صحافت اور حمیت!

کالم نگار  |  خالد کاشمیری
صحافت اور حمیت!

قومی صحافتی تاریخ‘ آزادی صحافت‘ ویج بورڈ ایوارڈ کے اجرائ‘ اس پر عملدرآمد‘ مختلف جمہوری اور غیر جمہوری ادوار میں سنسر شپ‘ کارکن صحافیوں پر ہونیوالے حکومتی مظالم اور مختلف حکومتوں کی طرف سے کارکن صحافیوں کو بیکار کرنے کی کامیاب سازشیں تاریخ صحافت کے روشن ابواب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حقیقت ہے کہ جمہوری اور غیرجمہوری ارباب حکومتوں کی پریس کانفرنسوں سمیت سینٹ‘ قومی اسمبلی‘ صوبائی اسمبلیوں وغیرہ ہر مقام پر اپنے فرائض کیساتھ ساتھ صحافیوں نے اپنی غیرت و حمیت کی پاسبانی کو یاد رکھا ہے۔ کہنے کو تو یہ بیالیس برس پرانی بات ہے مگر صحافتی تاریخ کا یہ واقعہ ہر لحاظ سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ ملک میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ سال 1973ء تھا۔ ملک غلام مصطفی کھر پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔ شیخ رفیق احمد پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور محمد حنیف رامے وزیرخزانہ تھے۔ ایک روز صبح کے وقت پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع سے قریباً پندرہ منٹ قبل پیپلزپارٹی کے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک رکن ایوب بیگ نے اسمبلی کے صدر دروازہ میں اپنے ساتھیوں سمیت داخل ہوتے وقت کارکن صحافی پی پی آئی کے رمضان عادل کو اس لئے طمانچہ دے مارا کہ رمضان عادل بیگ صاحب کو دیکھ کر رک کیوں نہیں گئے کہ بیگ صاحب پہلے دروازے میں داخل ہوتے۔ رمضان عادل انتہائی شریف صحافی تھے اور اسمبلی کی کارروائی رپورٹ کیا کرتے تھے۔ سرعام طمانچہ پڑا تو ان کے آنسو نکل آئے۔ چند لمحوں میں پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے سیکرٹری کو خبر ہوئی تو رمضان عادل کو کمیٹی کے تمام ارکان نے دلاسا دیا۔ اس کے بعد سپیکر شیخ رفیق احمد کو سیکرٹری گیلری کمیٹی نے چٹ بھیجی کہ آپ کے فلاں رکن نے بلا وجہ پریس گیلری کے ایک معزز صحافی رکن کو صرف طمانچہ مارا بلکہ نازیبا الفاظ بھی کہے۔ لہٰذا آپ اس بات کا نوٹس لیں اور اپنے رکن اسمبلی کو معذرت کیلئے کہیں۔ سپیکر شیخ رفیق احمد نے نصف گھنٹہ تک کوئی نوٹس لیا نہ جواب دیا۔ اس کے بعد سیکرٹری پریس گیلری کی طرف سے سپیکر کو پھر تحریری طورپر لکھ کر بھیجا گیا کہ اگر آپ نے اس معاملہ کا نوٹس نہ لیا تو پریس گیلری کمیٹی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دے گی۔
1970ء کے انتخابات پنجاب میں پیپلزپارٹی بھاری اکثریت سے جیتی تھی اور اس کی صوبائی حکومت کے انداز بڑے متکبرانہ تھے۔ چنانچہ شیخ رفیق احمد سپیکر نے اس سنگین معاملے کو ایوان میں لانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ اس پر پریس گیلری کے ارکان کو اعتماد میں لیکر سیکرٹری پریس گیلری نے اسمبلی کی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا۔ چونکہ اس وقت کی پریس گیلری کے صدر علالت کے باعث آنہیں رہے تھے‘ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کی طرف سے اسمبلی کی رپورٹنگ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے جو چارٹر آف ڈیمانڈ سپیکر کو تحریری طورپر بھیجا گیا‘ اس میں کہا گیا کہ جب تک پیپلزپارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ایوان میں کارروائی کے دوران آکر معافی نہیں مانگیں گے اس وقت تک بائیکاٹ ختم نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری کمیٹی کا بائیکاٹ 13 دن مسلسل جاری رہا۔ اس دوران وزیرخزانہ محمد حنیف رامے کی طرف سے ٹیوٹا گاڑیوں کے پرمٹ ارکان اسمبلی اور پارٹی کے حوالوں سے تقسیم کئے جا رہے تھے۔ بائیکاٹ کے ساتویں روز رامے صاحب نے سیکرٹری پریس گیلری سے ملاقات میں کہا کہ آپ کو گاڑی نہیں چاہئے؟ جواب ملا کہ ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں؟ رامے صاحب کا کہنا تھا‘ گاڑی چالیس ہزار کی ہے‘ دو پرمٹ ہوں تو گاڑی آجائے گی مگر سیکرٹری پریس گیلری نے حکومتی پیشکش کو نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ اس سے کمیٹی کے ارکان کو بھی آگاہ کیا۔ ہڑتال کے آٹھویں روز لاہور کے اے ڈی سی (جی) لودھی صاحب نے سیکرٹری پریس گیلری کے گھر پر فون کرکے بائیکاٹ ختم کرنے کو کہا اور ایسا نہ کرنے پر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں مگر صحافی نے کسی دھمکی یا لالچ کو پرِکاہ جتنی اہمیت بھی نہ دی۔ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کی طرف سے بائیکاٹ کی خبر گیارھویں روز بی بی سی نے بھی اپنی شام کی نشریات میں دی اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی ارباب اقتدار کو یہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے نمٹانے کا حکم دیا۔ بائیکاٹ کے تیرہویں روز وزیراعلیٰ ملک غلام مصطفی کھر کی طرف سے سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی وساطت سے سیکرٹری پریس گیلری کمیٹی کو پیغام ملا کہ پنجاب اسمبلی کے مین کمیٹی روم میں دن کے گیارہ بجے وزیراعلیٰ پنجاب مذاکرات کریں گے۔ سیکرٹری پریس گیلری کمیٹی اپنے تمام ارکان سمیت کمیٹی روم میں جا کر وزیراعلیٰ سے ملے۔ فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے رہنا ڈان کے لاہور میں بیورو چیف نثار عثمانی مذاکرات میں پریس گیلری کمیٹی کے ارکان کی اخلاقی حمایت کیلئے بھی تشریف لائے ہوئے تھے مگر وزیراعلیٰ ملک غلام مصطفی کھر سے سیکرٹری گیلری کمیٹی کی قیادت ہی میں مذاکرات ہوئے۔ جب یہ کہا گیا کہ جس رکن اسمبلی نے ایک معزز صحافی سے بدتمیزی کی اور اسے تھپڑ مارا‘ وہ ایوان میں کارروائی کے دوران آکر معذرت کریں اور یہ معاملہ ایوان کی کارروائی کا حصہ ہو۔ ملک غلام مصطفی کھر کا کہنا تھا کہ پارلیمانی تاریخ میں یہ بات ’’ان پریسیڈنٹڈ‘‘ ہے کہ کسی رکن اسمبلی کی ایسے معاملے پر معذرت ایوان کی کارروائی کا حصہ ہو؟ وزیراعلیٰ سے کہا گیا کہ جناب یہ افسوسناک واقعہ بھی ’’ان پریسیڈنٹڈ‘‘ ہے۔ اسمبلی چیمبرز میں حکومتی پارٹی کا کوئی رکن اپنے سے پہلے گزرنے والے کسی صحافی کو نہ صرف تھپڑ مار دے بلکہ نازیبا الفاظ بھی کہے۔ وزیراعلیٰ ملک غلام مصطفی کھر نے پون گھنٹہ کے مذاکرات میں پریس گیلری کمیٹی کے اس مطالبہ کو تسلیم کر لیا۔ اسمبلی کا اجلاس شروع ہو چکا تھا۔ پریس گیلری کمیٹی کے ارکان مخصوص پریس گیلری کی بجائے وزیٹر گیلری میں جا کر بیٹھے۔ وزیراعلیٰ غلام مصطفی کھر ایوان آکر اپنی نشست پر آبیٹھے تو سپیکر شیخ رفیق احمد نے وزیراعلیٰ سے ملنے والی ہدایات کی روشنی میں متذکرہ واقعہ کا ذکر کرتے ہورئے رکن اسمبلی بیگ صاحب کو اس واقعہ کے بارے میں اظہارخیال کرنے کو کہا۔ بیگ صاحب کو وزیراعلیٰ ملک غلام مصطفی کھر کی واضح ہدایات مل چکی تھیں۔ انہوں نے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے واشگاف الفاظ سے اپنی حرکت پر اظہار ندامت کیا اور رمضان عادل سمیت ارکان پریس گیلری کمیٹی سے معذرت کی۔ اس پریس گیلری کے ارکان سیکرٹری پریس گیلری کی قیادت میں بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے اپنی مخصوص نشستوں پر آکر بیٹھ گئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت اپنی حمیت کی پاسبانی کرنے والے صحافی حق بات پر ڈٹے رہے اور یہ کارروائی پنجاب اسمبلی کی کارروائی کا حصہ بنی۔ یقینا اسے پنجاب اسمبلی لائبریری کے ریکارڈ میں دیکھا جا سکتا ہے۔