقا ہے۔میڈیا،سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتوں اور پوری قوم کو اس مثبت رویے اور سوچ کا خلوصِ دل سے خیر مقدم کرنا چاہیے۔ تحریکِ انصاف نے بھی ایک صوبے سے ان انتخابات میں حصہ لے کر جمہوری عمل کو سپورٹ کیا ہے اب تحریکِ انصاف کو چاہیے کہ ایوانِ بالا میں اپنا متحرک کردار ادا کرے اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں بھی حصہ لے کیونکہ بائیکاٹ سے نہ صرف آپ اپنا جمہوری حق استعمال کرنے سے محروم رہتے ہیں بلکہ حزبِ اختلاف کا اہم کردار بھی ختم ہو جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کا ادارہ جمہوریت میں سب سے مقدم اور اعلیٰ ہوتا ہے اسکے احترام کا اس سے اچھا طریقہ کوئی نہیں ہے کہ سیاسی جماعتیں اسکی مضبوطی کیلئے خلوص نیت سے کام کریں اور اپنے عمل سے اسے عوامی اُمنگوں کے مطابق مضبوط بنائیں۔