فالٹ لائن اور صلیب مشرف …(آخری قسط)

کالم نگار  |  عامرہ احسان

ہماری اس وقت اصل کمزوری ہماری ایمان سوز قیادتیں ہیں۔ پچھلا نہر والے پل پر ناچا تھا تو شور مچ گیا تھا اب اخلاقی زوال جن انتہائوں کو چھو رہا ہے اسکی تصاویر گورنر پنجاب اور ولی عہد کے حوالے سے شرمناک ہیں۔ ایسے میں اگر دنیا کی ساری طاقتیں ہم پر پل پڑیں اور اللہ کی طرف سے بھی جھٹکے پڑیں تو ہمیں اپنے تحفظ اور بقا کی کوئی تدبیر تو سوچنی ہوگی۔ بلاشبہ ہم فالٹ لائن پر بیٹھے نبیﷺ کی بددعا سمیٹ رہے ہیں زمینی‘ معاشی‘ عسکری ہمہ نوع جھٹکے کھا رہے ہیں۔
’تباہ ہو جائے دینار (ڈالر) کا بندہ اور درہم (روپے) کا بندہ اور کمبل (چادر) کا بندہ (یعنی دنیاوی اسباب)۔ اگر اُسے دیا جائے تو خوش اور نہ دیا جائے تو ناراض ! تباہ ہو جائے اور منہ کے بل گرے اور اگر اُسے کانٹا چبھے تو (اللہ کرے کہ) نہ نکلے۔ (بخاری کتاب الجہاد) اللھم احفظنا ! ہم ڈالروں‘ لینڈ کروزروں کے پیچھے دوڑتے تباہی کی۔ فالٹ لائن میں جا دھنسے حالانکہ اسی حدیث کا دوسرا حصہ بشارتوں اور نبویﷺ دعائوں پر مبنی ہے۔ مبارک ہو اس بندے کو جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے‘ بال بکھرے اور گرد آلود پائوں۔ اگر اسے پہرے پر لگا دیا جائے تو پہرا دے اور اگر پچھلے لشکر میں چھوڑ دیا جائے تو پچھلے لشکر ہی میں رہے‘ یعنی وہ جسے اللہ کی رضا کے سوا کچھ مطلوب نہیں اور جو دنیا تج کر کفر کیخلاف لشکر میں شامل ہو جائے عازم جہاد ہو۔
فالٹ لائن سے نکلنے کیلئے صرف ایک مکمل یوٹرن درکار ہے‘ جس میں افضل ترین راستہ تو یہ ہے کہ مجاہدین کیساتھ صف آرا ہو کر گرتی ہوئی دیوار کو دھکا لگا دیا جائے۔ اسلحہ بارود‘ جہاز‘ ٹینک‘ توپ تفنگ اپنے مسلمان بھائیوں پر برسانے کی بجائے ان کا رخ موڑ کر امریکہ سے پچھلے سارے اُدھار قرضے چکا دئیے جائیں ضمناً بھارت بھی جگہ پر لوٹ آئیگا۔ اگر شجاعت کا یہ جرعہ بھرنا ہم بھول چلے ہیں تو پھر کم از کم ہم فالٹ لائن سے ہٹنے کیلئے شمالی علاقہ جات سے فوجیں پیچھے ہٹا لیں۔ ایمان کی فالٹ لائن قبائلی پٹی کے عین نیچے سے گزرتی ہے۔ اپنے بھائیوں سے معافی مانگ کر ان کے نقصانوں کا ازالہ پوری قوم ملکر کرے۔ گھر آباد ہوں‘ دیت ادا ہو‘ اسکے بعد آپ صرف انہیں اپنی سرحدوں کے اندر کا فضائی تحفظ دے دیں اور انہیں امریکہ نیٹو سے نمٹنے کو تنہا چھوڑ دیں۔ ایک نئی تاریخ رقم ہوگی باذن اللہ۔ برطانیہ کی پچھلی تاریخ امریکہ نیٹو کیساتھ دہرائی جائیگی۔ نئے گورے قبرستان آباد ہونگے۔ دنیا کا نقشہ بدلے گا صرف تاریخ نہیں جغرافیہ بھی نیا رقم ہوگا۔ قرآن و حدیث کی وعیدوں سے نکل کر بشارتوں کا مزا چکھیں گے اور اللہ سے مہلت طلب کرتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ ڈالروں کی بندگی کرنے والوں کو نہ دیکھ۔ اپنے اُن بندوں کو تو دیکھ جو تیری راہ میں پروانہ وار اپنی جوانیاں لیکر نچھاور ہو گئے۔ بکھرے بال اور گرد آلود پائوں لئے تیرے نبیﷺ کی بشارتوں کے حقدار بنے۔ بہ زبانِ اقبال…؎
مگر میں نذر کو اِک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں
’افغانستاں‘ کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں !
اس لہو کو قبول فرما اور فالٹ لائن کے جھٹکوں سے محفوظ و مامون کر دے۔ انہی مجاہدین نے روسی ریچھ کو پچھاڑا تھا۔ نئی تاریخ‘ نیا جغرافیہ رقم کیا تھا۔ انہی کے ہاتھ آنے والے وقت میں نیو ورلڈ آرڈر تشکیل دیں گے جس میں غلبہ باذن اللہ اسلام کا ہوگا۔
امریکی ترجمان کا یہ تازہ بیان کہ ’حماس اور پاکستانی دہشت گردوں میں کوئی فرق نہیں‘ اگلے عزائم کا پتہ دے رہا ہے۔ حماس کا پیچھا کرتے ہوئے اگر نہتے محصور عوام کو تہس نہس کیا جا سکتا ہے اور عالمی غنڈوں کے نرغے میں پھنسی آج کی پوری دنیا بالعموم اور مسلم دنیا بالخصوص محض تماش بین بنی بیٹھی ہے تو آپ اپنا کل اس آئینے میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔
القاعدہ‘ طالبان‘ جماعت الدعوۃ کی دہشت گردی تو ہنوز تشنۂ ثبوت ہے جبکہ امریکہ‘ بھارت‘ اسرائیل‘ نیٹو کی دہشت گردی مسلم الثبوت ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا کی ہزاروں گھنٹوں کی کوریج براہ راست تمام مناظر دکھاتی رہی ہے اگرچہ یہ اصل ظلم و جبر کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔ گوانتانامو‘ بگرام‘ ابوغریب‘ عافیہ صدیقی پر ڈھائے مظالم سب پایہ ثبوت کو پہنچ چکے ہیں۔ اگر عدل انصاف قانون دنیا میں کہیں پائے جاتے ہیں تو پہلے اس عالمی دہشت گردی‘ بربریت اور غنڈہ گردی کیخلاف مقدمہ چلا کر دنیا کے چوراہوں میں ان عالمی مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔ اس منظم دہشت گردی میں دنیا کی مقتدر اقوام نے بری بحری فضائی طاقتورر افواج کے ذریعے نہتے کمزور عوام پر قہر برسایا اور انسانیت کی دھجیاں بکھیریں جبکہ انکے مدمقابل ای وان ریڈلی فیم طالبان‘ رفاہی خدمات اور زلزلہ زدگان جماعت الدعوۃ اور کفر کے مظالم کے مقابل صف آرا شجاع القاعدہ مجاہدین ہیں۔ فلسطین میں معصوم پھول سے بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کے رخ روشن سے کیا‘ اب بھی نقاب نہیں اترا؟ آپ انکے قالین پر رینگتے اور بوٹ کی ٹو چاٹتے رہے پھر بھی آپ انہیں راضی نہ کر سکے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر سطح پر اصل تیاری کر لی جائے۔ آپ قبلہ درست کر لیجئے اللہ آپ کی پشت پر ہوگا۔ آپ فالٹ لائن سے بچ نکلیں گے۔
بہ زبانِ حضرت نوح علیہ السلام۔ اے میری قوم کے لوگو میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں (تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری (پیغمبر کی) اطاعت کرو۔ اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آ جاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا۔ کاش تمہیں اس کا علم ہو۔ (نوح : 2-4)