عرب یمن تنازعہ اور پارلیمان پاکستان

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد
عرب یمن تنازعہ اور پارلیمان پاکستان

دنیا کی آبادی کا کثیر حصہ مسلم قومیت پر مشتمل ہے۔جن کا خدا ایک ، کعبہ و قرآن ایک ، اور ایک رسول پر ایمان ہے ۔ملت اسلامیہ کا ہر فرد ان چاروں عناصر کی حرمت پر جان دینے سے گریز نہیں کر سکتا یہی جذبہ شوق شہادت ہے جو مسلمانوں کو دوسری قوموں پر فوقیت بخشتا ہے مگر ملت اسلامیہ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک خدا ایک رسول کو ماننے والے آپس میں یک جان اور یک زبان نہیں ہوپاتے ۔نفاق و انتشار کے سبب گروہوں اور فرقوں میں تقسیم ہیں اس کا فائدہ دوسری اقوام اٹھاتی ہیں۔ حرمت قرآن کا مسئلہ ہو یا گستاخی رسالت کی بات پورا عالم اسلام تڑپ اٹھتا ہے مگر اس کا اثر دشمنوں پر اس لئے نہیں ہوتا کہ احتجاج کرنے والے متحد ہو کر احتجاج نہیں کرتے۔ دیکھنے میں یہ آیا کہ نبی محترم کے خلاف خاکوں پر مظاہرے تو ہوئے مگر شیعہ علماءکی قیادت میں علیحدہ‘ وہابیوں اور بریلویوں کے علیحدہ اسی طرح دوسرے فرقے ہیں ایک مقصد پر جدا جد انظر آتے ہیں۔ہمارے علماءرہبروں نے احیائے اسلام اور قیام خلافت کے نام پر عام سادہ مسلمانوں کی ہمدردیاں اور توجہ حاصل کرنے کےلئے خود پسندی اور خود غرضی پر مبنی رستہ اختیار کیا ہے۔ وہ راستہ اسلام اور قرآن و تعلیم نبوی سے متصادم ہے۔ مفکرین اسلام کی سوچ کے مطابق سارے فرقے اور انتشار پھیلانے والی تنظیموں کی پشت پناہی کسی نہ کسی صورت اسلام دشمن عناصر کر تی ملیں گی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ لوگ جدید ترین اسلحہ اور کثیر ترین مالی وسائل کے حامل ہیں۔ ان کی منصوبہ بندی نفاذ اسلام کے برعکس ہے۔ دراصل یہ قتل و غارت اور دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔ انہی نادان مسلمانوں کے ہاتھوں پورا عالم اسلام شکست و ریخت کے عمل سے دو چار ہے۔ سوڈان‘ شام‘ عراق‘ مصر کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک میں القاعدہ اور دولت اسلامی کے ہاتھوں جس انجام کو پہنچ چکے ہیں اس سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ یمن کی موجودہ صورتحال اور اس پر سعودی عرب کے اتنے شدید ردعمل نے عالم اسلام کو ہلا کر رکھ دیا۔

یمن کی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جاگیردارانہ اور قبائلی ماحول پر مشتمل ہے جو ہمیشہ تنازعات اور شورشوں کا شکار رہا ہے۔ 1978ءمیں شمالی اور جنوبی یمن تقسیم ہو چکا تھا مگر 1990ءمیں یکجا ہو کر 28000 مربع کلو میٹر رقبے پر مشتمل ایک ریاست کی شکل اختیار کر گیا۔ آج یمن اڑھائی کروڑ آبادی رکھنے کے ساتھ اہم جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے جس کے ایک جانب سوڈان دوسری جانب سمندری ساحل تیسری سمت ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل سرحدیں سعودی عرب سے منسلک ہیں اور جنوبی سعودیہ پر اس علاقے کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ افغانستان کی طرح مسلح قبائل پر مشتمل آبادی ہے جن میں ستر فیصد شافعی سنی مسلمان ہیں باقی زیدی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جنوبی یمن کے قبائل میں القاعدہ سرایت کر گئی۔ شمالی یمن میں موجود شیعہ عناصر کو بھی ایسی ہی قوتوں کی حمایت حاصل ہو گئی۔ حوثی قبائل موجودہ صورتحال میں ایران کی حمایت یافتہ ہیں جن کے ساتھ سابقہ صدر صالح کی فوج کے کچھ یونٹ بھی شامل ہیں انہی کی سرکوبی کے لئے سعودی عرب نے 25 مارچ کو 18 عرب ممالک کے اتحاد کے ساتھ یمن کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ وہ حوثیوں کو یمن سے نکال باہر کرنے تک اپنا مشن جاری رکھنے پر بضد ہیں۔ اسی سلسلے میں سعودی فرمانرواﺅں نے حکومت پاکستان سے بری بحری اور فضائی افواج کی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کے ذاتی تعلقات کے پیش نظر انکار ممکن نہ تھا لہذا اس مشکل صورتحال میں حکمران خاندان کی مدد کے لئے میثاق جمہوریت کے تحت سابق صدر آصف زرداری میدان میں نکلے۔ انہوں نے بلاول ہاﺅس کراچی میں سیاسی جماعتوں کا ہنگامی اجلاس بلایا جس میں جناب نواز شریف کو مشورہ دیا گیا کہ موجودہ یمن اور عرب صورتحال پر حکومت پاکستان ایک متفقہ موقف اختیار کرنے کےلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے علاوہ آل پارٹی کانفرنس بھی بلائی جائے۔ اس اجلاس میں کہا گیا کہ سعودی عرب سمیت خلیج کے تمام ممالک کی خود مختاری اور بقا کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔ صدر زرداری نے مشورہ دیا کہ حکمرانوں کو اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہئے۔ عالم اسلام میں آگ لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کو پرامن حل کے لئے جس حد تک ممکن ہو سکے جانا چاہیے۔ دریں اثناءملک کی عسکری قیادت کی جانب سے بھی ایسے ہی اشارے موصول ہو رہے تھے۔ سوسائٹی اور میڈیا کے تاثرات بھی یہی تھے کہ ایک جانب پاک فوج ضرب عضب میں برسرپیکار ہے دوسری طرف کراچی کے ٹارگٹ کلر اور بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ ایسے میں یمن کے معاملے میں کوئی بھی غلط فیصلہ تباہ کن ثابت ہو گا اور اقوام عالم کے سامنے شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کئی روز اس مسئلے پر بحث جاری رہی۔ 10 اپریل بروز جمعہ تمام جماعتوں کی جانب سے ایک متفقہ قرارداد وزیر خزانہ اسحق ڈار نے پیش جو بارہ نکات پر مشتمل تھی اسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان سمجھتا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کی نوعیت فرقہ ورانہ نہیں تاہم صورتحال ہے کہ فرقہ ورانہ تناظر میں تبدیل ہونے کے امکانات موجود ہیں جس سے پاکستان سمیت پورے خطے میں سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ قرارداد میں اس خواہش کا ظہار کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان یمن کے معاملے پر غیر جانبدار رہے اور فوری جنگ بندی کےلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی میں کردار ادا کرے تاہم پاکستانی پارلیمان نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ سعودی عرب کی سالمیت یا حرمین شریفین کو خطرے کی صورت میں سب سے آگے ہوں گے اور پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ پاکستانی پارلیمان نے یمن میں پھنسے افراد اور وہاں کی سکیورٹی کی صورتحال اور خطے کی سلامتی اور امن پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے شدید تشویش ظاہر کی۔ قرارداد میں اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ یمن میں موجود گروہ اپنے اختلافات پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے جبکہ بین الاقوامی برادری اور مسلم امہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یمن میں قیام امن کے لئے اپنی کوششیں مزید تیز کر دیں۔ 10 اپریل کو اسی روز جی ایچ کیو میں اسی ضمن میں کورکمانڈر کانفرنس ہوئی۔ 10 اپریل ہماری پارلیمانی تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔ آج سے بیالیس سال پہلے قومی سیاسی قیادت نے پاکستان کو پارلیمانی آئین دیا۔ اسی روز 10 اپریل کو تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے عرب یمن مسئلے پر قرارداد کا اتفاق رائے سے پاس ہونا خوش آئند ہی نہیں جمہوریت کی فتح اور پارلیمان کی بقا کی دلیل ہے۔