عمران خان کی قلا بازیاں

کالم نگار  |  شاذیہ سعید
عمران خان کی قلا بازیاں

بڑھکیں مارنا، عدلیہ کی توہین کرنا، حکومت کا مذاق بنانا، نوجوانوں کو جھوٹے لارے دینا انہیں سڑکوں پر گھسیٹنا، پارلیمنٹ ہاو¿س کے سامنے جمع ہو کر اسمبلیوں کو جھوٹا قرار دینا اور للکار لگانا کہ وہ نہ اسمبلیوں کو مانتے ہیں اور نہ ہی اس میں کبھی قدم رکھیں گے۔ ایسا ہی ایک دعویٰ اس وقت بھی سامنے آیا جب انہوں نے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا لیکن یہ کیا شادی ہوتے ہی غبارے سے ہَوا نکل گئی اور وجہ کیا سامنے آئی ”جی میرے بچے ٹھنڈے پانی سے نہا نہیں سکتے اسی لئے بل ادا کر رہا ہوں۔“ اُف ان لوگوں کے خواب کیسے چکنا چور ہوئے جنہوں نے جوش ہی جوش میں ایک اناڑی کے پیچھے لگ کر سول نافرمانی کی صورت میں اپنے ہی ملک سے غداری کی۔ جناب ہم اور کسی کی نہیں اپنے پیارے عمران خان صاحب کی بات کر رہے ہیں جو جب بھی منظر عام پر آتے ہیں کوئی نہ کوئی دھماکہ ضرور کرتے ہیں لیکن اس دھماکے کی آواز چند گز تک ہی سنائی دیتی ہے پھر اس کی ہوا نکل جاتی ہے اور عمران صاحب کو الٹے قدموں واپس بھاگنا پڑتا ہے۔

ہم دور کیوں جائیں الیکشنز سے اب تک کا جائزہ لیں تو یہ بات آئینے کی مانند واضح ہو جائے گی کہ محترم کو قلابازیاں لگانا بیحد پسند ہے پہلے کرکٹ کے میدان میں لگاتے تھے اور اب سیاست کو اپنا اکھاڑا سمجھ لیا ہے۔ یہ الیکشنز 2013ءکے دنوں کی بات ہے جب اچانک سے عمران خان نے پی ٹی آئی کی بدولت چند مانگے کے لیڈروں کے ساتھ مل کر میدان مارنے کا سوچا۔ اس وقت ہر خاص و عام کی طرح ہماری سوچ یہی تھی کہ اس بار عمران خان کو موقع ضرور ملنا چاہےے تاکہ ہم بھی تبدیلی کے نئے دور کی جھلک دیکھ لیں اور آج تک اس خواہش پر اللہ کی پناہ مانگ رہی ہوں کہ ایسا سوچا بھی کیونکر۔ جناب یوں تو وہ بھلے آدمی لگتے تھے لیکن جب تک کرکٹ میں تھے سیاست انکے بس کی بات نہیں ہے یہ وہ خود ہی ثابت کر چکے ہیں۔ میرا دل اس وقت ان سے اُچاٹ ہوا جب لاہور سے یہ کہہ کر نکلے کہ کراچی کے حالات پر ایم کیو ایم سے بات کرنے جا رہے ہیں لیکن مارے حیرت کے اس وقت میرا منہ کھل گیاجب وہ محض مزار قائد پر حاضری دیکر کر پلٹ آئے۔ اس وقت مجھے انکے ارادوں کی کمزوری کی بھنک لگ گئی اور میں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیاکہ یہ حضرت کوئی بڑی ہی تبدیلی لائیں گے لیکن خواب میں۔ حقیقت میں یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ خیر سے آج کل تو ایم کیو ایم کے خلاف تیر چلا ئے جا رہے ہیں ؛لیکن کب جب حکومت کراچی سے بد امنی کو دور کرنے میں 56% کامیاب ہو چکی تھی اور الطاف بھائی کی بنیادیں ہل چکی تھیں۔ایسے میں تو کوئی بھی شیر کی کھچار میں ہاتھ ڈال سکتا ہے جب اسے یقین ہو کہ شیر سو رہا ہے، اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ کراچی کے لوگ جن کے بارے میں عمران خان یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ ان لوگوں نے بہت اچھے اندازسے استقبال کیا تو جناب ذرا سوشل میڈیا پر بھی ایک نظر کرم کر لیجئے کہ وہاں پر آپ کا استقبال کس انداز سے ہو رہا ہے۔ جس یوتھ کو کندھے پر بٹھا کر آپ سڑکوں تک لے آئے اور وہیں پٹخ کر اپنی نئی دنیا میں مگن ہو گئے وہی یوتھ اب آپ پر بھروسہ نہیں کرتی کیونکہ انہیں بھی آپ کے چھلکتے ہوئے اصلی رنگ نظر آچکے ہیں۔ ہاں ابھی بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو منتظر ہیں کہ کب آپ بین بجائیں اور وہ بل کھاتے ہوئے آپ کے ہمراہ چل پڑیں۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ماڈل ٹاو¿ن میں ہوئے ہنگامہ خیز واقعے نے جہاں قادری صاحب کے خونی ارادے سب پر وا کئے اور حکومت کی کمزوری کو سب کے سامنے لا کھڑا کیا، انہیں دنوں مجھے بہت سی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ میں نے یہ بیان دینے کی غلطی کی تھی کہ قادری صاحب خونی انقلاب کے حامی ہیں، دو چار لاشیں گرا کر اپنا مقصد پورا کریں گے اور یہ بھی کہا تھا کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی دونوں ہاتھوں کو جوڑنا پڑتا ہے چنانچہ ماڈل ٹاو¿ن میں جو بھی ہوا وہ سوچی سمجھی سازش تھی جس کے خالق قادری صاحب خود تھے، خیر وقت نے میرے الفاظ رائیگاں نہیں جانے دیئے اور خونی انقلاب کی جھلک دھرنوں میں نظر آ گئی اور ارادے بھی ظاہر ہو گئے اور میں آج بھی اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔ دھرنوں کے دنوں کی بات کریں تو جہاں سڑکوں پر لوگ تھرک رہے تھے وہیں گھروں میں بیٹھے ہم جیسے امن پسند لوگ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے خوب چرچے کر رہے تھے تو تنقید کے بارود ایک بار پھر سے مجھ پر گرائے گئے جب میں نے یہ کہا کہ ”سیاسی میدان میں سب کے سب مداری ہیں اور عوام بندر جو ان مداریوں کی ڈگڈگی پر ناچ رہے ہیں ، کل کو ان سب مداریوں نے ایک ہی ٹیبل پر بیٹھ کر ایک ہی تھالی میں کھانا ہے اور عوام نے سر پیٹنا ہے کہ یہ کیا ہو گیا۔“ کیا ویسا نہیں ہوا؟ میرا سوال صرف یہ ہے کہ عوام خاص طور پر نوجوانوںکو بہکا کر عمران اور قادری صاحب جیسے لوگ کیا حاصل کر لیں گے؟ یہ لوگ صرف نوجوانوں کے جذبات کو ہَوا دیتے ہیں اور جب وہ بھڑکنے لگتے ہیں تو اپنے کمبل لپیٹ کر چپکے سے وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ میں ان نوجوانوں سے صرف اتنا ہی کہنا چاہتی ہوں جو پہلے بھی کہا تھا کہ اپنی آنکھیں کھولیں اور حقائق پر نظر رکھیں، یوں جذباتی ہو کر فیصلے نہیں کئے جاتے یہ سیاستدان کبھی خود کے سگے نہیں ہو سکے آپ کے کیا ہونگے۔ جو آدمی کل تک پارلیمنٹ کے بارے میں انٹ شنٹ بول رہا تھا آج ایک بار پھر اپنے مفاد کی خاطر اسی میں جا بیٹھا، جھوٹے دعوے سفاک وعدے کیا ہوئے؟ نوجوانو یہ دور تمہارا ہے تم نے اس ملک کو سنوارنا بھی اور بگاڑنا بھی ہے، ان مداریوں کی قلابازیاں تو دیکھ ہی چکے ہو تو اب مزید ان کے پیچھے مت بھاگو بلکہ خود اپنی پہچان بنو کیونکہ ہمیں اللہ نے ایک ہی پاکستان دیا ہے اور ہمیں اسی کو سنوارنا ہے۔ قلاباز خان سے اتنی سی درخواست ہے کہ اب بس کر دو جس دن یہی نوجوان آپکے پیچھے پڑ گئے تو یقین جانیں آپ کو بھاگنے کے لئے جگہ بھی نہیں ملے گی۔