اقتصادی راہداری اور بھارت کی بے چینی

اقتصادی راہداری اور بھارت کی بے چینی

پاکستان اور چین کے مابین طے پانے والے معاہدوں میں اقتصادی راہداری بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اقتصادی راہداری پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی۔ اس راہداری کی تعمیر سے پاکستان میں خوشحالی کے دور کا آغاز ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ میاں نوازریف نے اقتصادی راہداری کو ’’کالا باغ ڈیم‘‘ نہیں بننے دیا ورنہ یہ معاہدہ بھی کسی صورت پایہ تکمیل کو نہ پہنچ پاتا۔ کچھ بھارت نواز گروہوں نے واویلا ڈال کر اس معاہدے کو سیاسی ایشو بنانے کی کوشش کی تھی جسے وزیراعظم میاں نوازشریف نے اے پی سی سے منظور کروا کر ناکام بنا ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اقتصادی راہداری کا کوئی ایک انچ بھی بھارتی سرزمین میں شامل نہیں لیکن بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو گئے ہیں اور بھارتی حکومت نے بلا وجہ اس کی تعمیر کو اپنے مفادات پر زد کے مترادف قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ لیکن یہاں بھی پاکستانی حکومت کے ساتھ ساتھ چینی قیادت نے بھی بھارتی اعتراضات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ اس اقتصادی راہداری کا بھارت کے مفادات یا نقصانات سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ پی پی پی سمیت کچھ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) حکومت نے حالیہ بجٹ میں اقتصادی راہداری کی تعمیر کے لئے جو رقم مختص کی ہے وہ بہت کم ہے۔ اب بجٹ کی بات چھڑ ہی گئی ہے تو کچھ اس ضمن میں عرض کرتا چلوں ایک تو یہ کہ حکومت نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جو اضافہ کیا ہے وہ گزشتہ برس کی نسبت پچاس فیصد کم ہے۔ یعنی اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے پچاس فیصد کٹوتی کر لی گئی ہے جو انتہائی ظالمانہ اقدام ہے۔ حکومت نے یہ چکمہ دینے کی کوشش کی ہے کہ جناب سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ لیکن جب اسے پوری تنخواہ پر ضرب تقسیم جمع کر کے دیکھا گیا تو پتا چلا کہ پھر بھی ساڑھے سات فیصد حکومت نے کٹوتی کر لی ہے۔ سرکاری ملازمین کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کو سرکاری ملازمین پر رحم کرنا چاہیے اور ان کی تنخواہوں میں کم از کم چالیس فیصد اضافہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھ سکیں۔
توانائی کے حصول اور پیداوار کے لئے حکومت نے جو معاہدے چین کے ساتھ کئے ہیں وہ یقیناً قابل تعریف ہیں اور ان سے کسی حد تک بجلی کے بحران اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی لیکن مسلم لیگ (ن) حکومت اسی طرح کی ایک اور ’’اے پی سی‘‘ بلا کر تمام سیاسی جماعتوں کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر متفق اور راضی کیوں نہیں کرتی؟ تاکہ نہ صرف بجلی کا بحران ختم ہو بلکہ ہر سال آنے والے تباہ کن سیلابوں سے بھی چھٹکارا حاصل ہو جائے اور سندھ کی تمام بنجر اراضی کو بھی زرخیز بنا کر ملک میں سبز انقلاب کی داغ بیل ڈالی جائے اور تھر میں قحط کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ آخر یہ کون کرے گا؟ میاں نوازشریف ایک محب وطن اور دل درد مند رکھنے والے حکمران ہیں انہیں اس طرف ضرور توجہ دینا چاہیے اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں سنجیدگی سے کوشش کرنا چاہیے تاکہ پاکستان زرعی اعتبار سے بھی مالا مال ہو جائے اور بھارت وغیرہ سے زرعی اجناس اور سبزیاں اورپھل درآمد نہ کرنا پڑیں۔
بجلی کی قیمتوں کے سلسلے میں عدالت عالیہ نے حکومت کو یہ حکم صادر فرمایا کہ بجلی کے بلوں میں سے تمام غیر ضروری ٹیکس ختم کر دئیے جائیں اور یہ حکم تین یا چار ماہ قبل سے لاگو ہوگا لہٰذا عوام کے گزشتہ بلوں کے بقایا جات آئندہ بلوں میں ایڈجسٹ کئے جائیں اور وہ تمام رقم عوام کو واپس کی جائے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ حکومت نے عوامی فلاح اور عوامی مفاد کے اس حکم پر عمل کرنے کے بجائے اس حکم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی اور اس کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی کر دیا۔ سبحان اللہ، کیا فلاحی حکومت ہے؟ کیا عوام دوست حکومت ہے؟ حکومت کے اس اقدام کی جتنی بھی ’’تعریف‘‘ کی جائے کم ہے۔ خالد احمد نے کیا خوب کہا۔
یہ شہر کے باسی ہیں کہ سوکھے ہوئے پتّے
یہ شہر کے حاکم ہیں کہ جنگل کی ہوا ہے
خالد احمد کے ذکر پر مجھے یاد آگیا کہ گزشتہ دنوں ’’خالد احمد ایوارڈ‘‘ کی پروقار تقریب الحمرا آرٹس کونسل میں منعقد کی گئی۔ جس میں پنجاب یونیورسٹی کے ہونہار طلباء اور ماہر اساتذہ نے خالد احمد کا کلام گا کر پیش کیا اور تقریب کو چار چاند لگا دئیے۔ امسال شاید ماکلی شاعری، فرحت پروین کو افسانوں کے مجموعوں پر اور محترم عطاء الحق قاسمی کو لائف ٹائم ایچیومنٹ پر خالد احمد ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس تقریب کی صدارت محترمہ ناہید قاسمی نے کی۔ مہمانان خصوصی ڈاکٹر خورشید رضوی اور امجد اسلام امجد تھے اور تقریب کے میزبان عمران منظور، نجیب احمد، نعمان منظور، اسد احسان اور جاوید احمد تھے۔ یہ ایک یادگار تقریب تھی۔