مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

امریکہ میں چند سال بل ایک عالمی کانفرنس میں ایک یہودی دانشور جو صدر امریکہ مسٹر ریگن کا مشیر رہ چکا تھا نے میری تقریر پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کی بنیاد توحید اور عدل پر ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور کشمیر میں بھارتی مظام پر تنقید کرتے ہوئے دنیا میں امن کو بحال کرنے کے لئے نظام عدل پر زور دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ جہاں انصاف نہیں ہو گا وہاں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ آج ساری دنیا دہشت گردوں اور مذہبی و نسلی انتہا پسندوں کی بربریت کا شکار ہے۔ چینی فلسفی کنفیوش نے دنیا کی بقا اور امن عالم و تکریم انسانیت کے برداشت اور رواداری کا درس دیا تھا حضرت عیسیٰؑ نے متی کی انجیل میں دشمنوں سے بھی محبت کا درس دیا۔ حضرت عیسیٰؑ نے تو یہاں تک فرمایا کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو تم دوسرا گال بھی پیش کر دو۔ اس سے زیادہ امن پسندی اور انسانیت دوستی کا اور کیا درس ہو سکتا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰؑ کے اس فرمان کو یکسر بھلا دیا۔ یہودیوں کو تہ تیخ کیا۔ صلیبی جنگوں میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ سپین میں انسانیت کی دھجیاں اڑا دیں۔ مہاتما بدھ ایک شہزادہ تھا۔ ایک جنازہ دیکھ کر زندگی کے انجام اور دنیا کی بے ثباتی سے بد دل ہوا۔ محل چھوڑا۔ عیش و عشرت کی زندگی تیاج دی۔ جنگل میں بسیرا کیا۔ گیان ہوا۔ امن و انسانیت اور نیکی کا درس دیا۔ فرمایا۔ ’’تمام مخلوق کو اس طرح عزیز رکھو جیسے ایک ماں اپنی اولاد کو عزیز رکھتی ہے‘‘ لیکن مقام افسوس ہے کہ امن و انسانیت کے مبلغ مہاتما بدھ کے ماننے والوں نے برما میں بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ میانمار میں بدھ مت کے پیروکاروں نے بھکشوں کی ترغیب پر مسلمانوں کو زندہ جلا دیا۔ عورتوں کو خاک و خوں میں ملا دیا۔ بچوں کے سر تن سے جدا کر دئیے۔ پھولوں کو پاؤں تلے مسل دیا۔ چشم فلک نے ایسا ظلم نہ د یکھا ہو گا جو آج برما کے بدھسٹ کر رہے ہیں۔ مسلمانوں نے چودھویں صدی میں یہاں حکومت قائم کی تھی۔ مقتولین کے آباء و اجداد نے اراکان میں حکومت قائم کی۔ 1784ء تک یہ آزاد ریاست تھی۔ بعد میں برمیوں نے اراکان پر قبضہ کر لیا۔ مسلمانوں کو تہ تیغ کیا۔ 2013ء سے ایک بار پھر روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ برمی بھکشوؤں نے بدھا کی تعلیمات امن کا جنازہ نکال دیا ہے۔یہی حال بھارتی ہندوؤں نے بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہے۔ آشتی کے نعرے لگانے والوں نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ بابری مسجد کا انہدام کیا۔ گائے ذبح ہونے پر ہزاروں مسلمانوں کا خون آب ارزاں کی طرح بہا دیا۔ ایک پاکستانی کبوتر اڑان میں سرحد پار چلا گیا۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے اسے پکڑ لیا اور پاکستانی جاسوس قرار دے کر اس کے ایکسرے لئے گئے اور تحقیقاتی ٹیم کے حوالہ کیا گیا۔ بھارتیوں کو خبر نہیں کہ پاکستانی قوم زاغ و زغن پر نہ اعتماد کرتی ہے اور اعتبار…؎
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستانی کبوتر سے خوفزدہ ہو کر اضطرابی کیفیت میں بڑھک ماری ہے۔کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اپنے دعویٰ پراتنا ہی ناز ہے تو بھارتی آئین کی شق نمبر 370 میں کشمیر کی جداگانہ حیثیت کے بارے میں کیا رائے ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آئین کی رو سے کوئی غیر کشمیری جائیداد نہیں خرید سکتا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کے وعدے کہاں گئے جن میں انہوں نے اقرار کیا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ آزادانہ رائے شماری کے مطابق کشمیری کریں گے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں بھی پھینکتے ہو اور اقوام متحدہ میں مستقل سیٹ کے لئے بھی کوشاں ہو۔
بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کا جواب دہشت گردی سے دیا جائے گا۔ یہ عالمی سطح پر اعتراف دہشت گردی ہے۔ اقوام متحدہ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ بلوچستان اور کراچی میں ’’را‘‘ کی دہشت گردی کے ثبوت موجود ہیں‘ آشتی آشتی اور امن کی آشا کا ڈھول پیٹنے والوں کی نفسیات اور سیاست پر پروفیسر کلیم احسان بٹ کے دو شعر منطبق ہوتے ہیں …؎
شکار ناوک و دانہ و دام ہوتے ہیں
چمن میں پھر وہی اہتمام ہوتے ہیں
زباں پہ ہوتی ہیں اکثر حلال کی باتیں
اگرچہ ہاتھ میں لقمے حرام ہوتے ہیں
پاک چین دوستی زندہ باد‘ شکر خدا آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ پر سمجھوتہ ہو گیا۔ پاکستان کا بول بالا اور بھارت کا منہ کالا ہوا۔ اے کاش! اسی طرح ہم ملک کے مفاد میں کالا باغ ڈیم پر بھی اتفاق رائے سے اس کی تعمیر کر سکیں۔ بھارت پاکستان کو ریگستان بنانا چاہتا ہے۔ افسوس صد افسوس اس ناپاک سازش میں غدار قوم شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی وزیر اعظم بنگلہ دیش بھی شامل ہے۔ حسینہ واجد نے چند روز قبل قاتل مسلمانان ہند وزیراعظم نریندر مودی کو فرینڈز آف بنگلہ دیش لبریشن وار ایوارڈ برائے اٹل بہاری واجپائی دیا۔ اس سے قبل پاکستان کو دو لخت کرنے میں اعانت پر یہ ایوارڈ اندرا گاندھی کے نام پر دیا گیا جسے اس کی بہو انڈین نیشنل کانگریس کی چیئرمین سونیا گاندھی نے وصول کیا۔ تاریخ عالم کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اقوام عالم‘رنگ و نسب‘ زبان و قبیلہ‘ مذہب و علاقہ اور تخت و تاج کے لئے برسرپیکار رہی ہے۔ مذہبی رجعت پرستوں اور حکومتی گماشتوں نے انسان کا استحصال کیا‘ درندگی کی انتہا کر دی۔ زندگی شرمندہ ہے‘ انسانیت سوزندہ ہے۔ بقول فیض ؎
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو اگر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے