غریبوں کا بجٹ کب بنے گا؟

کالم نگار  |  فہمیدہ کوثر
غریبوں کا بجٹ کب بنے گا؟

ن لیگ حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ جو کہ حجم کے لحاظ سے 4200 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ ایک مرتبہ بھی غریب عوام کو مہنگائی کا عندیہ دے دیا گیا ہے کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے اُس ملک کی ترجیحات، اقتصادی ترقی‘ تعلیم اور دفاع کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ کبھی کسی بھی حکومت نے بجٹ کو تکمیل مراحل سے گزارتے وقت ان محرکات کو مدنظر نہیں رکھا اور غریب مہنگائی کے منحوس چکر سے نکلتا نظر نہیں آتا۔ بجٹ میں اقتصادی ترقی کی شرح 5.5 فی صد رکھی گئی اور دفاعی لحاظ سے 772 ارب روپے مختص کئے گئے جبکہ پانی کیلئے 31 ارب روپے رکھے گئے اور سڑکوں کی تعمیر کیلئے 185ارب روپے مختص کئے گئے۔ اس وقت ہم سب یہ جانتے ہیں کہ پانی کا مسئلہ آگے چل کر ایک سنگین مسئلہ بننے والا ہے۔ پورا ملک پانی کیلئے تڑپ رہا ہے۔ سوال وہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمیں کب اندازہ ہوگا کہ ہماری اصل ترجیحات کیا ہیں۔خسارہ بجٹ کم کرنے پر زور دیا گیا۔ ہمارا بجٹ عوام دوست ہے یا آئی ایم ایف کے تابع اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بجٹ خسارہ ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ جو معیشت کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ ہماری اولین ترجیح اس میں کمی ہونی چاہیے ۔ آئی ایم ایف کی ترجیحات سے تو لگتا ہے کہ بجٹ خسارہ میں کمی سے مراد غریب کے منہ کا آخری نوالہ بھی چھین لیا جائے جسکے نتیجے میں ہمارے اکثر بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے غیر ترقیاتی اخراجات کی بجائے ترقیاتی اخراجات کم کردیتے ہیں۔ ہماری حکومتوں کیلئے یہ آسان کام ہوجاتا ہے کہ وہ اُن اشیاء پر بالواسطہ ٹیکس لگائیں جو عوام کی روزمرہ کی ضروریات میں شامل ہوں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سال بھر ٹیکس لگتے رہتے ہیں۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب زرعی ترقی اور پانی جیسے سنگین مسائل بجٹ ترجیحات میں شامل نہ ہوں تو نہ صرف معاشی ترقی رُک جاتی ہے بلکہ مسائل بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ محصولات اور حکومتی اخراجات سے قطع نظر اگر معیشت کی اصل توانائی اُسکا پیداواری شعبہ بحران کا شکار ہوجائے تو اقتصادی بحالی کی تمام تر کوششیں بے کار ثابت ہوجاتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ انسانی وسائل کی ترقی، بنیادی ضروریات کی فراہمی اور ریاستی اداروں کی اصلاح کیلئے محصولات کا منصفانہ نظام نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ مگر اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ محصولات اور حکومت کی آمدنی میں تب ہی اضافہ ہوتا ہے جب معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔
محض ٹیکس نیٹ وسیع کرنے سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا جس ملک میں ہر شخص ایک لاکھ کا مقروض ہو اور بیرونی قرضہ انتہا کو چھوتا نظر آئے وہاں متوازن بجٹ میں اُن ترجیحات کو لازمی حیثیت حاصل ہے جس سے تعشیّات کو ختم کیا جاسکے غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پایا جاسکے اور سادہ زندگی کا درس دیا جاسکے لیکن یہاں یہ صورتحال ہے کہ وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اضافہ اس پر طُرہ یہ کہ امیروں کیلئے ٹیکسوں میں چھوٹ اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 25 فیصد چھوٹ دینے کا اعلان اور غریب عوام جو کہ پرانے کپڑوں سے تن ڈھانپتے تھے اُن پر 5 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا۔ اب غریب کیلئے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا ازحد مشکل ہوگیا ہے۔ پرانے جوتوں اور کپڑوں پر ٹیکس واقعی ایک سوالیہ نشان ہے اور عوام کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ دُکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ابھی تک ہوا کا صحیح رُخ پہچاننے سے قاصر ہیں کہ معاشی منصوبہ بندی کی ترجیحات کیا ہوں، پڑوسی ملک کی تخریبانہ کارروائیوں کو مدِنظر رکھ کر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہمیں دفاعی مد میں کیا خرچ کرنا ہوگا، اور عوام کی ترقی، بیروزگاری کے خاتمے کیلئے کیا لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔ بیروزگاری کتنی کم ہوگی؟ کتنے لوگوں کو نوکریوں میں کھپایا جاسکے گا شرح خواندگی کیسے بڑھے گا۔ ہمارا معاشی پلان کس طرح مضبوط ہوگا۔ ان سوالوں کا جواب نہ ہمارے پاس ہے اور نہ کبھی ہمیں مل سکے گا۔ اگر ریاست‘ عوام کو اُن کی بنیادی ضروریات کو ارزاں داموں میسر کرنے سے قاصر ہوجائے تو یہ ایک کمزور سیاسی ڈھانچے کی طرف نشاندہی کرتی ہے۔ غریب پر مزید سیلز ٹیکس کے بڑھنے سے غریب کی محرومیوں اور مایوسیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ملکی معیشت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ جی ایس ٹی سے حاصل ہونیوالا کم ازکم پچاس فیصد ترقیاتی کاموں پر لگایا جائے تو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ سرمایہ کاری بڑھے گی نیز عوام کی قوتِ خرید میں اضافے سے منڈی کو سہارا ملے گا۔ جو اس وقت پیداواری شعبے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ہماری سیاسی ترجیحات میں کمی نہ آئی اور غریب کی جیبوں سے پیسے نکال کر ارباب اقتدار و اختیار کی سکیورٹی پر خرچ کیا جاتا رہا تو غربت کا ازالہ ناممکن ہوجائے گا اور ہم غیر ترقیاتی اخراجات کو کبھی کم نہیں کرسکیں گے۔ اس کیلئے ہمیں سیاسی بصیرت میں تبدیلیاں لانی ہوں گی، اور ہم الفاظ کے گورکھ دھندوں کی بجائے ان میگا پروجیکٹس پر کام کرسکیں گے جس کے وہ اقتصادی نتائج نکل سکیں کہ ہم غربت کے منحوس چکر سے نکل آئیں تاہم اس کیلئے ٹرانسپرنسی لازمی حیثیت رکھتی ہے۔