ایئر مارشل (ر) اصغر خاں

کالم نگار  |  سلیمان کھوکھر-----چہرے
ایئر مارشل (ر) اصغر خاں

ایئر مارشل اصغر خان صاحب بھی اب رخصت ہوئے۔انہوں نے پاکستان ایئر فورس کی بنیاد رکھی تو اسے پاکستان کی بہترین لڑاکا فضائی قوت بنا دیا۔دیانت کی وہ شمع بجھ گئی جس نے P.I.Aجیسی ایئر لائن کو دنیا بھر کی ایسی ایئر لائن بنا دیاجس کے بطن سے آج کی بڑی بڑی ایئر لائینز جنم لے چکی ہیں۔مشرقی پاکستانیوں کیلئے ایئر فورس کے ضابطوں کی زنجیریں کھولنے والا کمان دار،دانشور مصنف ومولف دارالمکافات کو روانہ ہوگیا۔میرے دوہی تو ہیرو تھے ایک "اباجی"اورایک ایئر مارشل(ر) اصغرخاں۔جب دونوں ہی اٹھ گئے تو اب اشکوں کو بھی کیا سنبھال سنبھال کے رکھنا۔اتنے میں راولپنڈی سے ہمارے دوست اور پنجاب یونیورسٹی کے سابق جنرل سیکرٹری پرویز الطاف کا اور گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے سابق صدر خواجہ عمادالدین کافون آگیا۔ گھنٹوں ڈھارس بندھاتے رہے ۔پھر ملک بھر سے احباب کے فون آناشروع ہوگئے ۔گوجرانوالہ بار میں وکلاء صاحبان نے کئی بار دعا کی۔پھر یہ سوچ کر طبیعت سنبھلی کہ خدا کا شکرادا کرو کہ لوگوں نے اصغر خاں کی تعزیت کیلئے تمہیں یادکیا۔ سب کی دعائوں کا شکر یہ اداکرتا ہوں۔1970ء اور 1980ء کی دہائی میں جن لوگوں نے مجھے تحریک استقلال سے اپنا سیاسی سفر شروع کرتے تیزی سے آگے بڑھتا دیکھا اور جولوگ اصغر خاں سے میری قربت سے آگاہ تھے، وہ سب مجھ سے تعزیت کرتے رہے۔1973ء میں جب میں تحریک استقلال میں شامل ہوا تو اسکی اڑان بڑی بھرپور تھی۔ ان کی وفات کے بعد ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کے وہ تمام لوگ یاد آگئے،جنہوں نے اصغرخاں کے ساتھ سچائی کے سفر میں اپنی جوانیاں لٹادیں۔کئی ایک ہمت ہار گئے کچھ تھک گئے کچھ ضیاء الحق کو پیارے ہوگئے اور باقی اللہ کو۔اب یہ سفر تمام ہوا۔گوجرانوالہ سے آغاز کیا تو ظفر ڈار۔سید اشفاق علی شاہ ۔ میاں عبدالحق ارشاد اور ہمارے موجودہ وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک کے دولت خانے اور سیف اللہ بٹر ایڈووکیٹ کا چیمبر، تحریک استقلال کے سیاست خانے تھے۔ ملک بھرسے 1`977ء تک جو لوگ تحریک استقلال میں تھے ان کے کچھ کچھ نام اور چہرے یاد آ رہے ہیں۔کراچی اور سندھ سے نثاراحمد کھوڑو، جے ۔اے رحیم، مشیر احمد پیش امام، خلیل احمد نینی تال والا، نفیس صدیقی، حسین شہید سہروردی صاحب کی نواسی بیرسٹر شاہدہ جمیل ان کے شوہر بیرسٹر جمیل MQMکے موجودہ ایم پی اے محفوظ یارخاں، رحمت خاں وردگ، سابق چیئرمین سینٹ محمد میاں سومرو کے والد احمد میاں سومرو، امتیاز پھیلوٹوکے چہرے یاد آنے لگے۔ تحریک استقلال کے منشور میں بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس لئے بہاولپور کی صوبائی تنظیم بھی الگ تھی۔ جس کے صدر جسٹس میاں اللہ نواز تھے۔ ان سے پہلے طاہرہ مسعود صدر رہیں۔ ملک ساجد فیروز ایڈووکیٹ اور ممتاز مصطفے ایڈووکیٹ بہاولپور تنظیم کے اہم راہنما تھے۔ملتان سے جاوید ہاشمی، ڈاکٹر احسان باری، بابو فیروز دین انصاری، ملک حیدر عثمان ایڈووکیٹ، رفیق ایڈووکیٹ اور شیخ ظہور ہمارے ساتھی رہے۔ سابق وزیر اعلی پنجاب میاں منظور وٹو تحریک استقلال ساہیوال کے صدر تھے انکے ساتھ سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا ارشد جنرل سیکرٹری رہے۔ پاک پتن سے ہمارے دوست روزنامہ نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر سعید آسی، عارف والا سے منیر احمد خاں اور چیچہ وطنی سے سابق ایم این اے بیگم شہناز جاوید اصغر خاں کے جاں نثار ہمراہی تھے۔لاہور سے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، ملک حامد سرفراز، ملک وزیر علی، اعتراز احسن، جسٹس خلیل الرحمان رمدے، میاں محمود علی قصوری، احمد رضا قصوری، میاں خورشید محمود قصوری، ڈاکٹرخالد رانجھا، علامہ احسان الٰہی ظہیر،آپا مہناز رفیع، معروف شاعر سیف الدین سیف، منظور گیلانی، چوہدری صفدر علی، نواب حسن تاج، ظفر گوندل، آصف اختر ملہی، چوہدری طارق عمر، رشید بھٹہ کسان ہال والے رانا مقبول ایڈووکیٹ اورحنیف گورائیہ جیسے یگانہ روز گار لوگ تحریک استقلال کی رگ جاں تھے۔ شیخوپورہ سے تحریک استقلال کے سابق صدر اکرام ناگرہ ایڈووکیٹ معروف مقرر تنویر عباس تابش جیسے لوگ ایئر مارشل صاحب کے ساتھی تھے۔ لائل پور (بعد میں فیصل آباد) سے راجہ نادر پرویز، پنجاب یونیورسٹی کے سابق صدرحفیظ خاں، تجمل اقبال کمبوہ ایڈووکیٹ، صبیحہ شکیل، مہر شوکت، اکرام پاشا، عنائت گل، عبدالغفار واہلہ، شفقت رسول اور دیگر ساتھی بڑے جاندار لوگ تھے۔ جڑانوالہ سے بی کے تابش اور راجہ حیات ایسے سجیلے سیاسی کارکن تھے۔گوجرانوالہ سے خلیفہ امام دین بقاء کے علاوہ عظیم مرزا، ملک نوازش علی، ملک معصوم، صدیق بٹ، ضلع کونسل کے سابق چیئرمین رحمت علی باگڑی ان کے صاحبزادے ذوالفقار علی باگڑی، ڈی ایس پی وقار بھٹی، وزیر آباد سے ہمارے دوست مستنصر گوندل اور ان کے والد شریف گوندل، ظفراللہ نعمانی، حافظ آباد سے میاں نوازش علی بھٹی، صدیق بھٹی ایڈووکیٹ، رانا سلیمان ایڈووکیٹ، محمد انور بٹ سیالکوٹ کے سابق ایم پی اے ادریس باجوہ ایڈووکیٹ سابق ایم این اے ملک سلیمان سڈل گجرات سے سابق چیئر مین بلدیہ چوہدری طفیل، میر بشیر منڈی بہائوالدین سے ایم این اے ممتاز تارڑ، طالب علم راہنما اقبال جاڑہ کھاریاں سے میاں محمد اسلم، جہلم کے راجہ افضل، سرائے عالم گیر کے دلیر و سخی راہنما راجہ افضل ایئر مارشل صاحب کے ہمسفر تھے۔ پسرور سے قیوم بٹ راولپنڈی سے شیخ رشید ،سینیٹرراجہ ظفر علی شاہ ،کرنل تصدق اور رفیع بٹ ایڈووکیٹ ،فاضل بھٹی ایڈووکیٹ،چنیوٹ سے ایم این اے شیخ قیصر،جھنگ سے شیخ شریف ،سرگودھا سے انورعلی نون،اکرم ہنجراء ،تصدق بلوچ ایڈووکیٹ اور بیرسٹر نصرت علی شاہ سیاسی سفر میں ایئر مارشل صاحب کے ہمقدم رہے ۔اصغر خاں اپنے وقت کے تمام سیاسی راہنمائوں کی نسبت چاروں صوبوں میں بڑے مقبول تھے۔صوبہ سرحد(اب خیبرپختون خواہ) میں والیٔ سوات میاں گل اورنگ زیب،گوہر ایوب خاں ،سابق وزیر اعلی سرحد نصراللہ خٹک ،پیر صاحب مانکی شریف ،مردان کے نثار احمد خاں ،سابق وزیر سید منیر شاہ ،سعیداختر ایڈووکیٹ،وحیداظہر ایڈووکیٹ،مانسہرہ کے مشتاق خاں سیاست کی کٹھنائیوںمیں تحریک استقلال کے ساتھ رہے ۔نواب اکبربگٹی نے زندگی میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کی تو وہ تحریک استقلال تھی۔بلوچستان سے سینیٹر خدائے نور اور ضیاء الدین ضیائی جیسے کہنہ مشق لوگ اصغر خاں کا اثاثہ رہے ۔ان گنت سیاست کاروں کا ایک جہاں آباد تھاایئر مارشل صاحب کے گردکسے یاد رکھوں کسے بھول جائوں۔اصغر خاں نے ہر دوسال بعد تحریک استقلال میں انٹر اپارٹی انتخابات کی بنیاد رکھی اور اس پر سختی سے عمل کروایا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ اعلی سطح پر پہنچ سکے۔خود میں 1979ء میں صرف پچیس سال کی عمر میں پنجاب کا جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوا،میرے ساتھ دیگر تین جوائنٹ سیکرٹری بھی منتخب ہوئے ۔جس میں ممتاز تارڑپہلی بار صوبائی سطح پر متعارف ہوئے۔پھر میں1981سے لیکر1984تک پنجاب کا جنرل سیکرٹری بنا۔یہ بڑا کٹھن وقت تھا۔ضیاء الحق کے خلاف MRDکا سیاسی اتحاد وجود میں آچکا تھا ۔سیاسی کارکنوں پر قیامت برپاء کردی گئی ۔وہ گھروں میں محفوظ رہے نہ جیلوں میں۔ایئر مارشل صاحب سے زیادہ صادق وامین وقت کا پابند،اصول پرست اور جمہوری سیاسی راہنمادیکھنے اور سننے کو آنکھ اور کان ترس گئے مگرنہ کوئی نظر میں سمایا اور نہ کسی کی بانگ درا سنائی دی۔جب ضیاء الحق کے خلاف "تحریک بحالی جمہوریت "(MRD) کے نام سے ایک اور سیاسی اتحاد بنا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ بے پناہ اختلافات کے باوجود اتحاد کیا اور اس پر قائم رہے "تحریک استقلال۔ عروج وزوال" اور دیگر بہت سے کالموں میں بہت سی داستانیں قلم بند کرچکا ہوں۔اب اصغر خاں کی یادیں ہیں انکی باتیں ہیں،غم و اندوہ سے بھرا دل اور سیاست کے میدان سے اللہ کے ولی کے اٹھ جانے کا سوگ۔جو نصف صدی سے زائد عرصہ تک پاکستان کی سیاست کی درگاہوں میں اذان دیتا رہا۔پس تحریر:۔ان سب سے معذرت جنکے نام باوجود کوشش کے یاد نہ آسکے۔