تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی!

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی!

سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں بّری، بحری اور فضائی تعاون اور مدد فراہم کرنے کی درخواست کیا کی کہ پاکستان میں تو جیسے طوفان ہی آگیا! سعودی عرب نے امداد مانگی تھی اور اڑسٹھ سالہ دوستی میں غالبا پہلی بار امداد مانگی تھی، لیکن اس کے جواب میں ہم نے ”قومی امنگوں کی ترجمان“ ایک پارلیمانی قرارداد منظور کراکے عربوں کے ہاتھ میں تھمادی، اس قرارداد میں بڑے فخر سے کہا گیا کہ ”پاکستان کو یمن کے تنازعے میں اپنی غیرجانبداری برقرار رکھنی چاہیے، یمن میں جاری جنگ کی نوعیت فرقہ وارانہ نہیں تاہم اس کے فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہونے کے امکانات موجود ہیں ،جس کے پاکستان سمیت خطے میں سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں“۔ قرارداد میں یمن میں فوری جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی سے کردار ادا کروانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا گیا، پارلیمنٹ کے اس فیصلے کے بعد سعودی عرب نے تو صرف یہ کہا کہ ”پاکستان کے فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں جاری مہم پر اثرانداز نہیں ہوگا“ لیکن اس کے برعکس متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش کے نام سے بنے ٹوئٹر اکاو¿نٹ سے کیا گیا ایک سخت ٹویٹ بھی سامنے آیا ۔ خلیج ٹائمز کے مطابق ڈاکٹر قرقاش نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہاکہ ”عرب خلیج اس وقت خطرناک جنگ میں ہے، اس کی اسٹریٹیجک سکیورٹی خطرے کے دہانے پر ہے اور اس وقت اس سچ کو واضح کرنا ہوگا کہ عرب دنیا کے اصل اتحادی کون ہیں جبکہ میڈیا اور بیانات کی حد تک رہنے والے اتحادی کون ہیں“؟ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے یہ بھی کہا کہ ”پاکستان کو خلیج تعاون کونسل کی چھ ریاستوں کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات کے حق میں واضح موقف اختیار کرنا ہوگا، اس طرح کے اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم آراءکی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی“۔ اماراتی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایک کاہلی پر مبنی غیرجانبدارانہ موقف کے سوا کچھ نہیں۔“انہوں نے یمن کے تنازع پر ترکی اور ایران کے موقف کو یکساں قرار دیتے ہوئے اس بیان کی مذمت کی جس میں ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ مسئلے کے سیاسی حل کی ذمہ داری ترکی، ایران اور سعودی عرب کی ہے۔ڈاکٹر قرقاش نے پاکستان کی ایران کے بارے میں پالیسی کے بارے میں کہا کہ ”لگتاہے کہ اسلام آباد اور انقرہ کے لیے خلیجی ممالک کے بجائے تہران زیادہ اہم ہے، اگرچہ ہمارے معاشی اور سرمایہ کاری کے اثاثے ناگزیر ہیں لیکن اس اہم موقعے پر سیاسی حمایت موجود نہیں ہے، پاکستان اور ترکی کی مبہم اور متضاد رائے واضح ثبوت ہیں کہ لیبیا سے لے کر یمن تک کی ذمہ داری کسی دوسرے کی نہیں بلکہ عرب ریاستوں کی اپنی ذمہ داری ہے اور ہمسایہ ممالک کے لیے یہ بحران ایک اصل امتحان ہے“۔متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کا ٹویٹ اصلی ہے یا جعلی، لیکن ایک واضح مایوسی کا اظہار ضرور ہے، کیونکہ ضرورت کے وقت مخلص دوست ہی یاد آتے ہیں اور دوست حمایت کے بجائے قراردادیں منظور کرانے پر لگ جائیں تو ظاہر ہے کہ مایوسی کے علاوہ اور باقی کیا رہ جاتا ہے؟پارلیمانی قرارداد سے عرب ممالک کو مایوسی ہوئی ہے تو اِس میں اچنبھے کی کوئی بات اس لیے بھی نہیں کہ عرب دنیا کے ساتھ پاکستان کا صرف دینی اور روحانی رشتہ ہی نہیں ہے بلکہ چالیس لاکھ کے قریب پاکستانیوں کو روزگار فراہم کرنے کے سبب عرب دنیا کے ساتھ پاکستان کے ایسے اقتصادی اور معاشی روابط بھی قائم ہیں، جن سے صرف ِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کے ٹویٹ کو نظر انداز بھی کردیں تو کیا ہمیں خود یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کررہے ہیں؟جب دوست ملک کی مدد کرنے کا وقت آیا تو ہم یکدم ”ضروری کام“ کے بہانے سے اِدھر اُدھر کھسکنے لگے، جب یہ ثابت کرنے کا وقت آیا کہ پاکستانی قوم احسان فراموش نہیں ہے تو ہمیں اچانک یاد آگیا کہ یہ تو پرائی لڑائی ہے اور ہم بھلا اِس لڑائی میں کیوں کودیں؟ جب یہ بتانے کا وقت آیا کہ ہم واقعی دوستوں کے دوست ہیں اور پوری امہ کا درد ہمارے دِل میں ہے تو ہمیں یاد آگیا کہ حق کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دوسرے علاقے میں جاکر کسی پھڈے میں ٹانگ نہیں اَڑانی چاہیے اور جب واشگاف الفاظ میں محسنوں تک یہ پیغام پہنچانے کی ضرورت پیش آئی کہ ”ہاں! ہم تمہارے ساتھ ہیں!“ توقومی اسمبلی میں قرارداد پاس کرکے کہا گیاکہ ”نہیں! ہم اس لڑائی میں غیر جانبدار رہیں گے!“۔یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ اِن کالموں میں کسی کو یمن جاکر جنگ شروع کرنے کی ترغیب دی جارہی۔ سعودی عرب کا ساتھ دینے کاہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کررہے ہیںمطلب صرف یہ ہے کہ عرب دنیا کو باور کرایا جائے کہ ”ہاں، ہم تمہارے ساتھ ہیں!“۔ اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ یمن کی صورتحال دو ممالک کے درمیان جنگ بھی ہرگز نہیں ہے ۔یمن میں پندرہ فیصد حوثی قبائل یمن کی منتخب حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور باہر سے ملنے والی مسلح حمایت کی مدد سے یمن کی منتخب حکومت کو تختہ الٹ کر سعودی عرب کیلئے خطرہ بن گئے۔ یمن کے معاملے میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کا مطلب یمن کے اسی فیصد غیر حوثی باشندوں کی مدد کرنا بھی تو ہے۔ہم یہ نکتہ کیوں بھول گئے؟پانچ روز تک قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد جو ”ہومیو پیتھک“ ٹائپ قرارداد منظور کرائی گئی، اس سے اِس مسئلے کا علاج ممکن نہیں۔ اپنی جانب سے تو یہ قرار داد پاس کرکے یہ سمجھا گیا ہے کہ سانپ بھی مر گیا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے لیکن انِہی کالموں میں پہلے بھی متعدد بار لکھا جاچکا ہے کہ خطے میں نئی گریٹ گیم شروع ہوچکی ہے، آپ اس لڑائی سے جتنا دور بھاگنے کی کوشش کریں گے ، یہ لڑائی اتنا ہی آپ کو اپنی جانب کھینچے گی، ایسے میں محض قراردادیں منظور کرانے کا فائدہ؟قارئین کرام ! سوال تو یہ ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن کی صورتحال پر جو کردار ادا کیا، کیا عوام کی آواز کہلانے والی پارلیمنٹ کو یہی فیصلہ کرنا چاہیے تھا یا اس سے بڑھ کر بھی کچھ کیا جاسکتا تھا؟ پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد میں دوست ملک سعودی عرب کے بارے میں جو کچھ قرار دیا، کیا وہی کچھ قرار دیا جانا چاہیے تھا یا اُس سے بہتر بات بھی کی جاسکتی تھی؟سوال ہے کہ حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے معاملے میں جو کچھ کیا، کیا وہ پاکستان کیلئے سود مند ہوگا یا خدانخواستہ اُلٹا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے؟ کیا کسی نے سوچا کہ اس قرارداد کے بعد عرب دنیا میں روزگار کے سلسلے میں مقیم چالیس لاکھ پاکستانیوں کے گھروں میں خوف اور دہشت کے جو خدشات اُبھرنے لگے ہیں، اس کے متعلق کسی نے کچھ کیوں نہیں سوچا؟کیا قومی اسمبلی میں پاس کی جانے والی قرارداد واقعی قوم کے اجتماعی شعور کی عکاسی کرتی ہے؟ اِس ملک میں اصل فیصلے کرنے والوں سے یہ سوال اگر کسی اور نے نہ بھی پوچھے تو تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی!