گوجرنوالہ اور مانسہرہ سے پی ٹی آئی کے نوحہ گر

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری
گوجرنوالہ اور مانسہرہ سے پی ٹی آئی کے نوحہ گر

سرگودھا میں مغل اعظم کے نام سے ایک سٹیج ڈرامہ پیش کیا گیا۔ 13 دن ریہرسل ہوتی رہی۔ پھر 12 دن تماشائیوں نے بھرپور دلچسپی سے دیکھا۔ اس ڈرامہ میں ایک نوعمر لڑکے نے اکبر بادشاہ کا کردار ادا کیا تھا۔ اس بات کو تقریباً ربع صدی گزر چکی ہے‘ لیکن اگر آپ سرگودھا جائیں تو آپ کو شہر کے کسی گلی کوچے‘ بازار میں وہ اب بھی اک مضحکہ خیز شاہی چوغہ پہنے دونوں ہاتھوں سے تالی بجاتا اور تخلیہ تخلیہ پکارتا دکھائی دے گا۔ وہ اپنے آپ کو اکبر اعظم سمجھتا ہے۔ چھوٹے بندوں کو زندگی میں چند روز کیلئے کوئی بڑا رول مل جائے تو وہ عمر بھر اس کی سرمستی اور وارفتگی سے نہیں نکل پاتے۔ اس میں ان کا کوئی اختیار اور بس بھی نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ لاہور سے ٹیلیفون پر ایک دوست مجھے بتا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا تھا ” کیا سینیٹر کبھی ریٹائر نہیں ہوتا؟“ مسئلہ یہ درپیش تھا کہ ان دنوں فیصل آباد سے طارق علی چودھری نے ایک اخبار میں کالم لکھنا شروع کیا ہے۔ کالم کے سرنامہ پر ان کا نام سینیٹر طارق علی چودھری لکھا ہوتا ہے۔ برسوں پہلے وہ کبھی سنٹر ضرور رہے ہیں‘ لیکن اب نہیں۔ اخبار والے کالم کے اختتام پر ”کالم نگار‘ سابق سنیٹر ہیں“ لکھ کر سرنامہ پر دھڑلے سے لکھے لفظ سنیٹر سے اپنا پنڈ چھڑا لیتے ہیں‘ لیکن چودھری صاحب ہیں کہ اپنے نام کے ساتھ بدستور لکھے جا رہے ہیں۔ جب ہم نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان دنوں طارق علی چودھری اس جماعت میں خاصے معتبر ہوا کرتے تھے۔ سارے فیصل آباد ڈویژن کے کرتا دھرتا یہی بتائے جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ 2013ءکے الیکشن سے پہلے فیصل آباد میں ایک کسان ریلی نکالی گئی۔ عمران خان فیصل آباد میں گاﺅں گاﺅں گھوم رہے تھے۔ طارق علی چودھری خان صاحب والی گاڑی میں سوار تھے۔ راستے میں تھوڑی دیر کیلئے وہ احسن رشید کی گاڑی میں آن بیٹھے۔ عمران خان کے برے دنوں کا یہ اچھا ساتھی خان صاحب کے اچھے دنوں سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ چودھری صاحب مرحوم و مغفور احسن رشید سے کہنے لگے کہ ”ادھر کم از کم آدھی قومی اسمبلی کی سیٹیں جیت کر میں آپ کے حوالے کر دوں گا۔“ پھر الیکشن میں نہ ہی انہیں ٹکٹ ملا اور نہ ہی فیصل آباد میں تحریک انصاف کسی نشست پر کامیاب ہو سکی۔ یہ جماعت میں نظرانداز کر دیئے گئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تحریک انصاف کے مینار پاکستان والے دوسرے جلسہ عام میں‘ میں اسٹیج پر نہ چڑھ سکنے کے باعث فٹ پاتھ کےساتھ ساتھ مختصر سے گھاس کے تختہ پر گوجرانوالہ کے ضلعی صدر رانا نعیم الرحمن خان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ طارق علی چودھری بھی وہیں ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ تحریک انصاف میں ساری اہمیت اعجاز چودھری ہی سمیٹ کر لے گئے تھے۔ نجانے کیا بات تھی کہ جس نے بھی جماعت اسلامی چھوڑی یا وہاں سے نکالا گیا‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت نیچے آکر سن لی۔ اسے دنیاوی طورپر بہت رنگ روپ چڑھا۔ میرا امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق کو یہی مشورہ ہے کہ اگر وہ صدر پاکستان یا وزیراعظم پاکستان بننے کے خواہاں ہیں تو ذرا جماعت چھوڑکر سفر کا آغاز کریں۔ ایک روز خبریں اکٹھی ہی ہمارے علم میں آئیں۔ پہلی یہ کہ اعجاز چودھری پنجاب تحریک انصاف کی صدارت سے اتر گئے اور دوسری خبر یوں تھی کہ ان کے تمام بینک قرضے بھی اتر گئے۔ ہمیں ان کی صدارت سے اترنے کی خبر اخبارات سے ملی اور بینک قرضوں کی بابت رانا نعیم الرحمن خان نے بتایا تھا۔ اللہ دونوں کی محبت‘ الفت اور راز و نیاز قائم رکھے کہ یہ تعلق دونوں کو بہت ”سود مند“ ہوا ہے۔ جسٹس وجیہہ الدین نے تحریک انصاف کا انٹرا پارٹی الیکشن غیر شفاف ہونے کے باعث کالعدم قرار دیکر سوائے عمران خان‘ تمام عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے فارغ کر دیا تھا۔ ملکی الیکشن میں دھاندلیوں کے خلاف عظیم الشان تحریک چلانے والے صاف شفاف عمران خان اپنے انٹرا پارٹی الیکشن میں دھاندلیوںپر نجانے کیوں چشم پوشی سے کام لے رہے ہیں۔ 

یہ جناب شیخ کا فلسفہ مری سمجھ میں نہ آ سکا
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے
القصہ، عمران خان نے تاحکم ثانی تمام عہدیدار بحال کر دئیے ہیں اور جسٹس وجیہہ الدین کو فارغ کر دیا ہے۔ ہمارے کرپٹ معاشرے میں جسٹس وجیہہ الدین جیسے لوگ ہی کسی شہر، بستی یا سیاسی جماعت کی عزت میں بڑھاوے کا باعث بنتے ہیں۔ اب اعجاز چودھری ہی پنجاب تحریک انصاف کے صدر ہیں۔ بحالی کے اس اقدام کے سلسلہ میں عمران خان کے پاس کوئی جواز یقیناً ہو گا۔ مجھے یاد آگیا کہ ایک جواز ہمارے سادہ لوح اسرار زیدی کے پاس بھی تھا۔ ماہنامہ ”تخلیق“ کے ایڈیٹر اظہر جاوید لکھتے ہیں میں نے دیکھا کہ ایک روز اسرار زیدی ٹی ہاﺅس میں اکیلے بیٹھے تھے۔ چہرے سے بیزاری ٹپک رہی تھی اور قدرے تکلیف میں دکھائی دے رہے تھے۔ پوچھا ”خیریت تو ہے“ بڑے درد بھرے لہجے میں کہنے لگے ”بھائی کیا بتاﺅں، ایک گھنٹے سے صوفے کا سپرنگ میری کمر کو چبھ رہا ہے۔،، میں نے حیرت سے پوچھا کہ آپ اپنی سیٹ کیوں نہیں بدل لیتے وہ تقریباً غصے میں بولے کس سے بدلوں سارا ہال تو خالی پڑا ہے۔ ایک سوال ہے کہ ان دنوںتحریک انصاف کے حالات کیا ہے۔ اس سوال کے جواب کے لئے آپ کالم نگار توفیق بٹ کا تازہ کالم ضرور پڑھیں یہ صاحب بہت سی وہ تلخ حقیقتیں لکھتے رہتے ہیں جو بہت سے دوسرے کالم نگار بوجوہ نہیں لکھ سکتے۔ مجھ سے آپ ایک سکھ کا واقعہ سن لیں۔ اس میں ہمارے سارے حالات کی تصویر نظر آتی ہے۔ بحری جہاز ڈوب رہا تھا۔ ایک انگریز پوچھنے لگا۔ یہاں سے زمین کتنی دور ہے؟ سردار جی بولے ”ایک کلومیٹر “ انگریز نے سمندر میں چھلانگ لگاتے ہوئے پوچھا ”کس طرف“ سردار جی بولے! ” تھلے نوں“ تحریک انصاف کے گوجرانوالہ سے NA-96 کے سابق امیدوار ایس اے حمید چیخ رہے ہیں۔ کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں ٹکٹوں کے تقسیم کا 2013ءوالے الیکشن والا منظر نامہ ہے وہ یہ احتجاج لے کر اعجاز چودھری کے پاس لاہور پہنچے۔ پنجاب تحریک انصاف کے دفتر میں دونوں کے درمیان خوب جھگڑا ہوا اس عمر میں دونوں زبان سے ہی کام لے سکتے تھے۔ سو دونوں نے اس کا خوب استعمال کیا۔ مانسہرہ سے نوجوان ذیشان شانو، تن من دھن سے عمران خان اور تحریک انصاف پر قربان ہیں۔ آپ مانسہرہ میں بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹوں کی غلط تقسیم پر اعظم سواتی کا رونا رو رہے تھے وہ دھرنا کے سلسلہ میں دونوں جوانوں کے چندے کا ایک کروڑ روپیہ خرد برد کر لینے پر بھی واویلا مچا رہے تھے۔ پرسوں رات گئے وہ فون پر میرے ساتھ کسی کال میں مصروف رہے۔ یہ سب لوگ پاکستان میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں رہی تبدلی کی بات! ہم ابھی صرف انٹرا پارٹی الیکشن میں کرپشن کی نشاندھی کرنے والے جسٹس وجیہہ الدین ہی تبدیل کر سکے ہیں۔
نہ وہ بدلے نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیسے اعتبار انقلاب آسماں کر لوں
پس تحریر: یہ گوجرانوالہ ہے۔ پچھلے دنوں ایک وفاقی وزیر سے پوچھا گیا ”آپ نے 77 کروڑ مالیت کی اسلام آباد میں کوٹھی کیسے خریدی؟“ جواب آیا: ”مجھے سسرال والوں نے لیکر دی ہے۔“ پھر پوچھا گیا ”کیا انہوں نے اپنے سارے دامادوںکو ایسی کوٹھیاں لیکر دی ہیں؟“ اب جواب میں لہجہ قدرے درشت تھا۔ جواب آیا : ”دیکھو! اب تم ذاتیات پر اتر آئے ہو۔“ اس پر وہ بھی چپ ہو گیا۔ ہم بھی چپ ہو جاتے ہیں۔