زرداری اور مولاناسینٹ کے فاتح

کالم نگار  |  امتیاز احمد تارڑ
زرداری اور مولاناسینٹ کے فاتح

سینٹ الیکشن کا رزلٹ تمام سیاسی جماعتوں کی توقعات کیمطابق آیا ہے لیکن مسلم لیگ ن کی بلوچستان میں پتنگ کٹ گئی ہے۔ جس کا (ن) لیگ کو بہت دکھ ہے سابق صدر آصف زرداری نے اپنی شطرنجی سیاست سے تمام سیاستدانوں کومات دی اور میاں نواز شریف سمیت سب کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ میاں نواز شریف نے انتہائی دھیمی، عاجزانہ اور سلجھی آواز میں کہا کہ ہم نے اپوزیشن کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین کیلئے بھی ہم اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرینگے۔ اگر میاں صاحب کی بات کو حقیقت پر مبنی تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی بعض ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ شہباز شریف نے 17 سال بعد الطاف حسین کو فون کس مقصد کیلئے کیا تھا اور میاں صاحب نے مسلم لیگ ن کی مذاکراتی کمیٹی کیوں تشکیل دی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ آصف زرداری نے اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے۔ ن لیگ کے پاس اپنے امیدوار کی حمایت کے سوا کوئی راستہ چھوڑا ہی نہیں تھا۔ سینٹ الیکشن میں زرداری صاحب نے میاں صاحب کو سیاسی شطرنج کا بے جان مہرہ بنا کر رکھ دیا ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد لوگوں نے پی پی کو وفاق کی زنجیر کی بجائے سندھ کے کھونٹے سے بندھی ایک رسی سے تشبیہہ دی تھی لیکن پی پی سامریوں کی رسی کے بجائے حضرت موسیٰؑ کا عصا ثابت ہوئی جس نے موقع ملتے ہی سب رسیوں کو نگل لیا۔ پونے دو سال اپنوں اور مخالفین کے طعنے سننے کے بعد زرداری صاحب نے اپنی پارٹی کے تن مردہ میں عقابی روح پھونکی ہے۔ پہلے انہوں نے ایم کیو ایم کو سندھ میں حصہ دینے کی بات کرتے ہوئے سینٹ میں بلامقابلہ امیدوار منتخب کروایا پھر خیبر پی کے میں اترے جے یو آئی اور اے این پی کو گلے لگایا۔ ق لیگ ویسے ہی انکی جیب کی گھڑی ہے۔ جب مرضی اسے اتارا کر جیب میں ڈالا جب دل چاہا استعمال کر لی۔ اسکے بعد وہ باز کی طرح بلوچستان کے آزاد امیدوار یوسف بادینی پر جھپٹے اور اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اسے اپنے ساتھ ملا لیا۔ تقریر، تشہیر، تصویر اور مفاہمتی دسترخوان بچھانے والے زرداری کے بارے کہا گیا کہ صدارت سے علیحدہ ہونے کے بعد انہیں فضل الٰہی کی طرح خاموشی سے دن گزارنے پڑیں گے لیکن لوگوں کی قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیںاور زرداری صاحب چومکھی سیاست کرتے میدان میں اتر آئے ہیں۔ 2013ء کے الیکشن میں پی پی کے خس و خاشاک ہو جانے کے باوجود انہوں نے سینٹ کی سیاست میں تمام پرانے سیاستدانوں کو انبوہ خس و خاشاک بنایا۔ آصف زرداری کی مسلسل فتوحات اور نواز شریف کی پے در پے شکستوں سے حکمران وقت کو سبق سیکھنا چاہئے میاں صاحب نے مشرف کی کچھ کنیزان حرم کو اپنے اقتدار کی زینت بنایا جس پر انگلیاں اٹھیں۔ اگر انہوں نے اصول کی سیاست کرنی تھی تو سب کو طلاق مغلظہ دیئے رکھتے لیکن انہوں نے بعض کیساتھ قبل از وقت رجوع کر لیا اور بعض کو لمبی عدت گزارنے کا کہا۔ جو ان کیلئے کافی مشکلات کا سبب بن رہا ہے قبل از وقت میاں صاحب اگر گجرات لیگ کی عدت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں بھی کنیزان حرم میں شامل کر لیتے تو آج ان کیلئے قدرے سکون ہوتا۔ تمام جمہوریت پسند لوگ اس پر متفق ہیں کہ گجرات لیگ کے سیاسی نامہ اعمال میں کوئی ایک بھی کارنامہ ایسا نہیں ہے جسے وہ اپنے سینے کا تمغہ بنا سکیں۔ سوائے پرویز الٰہی کے چند صوبائی عوامی فلاح کے کاموں کے۔ آمر کی سرپرستی کے بغیر ان کا سیاسی وجود ایک ’’پتاسے‘‘ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا لیکن نہ جانے میاں صاحب نے ان سے اس قدر دوری کیوں اختیار کر لی ہے۔ ان الیکشنوں میں انکے اپنے اتحادی مولانا فضل الرحمن بھی دور دور دکھائی دیئے ہیں۔ مولانا نے اپنے پتے خوب کھیلے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے ساتھ رابطہ رکھا اور اپنی مسکراہٹ میں چھپی خواہش کا برملا اظہار بھی کیا۔ ن لیگ نے 21 ویں آئینی ترمیم میں انکے تحفظات دور نہیں کئے جسکے باعث انکے مطالبات میں زیادہ وزن تھا۔ جو پورا کرنا میاں صاحب کے بس کی بات نہیں تھی۔ الطاف بھائی کی طرح مولانا فضل الرحمن کا بھی شکوہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ انکے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے ورنہ وہ خیبر پی کے اور بلوچستان سے نکل کر جنوبی پنجاب سے بھی سیٹیں جیت سکتے ہیں۔ 1988ء میں مولانا جب پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو ان میں جمہوریت کی انقلابی روح تھی اور اسی بنا پر انہوں نے نوابزادہ نصراللہ خان کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جبکہ اسٹیبلشمنٹ غلام اسحاق خاں کو اپنا ’’باس‘‘ دیکھنا چاہتی تھی۔ چنانچہ آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے مولانا فضل الرحمن کو ملاقات کیلئے بلایا۔ آرمی آفس میں جنرل بیگ اور جنرل حمید گل بیٹھے تھے انہوں نے بغیر کسی حیل و حجت کے کہا کہ ہم نے غلام اسحاق کو صدر بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے لہذا آپ اپنا امیدوار بٹھا لیں۔ انہوںنے مولانا کو سوچنے کا موقع دیا۔ لیکن عقابی روح کے مالک مولانا نے ہمت نہ ہاری اپنی کوششوں میں لگے رہے۔ بے نظیر کو قائل کرنے کی کوشش کی اور بالآخر ناکام ہوئے۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ سیاست کی الف سے ی جاننے کے باوجود مولانا اسٹیبلشمنٹ کو اپنا کندھا پیش کیوں کرتے؟ کبھی موقع ملا تو مولانا سے اس سوال کا جواب ضرور مانگیں گے لیکن مجھے لگتا یوں ہی ہے کہ وہ اپنا بھاری بھرکم ہاتھ میرے کندھے پر مارتے ہوئے مسکرا کر اسے بھی ٹال جائینگے۔ مولانا نے سینٹ کی5 سیٹوں کے باوجود اپنی جماعت کا ڈپٹی چیرمین سینٹ بنوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں یہ انکی بڑی سیاسی کامیابی ہے۔ اس وقت مولانا فضل الرحمن کے خاندان کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ وہ دو صوبوں کی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود صوبے سے لیکر سینٹ تک موجود ہیں۔ خود قومی اسمبلی کے ممبر اور چیئرمین کشمیر کمیٹی، دوسرا بھائی لطف الرحمن قائد حزب اختلاف خیبر پی کے تیسرا بھائی عطاء الرحمن نوزائدہ سینٹرجبکہ چوتھا بھائی بیورو کریٹ ڈی سی او خوشاب ہے مولانا کو اپنے کسی بیٹے یا بھتیجے کو اسٹیبلشمنٹ میں اڑا دینا چاہئے تاکہ ہر طرف سے راستہ صاف ہو جائے۔