سردار صاحب پہلے ٹکٹ تو خریدیں.....ضرب سکندری

صحافی  |  سکندر خان بلوچ

کہتے ہیں ہر اچھے ملک میں ایک اچھی حکومت ہوتی ہے۔ سیاسی مفکرین کا خیال ہے کہ اچھی حکومتیں ہی ممالک کو اچھا بناتی ہیں۔ ترقی کی بلندیوں تک لے جاتی ہیں ورنہ بنیادی طور پر توتمام ممالک ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں بھی ایک حکومت ہے۔ اگر کہتے ہیں تو شاید ٹھیک ہی کہتے ہونگے۔ ہو سکتا ہے حکومت ہو لیکن وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت اس لئے بھی نظر نہیں آتی کیونکہ طالبان کا دور ہے۔ ’’شٹل کاک‘‘ برقعے میں رہنا حکومت کی شرعی مجبوری ہے ۔ ویسے میں اپنی حکومت اور حکومتی کارکردگی پر جتنا بھی غور کرتا ہوں نجانے کیوں مجھے سردار لہنہ سنگھ یاد آجاتا ہے۔ واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ سردا رلہنہ سنگھ ایک باعزت تاجر اور باعزت سکھ سردار تھا۔ پھر اُسے اچانک تجارت میں اتنا گھاٹا پڑا کہ کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا۔ اُدھار وغیرہ لیکر حالات سنبھالنے کوشش کی لیکن کام نہ بنا۔ مجبور ہو کر گردوارہ میں جا بیٹھا اور بھگوان کے سامنے سجدے میں گر کر دعا مانگتا ۔ ’’بھگوان مجھ پر رحم فرما۔ میری لاٹری نکال دے ورنہ مجھے مکان سے ہاتھ دھونے پڑیں گے‘‘۔ لاٹری نکلنے والے دن وہ لاٹری ہال میں گیا مگر اُس کی لاٹری نہ نکلی لہٰذا وہ پھر بھگوان کے سامنے جا سجدہ ریز ہوا ۔ ’’بھگوان میری لاٹری نکال دے ورنہ مجھے مکان اور زمین دونوں سے ہاتھے دھونے پڑیں گے‘‘۔ پھر وہ لاٹری نکلنے والے دن لاٹری ہال میں گیا لیکن ناکام لوٹا۔ لہٰذا وہ پھر جا کر دعا میں مشغول ہو گیا۔ رو رو کر اور گڑ گڑا کر دعا مانگی:۔’’اے بھگوان میری لاٹری نکال دے ورنہ مجھے زمین ۔ مکان اور بیوی بچوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے‘‘ ۔ اتنی دیر میں بادل گر جا۔ آسمان پر بجلی چمکی اور آواز آئی ’’سردار صاحب دعا تو ٹھیک ہے پہلے ٹکٹ تو خریدیں ‘‘
یہی حال ہماری حکومت کا ہے۔ الیکشن کے دوران بڑے بڑے وعدے کئے۔ حکومت میں آنے کے بعد نو ماہ سے تمام وزرا نے مسلسل ٹی وی بیانات کے ذریعہ سے عوام کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ لیکن آخر میں تان صرف اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ ’’ہم تو عوام کو سونے کے نوالے کھلانا چاہتے ہیں لیکن کیا کریں پچھلی حکومت نے کچھ چھوڑا ہی نہیں‘‘اُمید کامل ہے کہ اگلے پانچ سال وہ یہی بیان دیتے رہیں گے۔ جناب عالی بجا مانا کہ سب کچھ پچھلی حکومت کا کیا دھرا ہے توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کے دوران جب آپ عوام سے اتنے بڑے بڑے وعد ے کر رہے تھے تو کیا آپ کو حالات کی سنگینی کا علم نہیں تھا؟۔اگر تھا تو کیا آپ جان بوجھ کر عوام سے جھوٹے وعدے کرتے رہے اور سب سے اہم بات یہ کہ پچھلے نوماہ سے یعنی جب سے آپ کی حکومت آئی ہے آپ نے کیا کیا ہے ؟۔ کہیں سے اپنے وعدے پورے کرنے کی ا’’ابتداء ‘‘تو کریں تاکہ عوام کو آپ کی کارکردگی کا پتہ چلے۔ آپ لوگوں کو کیوں نہیں نظر آتا کہ عوام آج یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ’’مشرف حکومت موجودہ حکومت سے سو گنا اچھی تھی ‘‘ یاد رہے کہ عوام کبھی غلط نہیں ہوتے۔ اگر آپ خود کچھ نہیں دیکھنا چاہتے تو آئیں ذرا حالات کا جائزہ لیں۔
کسی بھی حکومت کے لئے سب سے پہلی اور اہم بات اپنے آپ کو عوام سے ’’محسوس ‘‘کرانا ہوتا ہے تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ ان کی حکومت ہے اور یہ حکومت موثر اور مخلص ہے ۔ایسا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ملک میں امن قائم کیا جائے۔ لوگوں کا جان و مال اور عزت محفوظ ہوں۔ غنڈوں اور ڈاکوئوں کو چوراہوں پر لٹکا یا جائے۔ تھانے امن کا گہوارہ ہوں کہ عوام بے خوف وخطر اپنے مسائل لیکر تھانوں میں جائیں اور انہیں یقین ہو کہ انہیں انصاف ملے گا ۔ ملکی عدالتیں عوام کی رسائی میں ہوںا ور غریب امیر کو برابر کا انصاف دیں۔ عوام کو اتنے چکر نہ لگوائیں کہ داد ے کے دائر کر دہ کیس کا فیصلہ پوتا آکرسُنے۔ چور‘ ڈاکو ‘ سمگلر‘ ذخیرہ اندوز‘ منافع خور‘ نوسر باز سب عوامی دشمن ہیں‘ آخر ایسے لوگوں کا قلع قمع کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ امن کیسے قائم ہوگا؟۔ پولیس اور عوامی حفاظتی ایجنسیاں تو صرف VIPsکے تحفظ پر مامور ہیں ۔ صرف کراچی شہر میں 6ہزار پولیس والے VIPڈیوٹیز پر تعینات ہیںیہی حال تمام شہروں میںہے۔ تھانے خالی ۔چور ۔ ڈاکو آزاد ۔ VIPsمحفوظ اور عوام کا اللہ حافظ۔جواب تو گھروں میں بھی محفوظ نہیں۔
عوام کا دوسرا بڑا مسئلہ کرپشن ہے ۔ویسے تو کرپشن کے کئی رنگ ہیں لیکن دو معروف اور اہم ترین رنگ جو بلا واسطہ عوام کے لئے عذاب بن جاتے ہیں وہ ہیں اول: کچھ بڑے لوگوں سے رشوت لیکر انہیں لوٹ مار کی کھلی اجازت دیدینا بلکہ اُن کی پشت پناہی کرنا اور دوم :سرکاری دفاتر میں رشوت ۔ اس وقت دونوں طریقے پوری طرح فنکشنل ہیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق کروڑوں ڈالروں اور کروڑوںروپوں کی رشوت دیکر نوسرباز لوگ عوام کو اربوں کا ٹیکہ لگا رہے ہیں اور بے تحاشا فوائد اُٹھا رہے ہیں۔ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔ ملکی سرمایہ لوٹ کر غیر ممالک میں اپنے بنک اکائونٹ اس حد تک بھر لئے ہیں کہ ملک دیوالیہ کر دیا ہے۔ ہر چھوٹا بڑا شہری تقریباً26ہزار روپئے کا مقروض ہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ میڈیا کی خبروں کے مطابق کروڑوں ڈالرز رشوت کے’’ کُھرے ‘‘ملک کی سب سے بڑی اور معزز شخصیت کے دفتر کی طرف جاتے ہیں۔ اگر بدقسمتی سے اتنے بڑے دفاتر ’’پتھاریداروں ‘‘ کا کردار ادا کریں گے تو ملکی لوٹ ما ر کا حساب کون لے گا؟
دفتروں کی کرپشن میرٹ اور عوام کے انصاف کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے چند پٹواریوں اور رجسٹری کلرکوں کی جائیدادوں کی تفصیل ایک معروف روزنامہ میں شائع ہوئی تھی اور یہ غریب اور لو گریڈ ملازمین میں سے ہر ایک 10سے 15کروڑ روپئے کی جائیدادکا مالک تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کرپشن برف باری کی طرح ہمیشہ سب سے بلند چوٹی سے شروع ہوتی ہے۔ عوام اہلکاروں کی لوٹ کھسوٹ ۔ ناانصافی اور میرٹ کے خون کی شکایت لیکر کس کے پاس جائیں ۔ کون انہیں تحفظ دے سکتا ہے۔ جہاں تک ہماری عدالتوں کا تعلق ہے ۔ اُن پر سے ویسے ہی عوام کا اعتماد اُٹھ چکا ہے ۔ جس ملک میںبھلا چیف جسٹس خود انصاف کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہو وہاں عوام کی کیا حالت ہو سکتی ہے ۔ ایک ضلعی عدالت کے باہر موٹے موٹے الفاظ میں لکھا ہوا دیکھنے کا اتفاق ہوا ’’یہاں انصاف بکتا ہے ‘‘۔ ہماری عدلیہ کی اِس سے بہتر تشریح نہیں ہو سکتی ۔
ہمارا اگلا بڑا مسئلہ بجلی۔ گیس اور پٹرول ہیں اور یہ تینوں چیزیں ندارد۔ عوام در بدر ۔ انڈسٹری بند۔ ٹرانسپورٹر ز ہڑتالوں پر ۔مزدور فاقوں پرمجبو ر۔آٹا۔ چینی۔ گھی۔ دالیں غائب تجارت پیشہ حضرات کا کاروبار ٹھپ۔ زراعت تباہ ۔ کسانوں کیلئے پانی نہ کھاد اور نہ بیج۔ کریں تو کیا کریں۔
موجودہ دور کی ترقی کے تمام پہیئے انہی تین چیزوں سے چلتے ہیں اور اگر یہ تینوں چیزیں ناپید ہوں تو ملک کی تباہی میں کیا کسر باقی رہ جاتی ہے۔ توقع تھی کہ کالا باغ ڈیم بن گیا تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے لیکن حکومت نے عوامی مفاد میں یہ منصوبہ ہی ختم کر کے عوام کی معاشی ترقی کے خواب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے۔ مشرف دور میں لوڈ شیڈنگ تین سے چار گھنٹے تھی۔اب 18سے 20گھنٹے ہے۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی 18گھنٹوں تک جا پہنچی ہے۔
محترم وزیر بجلی اور پانی نے اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کیا تھا کہ چند ماہ تک لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جائیگی ۔ اس وقت سے لیکر اب تک بہت زبردست بیانات دے رہے ہیں ۔ بڑی بڑی خوشخبریاں سناتے ہیں لیکن حقیقت میں مستقل اندھیروں اور عوام کے معاشی قتل کے علاوہ حکومت کی کارکردگی کہیں نظر نہیں آرہی ۔ نہ ہی مستقل قریب میں کوئی ایسی بہتری کے امکانات نظر آتے ہیں کیونکہ حکومت نے تاحال مسئلہ حل کرنے کی جانب کوئی قدم ہی نہیں اُٹھایا۔ اِس حکومت کی ایک ہی خوبی ہے وہ ہے ’’کسی کی مت سننا کوئی مرتا ہے تو مرنے دیں‘‘۔
ملک اِس وقت گو ناگوں مسائل کی گرداب میں اِس بُری طرح سے پھنساہے کہ ملکی سا لمیت بھی دائو پر لگ گئی ہے ۔پاکستان دشمن عناصر کی نظر میں پاکستان ایک ’’ناکام ریاست ‘‘بن چکی ہے۔ علیحدگی پسند تحریکیں اور دہشت گرد تنظمیں دِن بہ دِن زور پکڑ رہی ہیں۔ عوام نہ صرف مہنگائی کی چکی میںپس رہے ہیں بلکہ ہر طرف مایوسی کے اندھیرے روز بروز گہرے ہو رہے ہیں لیکن یہ سب کے سب ایسے مسائل ہیں جو خلوص نیت اور ایمانداری سے کوشش کی جائے تو حل ہو سکتے ہیں ۔ ہر ملک کے اپنے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ اچھی اور پُر عزم حکومتیں ہی مسائل حل کرتی ہے ۔
ایک دل جلے شہری کے مطابق حکومتی کا رکردگی کیسے اچھی ہو سکتی ہے ۔(معذرت کے ساتھ) کیونکہ جو لوگ کرپشن چارجز پر جیلوں میں رہے وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ جس شخص کو کبھی موم بتی تک جلانے کی ضرورت نہیں رہی وہ وزیر بجلی ہے ۔ جس شخص نے کبھی بس میں سفر نہیں کیا وہ وزیر ٹرانسپورٹ ہے ۔جس کے بچے کبھی سرکاری سکول میں نہیں گئے وہ وزیر تعلیم ہے اور جس شخص نے کبھی سرکاری ہسپتال سے علاج نہیں کرایا وہ وزیر صحت ہے۔ اِیسے نظر آتا ہے کہ حکومت کا زور مسائل بڑھانے پر ہے نہ کہ حل کرنے پر ۔
جناب مسائل برداشت کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ ہو سکتا ہے آپ خلوص نیت سے قومی مسائل حل کرنے چاہتے ہیں ۔ لیکن گزارش صرف اتنی ہے کہ دل جلانے والے بیانات بند کر کے مسائل حل کرنے کی کہیں سے تو’’ابتداء ‘‘کریں باالفاظ دیگر لاٹری جیتنے کیلئے ٹکٹ تو خریدیں۔