پاکستان بچانے کی جنگ

کالم نگار  |  عتیق انور راجا
پاکستان بچانے کی جنگ

جنگیں صرف محاذ پر ہی نہیں لڑی جاتیں بلکہ ملکوں کے اندر بھی بہت سارے محاذ ہوتے ہیں، بہت سارے چیلنجز ہوتے ہیں، بہت سارے ناممکن مراحل ہوتے ہیں جنہیں حل کر کے قومی شناخت کو باقی رکھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اس وقت اسے اپنے اردگرد موجود ملکوں کی در اندازی کا مسئلہ بھی درپیش ہے اور اس کے اندر بھی ایسی منفی قوتیں مختلف طبقۂ فکر کے لوگوں کو اپنا آلۂ کار بنا کر یا اپنی چالاکی سے ان کے اندر گھس کر پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی سازش میں لگی ہوئی ہیں۔ بیرونی حملہ آوروں کو روکنا آسان ہوتا ہے لیکن اندرونی سازشوں سے نمٹنا زیادہ مشکل ہوتا ہے اور پھر اس وقت جب بڑے بڑے سیاسی رہنما بھی ایسی قوتوں کے آلۂ کار بن جائیں۔ تحریک انصاف نے پچھلے کئی مہینوں سے دہشت گردی کے باوجود اپنا الگ طرزِ احتجاج اپنائے رکھا اور عوام اور دنیا کی نظریں دہشت گردی کی بجائے خود پر مرکوز رکھیں جس کی وجہ سے دہشت گردوں کو کھلی چھٹی ملی رہی۔ آج کل بھی وہ صرف احتجاج برائے احتجاج پر ہی یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور مقصد صرف حکومت کو ناکام کرنا ہے جس کو دوسرے معنوں میں ملک کو ناکام کرنا کہا جا سکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومتی منصوبوں کی چھان پھٹک کریں، اپنی رائے دیں، ان کا محاسبہ کریں مگر ان کی سوئی صرف چند سیٹوں کے احتساب پر اٹکی ہوئی ہے۔ کراچی میں ایک الگ ماحول بن گیا ہے۔ بڑے سالوں بعد رینجرز کی کارروائی کے بعد کراچی میں امن کی صورت پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ کراچی اس وقت پورے ملک کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہر روز نئے نئے انکشافات اور اعترافات ہوتے رہتے ہیں۔ نبیل گبول نے ایم کیو ایم کی قیادت سے اپنے اختلافات کی بناء پر اپنی انتخابی نشست سے استعفیٰ دے کر کراچی کے اندر ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اصل میں پہلی بار کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر عمران خان کے امیدواروں نے الطاف حسین کو چیلنج کیا ہے قطع نظر اس کے کہ الیکشن والے دن کس کو عوام اپنے قیمتی ووٹ دیتے ہیں۔ اس وقت لفظی جنگ اپنے عروج پر ہے۔ اس انتخاب کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ اس حلقے میں بالکل ہی خاموش ہیں۔ ان دونوں نے اپنا کوئی بھی نمائندہ اس سیٹ پر کھڑا نہیں کیا، ہاں جماعت اسلامی نے اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے اور جماعت اسلامی کا یہاں ایک بہت واضح ووٹ بینک بھی ہے۔ جماعت کے رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آزادی سے الیکشن ہوئے تو جماعت اسلامی ایم کیو ایم کو ٹف ٹائم دے گی۔ یوں اس بار اس سیٹ پر تین جماعتیں ہی آمنے سامنے ہیں۔ ایم کیو ایم اور عمران خان صاحب تو دونوں ہی منفرد انقلابی لیڈر ہیں۔ جب جیت جاتے ہیں تو عوام کے ہر دلعزیز کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام کا اصل رہنما اور جمہوریت کا چمپین کہتے ہیں لیکن جب ان کی جماعت کا کوئی بھی لیڈر اپنی سیٹ ہار جاتا ہے تو یہ اپنے ساتھ نا انصافی اور محرومی کا رونا رونے لگ جاتے ہیں۔ اس وقت ان دونوں جماعتوں کے لیڈروں کو سارے ہی ملکی ادارے اپنے خلاف نظر آتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں لیڈر ہی اپنے بیانات روزمرہ کی بنیاد پر بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی عمران خان کے جلسوں میں ایم کیو ایم والے تعاون کرتے تھے مگر آج کل دونوں آمنے سامنے ہیں۔ یہ آمنا سامنا بھی عجیب ہے، کبھی پھولوں سے استقبال ہوتا ہے اور کبھی گالم گلوچ سے۔ اس حوالے سے میاں نواز شریف کا یہ بیان حقیقت کے قریب محسوس ہوتا ہے کہ ایسی قیادت جو یو ٹرن لینے میں ماہر ہو اور اس کے فیصلے دانشمندانہ ہونے کی بجائے جذباتیت کے حامل ہوں وہ ملکی ترقی کی ضامن کیسے ہو سکتی ہے؟ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شہرِ قائد کا امن بحال کیا ہے۔ اسی طرح وہ پورے ملک میں امن کی فضا قائم کریں گے اور اپنے دفاعی اداروں کی بھرپور پذیرائی کریں گے۔ تحریک انصاف کے پاس خیبر پختونخواہ ایک بہترین تجربہ گاہ تھی مگر وہ اس میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں اس لئے اب انہیں بڑے بڑے دعوے کرنے کی بجائے خیبر پختونخواہ پر ہی توجہ دینی چاہئے تا کہ ان کے اعمال کی طشتری میں بیانات کے علاوہ کچھ تو عملی کام موجود ہوں۔ پنجاب اس حوالے سے سب سے آگے ہے۔ اگر وہ پنجاب کی پیروی کرتے ہوئے منصوبہ بندی کریں تو یقینا کامیابی ان کا مقدر بنے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پاکستان بچانے کی جنگ جیتنے کی بات کر کے سب کے حوصلے بلند کر دیئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی جنگ توانائی کی جنگ ہے، وسائل کی جنگ ہے، اگر پاکستان میں موجود وسائل تک رسائی حاصل ہو جائے تو ہمارا ملک دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔ اسی طرح اگر بجلی کا بحران حل کر لیا جائے تو صنعتی ترقی اپنے عروج کو چھو سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے آزاد کرا کے دم لیں گے۔ اس وقت پوری قوم افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور آج بقا کے مسئلے نے پوری قوم کو ایک کر دیا ہے اور ان کے اندر نیا عزم بیدار کر دیا ہے۔ پنجاب میں 3600 میگا واٹ بجلی کے حصول کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب ہمارے اردگرد چھائے اندھیرے دور ہو جائیں گے ۔