ممبئی دہشت گردی کے پیچھے کون ہے ؟ … (۲)

کالم نگار  |  رانا عبدالباقی

اِس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ممبئی میں دہشت گردی کی موجودہ المناک واردات کے حوالے سے بھارتی ریاستی اداروں اور میڈیا کی جانب سے درست نتائج اخذ کرنے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے بجائے اِس کاروائی کو محض پاکستان کیخلاف پوائنٹ اِسکور کرنے اور الزامات کی ایک نہ ختم ہونے والی بے معنی بحث کا محور بنا کر پاکستان، بھارت تعلقات میں بگاڑ کی نئی دیوار قائم کرنے پر ہی تمام تر صلاحیتیں صرف کر دی گئیںاور خطے میں آبرومندانہ امن کو فروغ دینے کے بجائے عوامی سطح پر خوف و ہراس اور مایوسی کی فضا قائم کر دی گئی ہے جو خطے کے امن کیلئے اچھا شگون نہیں ہے۔
دریں اثنا ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی میڈیا اور سرکاری ذرائع سے اب تک جو بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں ، اُنکے تجزیاتی جائزے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مستند شہادت سے محروم پاکستان مخالف الزامات کی درست پیرائے میں تفتیش و تحقیق کرنے کے بجائے بھارتی حکومت ، انتہا پسند ہندو تنظیمیں اور بیشتر اپوزیشن سیاسی جماعتیں اپنی اپنی سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے حقائق کو پس پشت ڈالتے ہوئے دہشت گردی کی اِس کاروائی کو دھویں کے بادلوں میں چھپانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ انتہا پسند ہندو اِس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے خطے میں نفرت کی سیاست کو پھر سے اُبھارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اِس اَمر پر حیرت ہوتی ہے کہ بھارتی لیڈرشپ اور مقتدر ادارے دہشت گردی کی اِس واردات پر خاطر خواہ غور و فکر کرنے اور درست پیرائے میں تفتیش کے عمل کو آگے بڑھانے کے بجائے بھارت میں انتخابی عمل کے حوالے سے محض اپنے اپنے مخصوص سیاسی مفادات کو ہی پیش نظر رکھے ہوئے ہیں اور اِس المناک واردات کے گرد پاکستان مخالف الزامات اور مفروضوں کا جال بُن کر تمام ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتے ہیں ۔ وہ دہشت گردی کی اِس بہیمانہ واردات کی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ مستند شہادتوں کے بغیر پاکستان پر ڈالتے ہوئے بھی یہ نہیں بتا پا رہے ہیں کہ مبینہ طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے اِن دہشت گردوں کو ممبئی کے ہائی سیکورٹی زون میں باآسانی آپریٹ کرنے اور بیباکی سے اپنا ظالمانہ مشن پورا کرنے کیلئے logistic support کن مقامی بھارتی ایجنٹوں یا دہشت گرد گروپوں کی جانب سے دی گئی تھی ۔
یہ بات سمجھ میں نہیں آتی اور نہ ہی اِس بارے میں وثوق سے کچھ کہا جا سکتا کہ بھارتی مقتدر ادارے انسداد دہشت گردی کے کسی Standing Operational Procedure پر عملدرامد کئے بغیر ممبئی کی ٹارگٹ بلڈنگز میں دہشت گردی کی صورتحال پر قابو پانے یا محض چند (تقریباً دس ) دہشت گردوں جو ممبئی کے پانچ سات مقامات پر بکھرے ہوئے تھے پر قابو پانے میں 60 گھنٹوں تک کیا مشاورت کرتے رہے کیونکہ قرائین تو یہی کہتے ہیں کہ اِن دہشت گردوں کو زخمی حالت میں زندہ پکڑنے کے بجائے بھارتی اداروں نے اِن دہشت گردوں کو جان سے مار دینے کی اسٹریٹجی ہی اپنائی تھا اور ایک دہشت گرد کا زندہ بچ جانا یا تو ایک معجزہ ہی تھا یا پھر اِسے بھی پاکستان پر ملبہ ڈالنے کی اِسٹریٹجی کا حصہ ہی بنایا گیا تھا َ؟
حیرت ہے کہ بھارتی حکومت اِن دہشت گردوں کے ممکنہ عزائم کو سمجھنے اور اِنکے مقامی ایجنٹوں کو expose کرنے میں کیوں ناکام رہی اوراپنی قومی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہوئے بے خبری کا مظاہرہ کرتی رہی یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بھارتی اداروں کو بہت سی وضاحتیں دینی چاہئیں ؟
اگر یہ دہشت گرد گجرات کاٹھیاوار سے منسلک سندھ کی ساحلی پٹی، شاہ بندر وغیرہ سے ریاست گجرات ہوتے ہوئے ممبئی میں داخل ہوئے تھے تو بھارتی ایجنسیوں اور امریکی فرینڈلی ایجنسی کی جانب سے مبینہ دہشت گردوں کے سمندری راستے سے بھارت میں ممکنہ داخلے کی پیشگی اطلاعات حاصل ہونے کے باوجود ، جس کا تذکرہ اب امریکی اداروں کی انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے بھی کیا گیا تو ممبئی میں وسیع تر انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کی موجودگی میں ایشیا کی سب سے بڑی نیوی کو سمندری راستوں سے بھارت آنے والے دراندازوں کی روک تھام کی ذمہ داری کا حامل ہونے کے باوجود کشتیوں میں سوار یہ دہشت گرد اسلحہ و گولہ بارود کیساتھ ممبئی کے ہائی سیکیورٹی زون میں کیسے داخل ہو گئے جبکہ افغانستان اور پاکستان میںدہشت گردی کی وارداتوں کے حوالے سے ایشیا کی سب سے بڑی انڈین نیوی جو امریکی معاہدوں کا حصہ ہونے کے باعث نہ صرف پاکستان اور خلیج سے آنیوالے فشنگ ٹرالرز اور دیگر کشتیوں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھتی ہے بلکہ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی زیر قیادت ،دہشت گردی کیخلاف بین الاقوامی جنگ اور پاکستان کے فرنٹ لائن ریاست ہونے کے ناطے صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے جاری اپریشن، عراق جنگ ، امریکہ ایران و ایران اسرائیل جوہری کشیدگی کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بھارتی نیوی ، امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کی روشنی میں خطے میں متحرک ہے ۔
مندرجہ بالا تناظر میں انڈین نیوی اور نیول طیاروں کی مسلسل نگرانی کے باوجود حیرت ہوتی ہے کہ یہ دہشت گرد مناسب سیکیورٹی چیکس کے حامل تاج محل و اُبرائے ٹرائی ڈینٹ ہوٹل اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل یہودی اسرائیلی سینٹر نریمان ہائوس تک پہنچنے اور رہائشی کمروں میں حساس اسلحہ رکھنے میں کیونکرکامیاب ہوئے ؟ ایسا یقینا لوکل سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں تھا ۔
یہ کہا گیا کہ بھارتی نیوی نے دہشت گردوں کو ممبئی لانے کے سلسلے میں مبینہ طور پر دو پاکستانی بحری جہازوں کو قبضہ میں لیا تھا لیکن حقائق یہی کہتے ہیں کہ اِن میں سے کوئی بھی جہاز پاکستانی نہیں تھا ؟ پہلے کہا گیا کہ کشتیوں میں سوار دہشت گرد 26 نومبر کو ریاست گجرات کے راستے ممبئی پہنچے تھے لیکن پھر یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گرد وں کا یہ گروپ چبحری راستے سے ایک ماہ قبل ممبئی پہنچا تھا لیکن ممبئی پولیس اور دیگر انٹیلی جنس ادارے اِس اَمر کی وضاحت نہیں کرتے کہ دہشت گردوں کے پاس اتنا زیادہ حساس اسلحہ کہاں سے آیا اور بھارتی ہوٹل سیکورٹی اور نریمان ہائوس میں اسرائیلی سیکیورٹی کی موجودگی میں اِسے کس طرح ٹارگٹ ایریا میں لایا گیا اور اِن ہوٹلوں و نریمان ہائوس میں موجود محض دو یا تین دہشت گردوں نے اتنی زیادہ فائر پاور کا مظاہرہ کیونکر کیا جبکہ ممبئی میں سیکورٹی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھر مار ہے ؟ واحد مبینہ دہشت گرد جسے زندہ پکڑا گیا کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ملتان کے نزدیک فرید کوٹ کا رہائشی ہے لیکن بی بی سی کی ایک تفتیشی رپورٹ کے مطابق ایسے کسی بھی دہشت گرد کا تعلق فرید کوٹ نامی کسی گائوں یا قصبے میں نہیں پایا گیا ۔ ایک ای میل میں دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں کا تعلق پہلے سے نہ سنے گئے دکن مجاہدین سے ہے ۔ یہ ای میل مبینہ طور پر لاہور سے بھیجی گئی لیکن امریکی تحقیق نے اِس میل کو روسی آئی پی کے حوالے سے بیان کیا ہے جسے کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے بیرونی لنکس لاہور ہی نہیں دنیا کے کسی بھی شہر سے جاری کر سکتے تھے اور اِسے کسی طرح بھی حکومتِ پاکستان کیخلاف ایک مستند شہادت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا ؟ اِس اَمر کو بھی مد نظر رکھنا چاہئیے کہ جہادی تنظیموں کے علاوہ بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیموں خاص طور پر ویشوا ہندو پریشد (World Hindu Organization) ، آر ایس ایس ، اور بجرنگ دل یا ہندو یونٹی کے ایکسٹرنل لنکس دنیا بھر بشمول پاکستان میںموجود ہیں اور دہشت گردی کی ایسی کسی بھی واردات میں استعمال ہو سکتے ہیں ؟ دکن مجاہدین کے حوالے سے دہشت گردوں کے بیانات بھارتی میڈیا اور چینلز پر کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے بھی بیان کئے گئے جن سے یہ نتائج اخذ کرنا کہ دہشت گردی کی اِس کاروائی میں پاکستانی ، بنگلہ دیشی یا بھارتی اسلامی جہادی تنظیمیں ملوث ہیںکو بھی مستند شہادت کے بغیر کوئی بھی الزام ناقابل فہم ہی سمجھا جائے گا ۔ اگر بھارتی ادارے اور میڈیا مقامی سپورٹ کے عمل کو مکمل طور پر expose کئے بغیر دہشت گردی کی اِس واردات کو مقامی دہشت گردوں کی complicity کے عنصرسے علیحدہ رکھتے ہوئے بِلا کسی شہادت کے الزام پاکستان پر عائد کرنے پر اصرار کرتے ہیں تو بات عام فہم کے ادراک سے بھی باہر ہو جاتی ہے۔
فی الحقیقت دہشت گردی پر مبنی عراق ، افغانستان اور پاکستان میں ہونیوالے خود کش حملے اور ممبئی دہشت گردی، دو بالکل ہی مختلف واقعات و معاملات ہیں۔ اہم سوال یہی ہے کہ کیا باہر سے آنیوالے مبینہ دہشت گردوں کیلئے مقامی سپورٹ ایجنٹوں کی مدد کے بغیر یا بھارتی سیکورٹی انٹیلی جنس کی نظر میں آئے بغیر ٹارگٹ ایریا کے بلڈنگ اسٹرکچرز کی معلومات حاصل کرنااور اِن اُس سے منسلک گلیوں، محلوں، بازاروں اور شاہرائوں کی متعدد مرتبہ بخوبی Recce کرنا ممکنات میں تھا ؟ کیونکہ چند افراد کیلئے مضبوط مقامی ایجنٹوں کی مدد کے بغیر ممبئی کے وسیع و عریض علاقے پر پانچ سے زیادہ مقامات پر پھیلا ہوا کوئی بھی آپریشن با آسانی کامیابی سے ہمکنار نہیں کیا جا سکتا؟
جبکہ بھارتی معیشت کے حوالے سے ممبئی جیسے اہم شہر میں موجود مقتدر ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنیوالے بحری و شہری اداروں کی ہر وقت متحرک موجودگی میں مضبوط مقامی سپورٹ کے بغیر ممبئی میں کافی دنوں تک اپنے آپ اور اسلحہ کو کسی پبلک پلیس پر چھپائے رکھنا بھی ایک بہت ہی مشکل اَمر ہوتا ہے ۔
یہ کہنا کہ یہ دہشت گرد ایک لمبی مدت تک ممبئی میں رہتے ہوئے اسلحہ جمع کرتے رہے ، Recce کرتے رہے اور اپنے آپکو ایجنسیوں کے سامنے expose ہونے سے بچاتے رہے بغیر کسی مضبوط مقامی سپورٹ کے کیسے ممکن ہے کیونکہ یہ کوئی خودکش حملہ آور نہیں تھے جو کسی خفیہ مقام سے اچانک آئے اور دھماکہ کرکے شہادت بھی اپنے ساتھ ہی ختم کر گئے ۔ کیا اِس تمام صورتحال کے بارے میں بھارتی بحریہ ، سیکورٹی پولیس ، انٹیلی جنس ، سپیشل برانچ اور دیگر انتظامی اداروں کو کافی وضاحتیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور کیا محض اِس مکمل ناکامی پرسیاسی قیادت کے کچھ اراکین کے مستعفی ہونے سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے ؟
یہ وہ اہم سوالات ہیں جو فی الوقت انسداد دہشت گردی کے بہت سے دانشوروں کے ذہن میں چبھ رہے ہیں کیونکہ جس انداز میں ممبئی دہشت گردی کے ممکنہ عزائم کو دہشت گردوںاور بھارتی میڈیا و سیاسی و سماجی لیڈرشپ کے جاری کردہ بیانات میں بتایا کیا گیا ہے اُن میں نہ صرف مکمل مماثلت ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انتہا پسند ہندو حمایت یافتہ بھارتی اداروں کو اِن ظالمانہ عزائم کے حوالے سے دہشت گردوں کی پیشگی تائید حاصل تھی۔ قرائین یہی کہتے ہیںکہ دہشت گردی کی اِس المناک واردات کی ابتدا سے ہی دہشت گردوں اور سیاسی انتظامیہ کے مقاصد ایک جیسے ہی نظر آتے تھے یعنی بڑی ہی یکسوئی سے دہشت گردی کی اِس واردات کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جائے ۔ (جاری ہے)