اُوبامہ‘ کشمیر اور خطے میں بھارتی سیاسی عزائم

کالم نگار  |  رانا عبدالباقی

یہ ایک حیران کن اَمر ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے اور نئی امریکی قیادت کے اقتدار کے ایوانوں میں اپنی جگہ بنانے سے قبل دنیائے سیاست میں تبدیلی کا ایک ایسا وقفہ حائل ہوتا ہے جس میں کشمیر اور بالخصوص فلسطین میں عوام الناس جن آفتوں سے گذرتے ہیں ، تاریخ کے دریچوں سے اُس کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ۔کیونکہ ایسا تواتر سے ہو رہا ہے لہذا اِس syndrom کو محض اتفاق کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
فلسطین میں الفتح کے قائد یاسر عرفات کی جانب سے 1993 میں اسرائیل اور فلسطین کی دو ریاستوں کے اصول کو تسلیم کر لینے کے باوجود قتل و غارت گری کی یہ داستان سابق صدر سینئر جارج بش کی شکست کے بعد بل کلنٹن کے منصب صدارت پر فائز ہونے کے درمیانی عرصہ میں بھی لکھی گئی اور پھر صدر کلنٹن کے آٹھ سالہ مدت صدارت کے ختم ہونے اور موجودہ صدر بش کے عہد صدارت کے شروع ہونے کے درمیانی عرصہ میں بھی یہی کچھ ہوا اور اب یہی تاریخ نئے امریکی صدر بارک اُ وبامہ کے منصب صدارت کا حلف اُٹھانے سے قبل دھرائی جا رہی ہے ۔ حیرت کی بات یہی ہے کہ بھارت نے آزاد ہونے کے بعد نائین الیون کے وقوع پذیر ہونے تک سوویت یونین اور روس کا اتحادی ہونے کے باوجود خطے میں اپنے مخصوص مفادات کے تحت امریکہ کا دفاعی اتحادی بننے میں دیر نہیں لگائی۔ بھارت امریکہ دفاعی ، ایٹمی اور سیکورٹی تعلقات میں بہتری آنے کے باعث بھارت اسرائیل تعلقات میں بھی غیر معمولی پیشرفت دیکھنے میں آئی کیونکہ اسلحہ کی خریداری میں اب اسرائیل بھارت کیلئے دوسرا سب سے بڑا خریداری کا مرکز ہے ۔ بھارت اسرائیل تعلقات کے اثرات جنوبی ایشیا میں بھی محسوس کئے جا سکتے ہیںکیونکہ بظاہر فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی تقلید کرتے ہوئے اور اِس اَمر کو قطعی بھلاتے ہوئے کہ خطے میں پاکستان بھی ایک ایٹمی طاقت ہے بھارت نے سیاسی بردباری کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ممبئی دہشت گردی کی آڑ میں ، تہذیبوں کی جنگ کے تصور کو انتہائی غیر ضروری طور پر جنوبی ایشیا کے عوام پر مسلط کرنے کی ایک ناکام کوشش کی ہے جبکہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہے اور مغرب کی انسداد دہشت گردی کی جنگ لڑتے ہوئے خود بھی تواتر سے دہشت گردی کاشکار ہے۔ قرائن یہی کہتے ہیں کہ بھارت نئے امریکی صدر بارک اُوبامہ کی جانب سے جنوبی ایشیا میں امن و آشتی کی فضا قائم کرنے کی نیت سے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے مطالبے سے خائف نظر آتا ہے اور صدر اُوبامہ کے منصب صدارت پر فائز ہونے سے قبل ہی دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی صورتحال کو کشیدگی کی معراج تک پہنچا دینا چاہتا ہے تاکہ آنیوالے امریکی صدر کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارتی موقف پر قائل کیا جا سکے ؟ لہذا موجودہ صورتحال اِس اَمر کی متقاضی ہے کہ ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے خطے میں پیدا ہونے والی بدترین سیاسی صورتحال کا انسداد دہشت گردی کے موجودہ تناظر میں تجزیاتی جائزہ لیا جا سکے ۔
ممبئی دہشت گردی کی واردات ایک المناک واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ پاکستان اِس لئے بھی دہشت گردی کے واقعات کی مذمت میں پیش پیش ہوتا ہے کہ بیشتر پاکستانی شہر‘ ممبئی دہشت گردی سے بھی زیادہ بڑی دہشت گرد ی کا شکار بن چکے ہیں ۔لہذا بھارتی سیاسی لیڈر شپ کی جانب سے ممبئی کے المناک واقعے پر معاملات کو سلجھانے کے بجائے یک زبان ہو کر پاکستان کیخلاف جنگی جنون پھیلانے کی کوشش بھی کسی حد تک قابل مذمت ہی ہے ۔
دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کے دانشور ممبئی واردات کے مقاصد کو سمجھنے میں دقت محسوس کر رہے ہیں اور یہی سوال کرتے ہیں کہ کیا بین الاقوامی اور پاکستانی اداروں کو مشترکہ تفتیش اور انٹیروگیشن کی اجازت دیئے بغیر دہشت گردی کی اِس واردات کے اصل حقائق تک پہنچے بغیر بھارت کی جانب سے محض پاکستانی سرکار کو مورد الزام ٹھہرانے سے اِس قضیہ کو حل کیا جا سکتا ہے ؟ کیونکہ محض اجمل قصاب کے پاکستانی ہونے یا نہ ہونے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ نائین الیون کی واردات میں بھی بہت سے ملکوں کے عناصر ملوث پائے گئے تھے البتہ اِس اَمر کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہے کہ اجمل قصاب کو کس نے اور کس مقصد کیلئے استعمال کیا ہے کیونکہ اگر یہ کاروائی کسی بھی ملک کے ریاستی اداروں نے اپنے مخصوص مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجینئرڈ کی ہے تو اِس کاسیاسی فائدہ تو پاکستان کو نہیں بلکہ صریحاً بھارت کو ہی پہنچ رہا ہے ۔ کیا پاکستان کے ریاستی ادارے موجودہ ترقی یافتہ دور میں یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ ہر بین الاقوامی کال مانیٹر ہوتی ہے اور پاکستانی اسلحہ اور دیگر ساز و سامان بین الاقوامی اداروں کے سامنے شہادت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ، تو ایسے کسی احمقانہ آپریشن کی منصوبہ بندی میں خود ہی شہادتیں پیش کر کے دنیا بھر میں اپنا منہ کالا کرینگے ؟ یہ سوال اِسلئے بھی اہم ہے کہ اِس سے قبل پاکستان اور بھارت کے مابین سمجھوتہ ایکسپریس ریلوے لنک اور مالے گائوں بم دھماکوں میں بھی بھارت کی جانب سے نہ صرف پاکستانی جہادی تنظیموں پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی تھی بلکہ اِسی حوالے سے ISI کو بھی مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ بھارت میں اگر پتہ بھی ہلتا ہے تو بھارتی ادارں کی جانب سے الزام ISI پر لگانے کا ہی فیشن بن چکا ہے ، اِس روایت کو اب ختم کر دینا چاہیے اور حقائق تک پہنچنے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔مندرجہ بالا تناظر میں اِس اَمر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ نائین الیون سے قبل اسّی کی دھائی میں کمیونزم کیخلاف پاکستان ، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کی مدد سے امریکہ کی سرکردگی میں لڑی جانیوالی افغان جہاد کے باعث سوویت یونین ٹوٹ گئی تھی۔ لہذا کولڈ وار کے خاتمے ، امریکہ کے واحد سپر پاور بن جانے اور مقصد برآنے کے بعد افغانستان کی مدد کرنے کے بجائے مغربی تھنک ٹینکس خصوصاً یہودی فکر و نظر سے متاثر دانشوروں نے اپنی تحریروں میں کمیونزم کے بعد اسلام کو مغربی سیکولر طرز حکومت اور کیپٹل ازم کی مغربی معیشت کیلئے مستقبل کے خطرے کے طور پر فوکس کیا ۔ نوے کی دھائی میں مغرب میں لکھی جانیوالی دو اہم تحریریں جنہیں نوے کی دھائی میں تو اتنی اہمیت نہیں دی گئی لیکن جو خاص طور پر نائین الیون کے واقعہ کے بعد مغربی فکر و نظر پر اِس طرح سے اثر انداز ہوئیں کہ مغربی فکر کا حصہ ہی بن کر رہ گئیں ۔
اِن تحریروں میں برنارڈ لیوس کا 1990 میں لکھا گیا مقالہ \\\"The Roots of Muslim Rage\\\" اور 1993 میں اِسی مقالے کے مقاصد کو آگے بڑھانے کیلئے سیمول ہٹنگٹن کا مقالہ \\\"The Clash of Civilizations\\\" شامل ہیں جو بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے اِس لئے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ اِن تحریروں میں تہذیبوں کی جنگ کو مہمیز دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اِسی حوالے سے اِن تحریروں کا تذکرہ کرتے ہوئے مفاہمت کے عنوان سے اسلام جمہوریت اور مغرب پر 2008 میں شائع ہونے والی کتاب میں شہید بینظیر بھٹو نے اسلامی طرز فکر کی وضاحت کرتے ہوئے اِن تھنک ٹینکس کی کاوشوں سے پُرزور اختلاف کیا ہے ۔ میری ذاتی رائے یہی ہے کہ نائین الیون کے بعد مغرب کے ذہنوں میں اسلام سے تصادم کی کیفیت پیدا کرنے کیلئے جو پس پردہ کوششیں القاعدہ سے متعلق معدودے چند غیر ریاستی عناصر کی آڑ لیکرکی جا رہی ہیں‘ ان کا توڑ کرنے کیلئے شہید بینظیر بھٹو کے کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت مسلمہ ہے۔بھارت میں فی الوقت دو بڑی قومی سیاسی جماعتیں کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی ، بل ترتیب سیکولر اور قوم پرست ہندو توا فلسفے کی داعی ہیں لیکن بھارت میں موجود ہندو انتہا پسند اکثریت اورانتخابات پر اثرانداز ہونیوالی مسلم اقلیت کے ووٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں یوں تو دونوں پارٹیاں ہی متضاد سیاسی پالیسیوں کا شکار ہیں لیکن پاکستان کو نقصان پہچانے اور اکھنڈ بھارت کے تصور کی تکمیل کے حوالے سے دونوں پارٹیوں میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ کانگریس پارٹی میں نہرو خاندان تقسیم ہند کے زمانے سے ہی پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہے ۔
1971 میں بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندھی کی جانب سے تمام بین الاقوامی اور دوطرفہ تاشقند معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کو توڑ دینا اور 2007 میں اُنکے پوتے راہول گاندھی کی یہ بات کہ شملہ معاہدے کی خلاف ورزی میں یہ کہنا کہ اگر موقع ملا تو کانگریس پارٹی 1971 کی تاریخ کو دہرانے سے بھی گریز نہیں کریگی ، نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، سنگھ پرئیوار کی اہم دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کے معروف سیاسی ونگ کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہے اور آر ایس ایس کی اکیاسی ویں وجے دشمی کانفرنس میں آر ایس ایس چیف سدھرشن ، آر ایس ایس کے بھارتی فوج سے تعلق کے حوالے سے واضع طور پر کہہ چکے ہیں کہ بھارت میں آر ایس ایس ہی وہ طاقت ہے جو پاکستان ، بنگلہ دیش اور بھارت کو ملا کر اکھنڈ بھارت بنا سکتی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مستقبل کے وزیراعظم، ایل کے ایڈوانی کا شمار بھی اکھنڈ بھارت کے زبردست حامیوں میں کیا جاتا ہے۔
اندریں حالات پاکستان کی موجودہ لیڈرشپ کو جو بھٹو فیملی کے مشن کو آگے بڑھانے کا دعویٰ کرتی ہے بھارتی عزائم کے حوالے سے ذولفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تعلیمات کا سنجیدگی سے مطالعہ کر تے ہوئے خطے میں بھارتی عزائم کا تدارک کرنا چاہیے کیونکہ ممبئی دہشت گردی کے واقعات پر موجودہ حکومت کی کارکردگی قابل رشک ہرگز نہیں ہے بلکہ اِسکے برخلاف سول سوسائٹی حکمرانوں کی سوجھ بوجھ سے عاری حکمت عملی سے سخت مایوسی کا شکار ہے جبکہ عوام الناس بھارتی عزائم کے سامنے حکومتی بے بسی پر معجزات کے منتظر ہیں ؟