برطانوی پارلیمانی انتخابات اور انتہا پسندی

کالم نگار  |  طاہر جمیل نورانی
برطانوی پارلیمانی انتخابات اور انتہا پسندی

7 مئی 2015ءکو ہونے والے 55 ویں برطانوی انتخابات کی سیاسی سرگرمیوں کا گزشتہ چند روز سے یہاں باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔ برطانوی روایات کے مطابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرن خصوصی طور پر ملکہ برطانیہ الزبتھ کے محل ”بکنگم پیلس“ پہنچے اورملکہ کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی درخواست کی۔ اور یوں 30 مارچ 2015ءکی سہ پہر 5 بجے۔ تمام اراکین پارلیمنٹ اپنے ٹائٹل ایم پی سے آزاد ہوگئے۔ پارلیمنٹری انتخابات کا اعلان ہوتے ہی 3 بڑی برطانوی سیاسی پارٹیاں جن میں حکمران کنزروٹیو پارٹی، لیبر پارٹی، اور لبرل ڈیمو کریٹ پارٹی زیادہ نمایاں ہیں انتخابی میدان میں اتر چکی ہیں جبکہ دوسری جانب برطانیہ کی انڈیپنڈنٹ پارٹی جسے یو کے آئی پی بھی کہتے ہیں۔ گرین پارٹی ”جارج گالووے“ کی ریسپیکٹ پارٹی اور کئی دیگر سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ دائیں بازو کی بعض انتہا پسند پارٹیاں بھی جنکے منشور کا بنیادی حصہ برطانیہ سے تارکین وطن کو نکالنا۔ اور برطانیہ کو صرف سفید فاموں تک محدود رکھنا ہے بھر پور سرگرم عمل ہو چکی ہیں۔ ”برٹش نیشنل پارٹی“ انگلش ڈیفنس لیگ“ اور یو کے آئی پی اس بات پر متفق نہیں کہ تارکین وطن کو برطانیہ سے اب نکال باہر کیا جائے۔ جبکہ لیبر، ٹودی اور لب ڈیم“ انتہا پسندی کے سخت خلاف ہیں۔انتخابی سرگرمیوں کے اعلان کے ساتھ ہی تجزیہ نگاری اور سروے رپورٹس کے سلسلہ کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ عوامی سروے کے اب تک سامنے آنے والے نتائج میں 7 مئی کو ہونے والے پارلیمنٹری انتخاب میں تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں میں سے کوئی بھی ایک بڑی پارٹی اس بار پھر اکثریت حاصل کرنے میں شاید کامیاب نہ ہوسکے۔ اور دوبارہ اتحادی حکومت تشکیل دی جائے۔ جبکہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے انتخابات سے قبل ہی یہ اعلان کردیا ہے کہ کنزروٹیو پارٹی کی کامیابی کے باوجود تیسری مرتبہ وہ وزیراعظم بننے کے امیدوار نہیں ہونگے۔برطانوی ایوان پارلیمنٹ میں اراکین کی کل تعداد چونکہ 650 افراد پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ حکومت تشکیل دینے کے لئے کسی بھی پارٹی کو 227 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہوتی ہیں اس لئے سیاسی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ کنزروٹیو یا لیبر پارٹی کی کامیابی پر لیبر ڈیمو کریٹک پارٹی کی اہمیت جوں کی توں رہے گی۔ حکومت سازی میں lib dems کے تعاون کے بغیر حکومت کا قیام ممکن نہ ہوسکے گا اس لئے لبر ل ڈیمو کریٹس کی یہ بھر پور کوشش ہوگی کہ وہ زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرے یادرہے کہ موجودہ حکومت میں lib demsاور conservative دونوں پارٹی بطور، ”کولیشن حکومت“ چلارہی ہیں۔ جبکہ لبر ل ڈیمو کریٹس کے لیڈر Nick Clegg برطانیہ کے لئے بطور ڈپٹی وزیراعظم فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔سیاسی پارٹیوں کی عمر کے تناسب سے کنزروٹیو پارٹی چونکہ Oldest پارٹی تصور کی جاتی ہے اس لئے سروے کے اعدادو شمار کے مطابق ممکنات میں سے ہے کہ کنزروٹیو دوبارہ کامیابی حاصل کرجائے۔ دوسری جانب یو کے آئی پی ایک ایسی سیاسی پارٹی ہے جو ”انتہا پسندی“ کے لیبل کے باوجود عوام میں مقبول ہو رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق آئندہ انتخابات میں یہ پارٹی 10 سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوسکتی ہے، ایسا اگر ہو جاتا ہے تو پھر کسی بھی بڑی پارٹی کی اکثریتی کامیابی سے ملکر یو کے آئی پی ”کولیشن حکومت“ میں شامل ہو سکتی ہے۔انگلینڈ کے مقابلہ میں سکاٹ لینڈ کی سیاسی صورت حال بھی اس بار کافی مختلف ہوگی سکاٹش عوام کی ایک کثیر تعداد کا کنزروٹیو اور لیبر پارٹی سے کافی حد تک اعتماد اٹھ چکا ہے۔ اس اعتماد اٹھنے کی بنیادی وجہ ”سکاٹ لینڈ کی آزادی“ کا وہ معاملہ تھا جس میں کنزروٹیو اور لیبر نے علیحدگی کو روکنے کے لئے بھر پور زور لگایا چنانچہ ”scottish national party“ کی یہ سوچ ہے کہ انکی ”آزادی“ کی تحریک کو ناکام بنانے میں ان دونوں پارٹیوں نے چونکہ اسٹیبلشمنٹ سے مل کر منصوبہ بندی کی۔ اس لئے اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ سکاٹش نیشنل پارٹی (SNP) اس بار پہلے سے کہیں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میںکامیاب ہو جائے گی۔ ہانگ کانگ میں بطور آخری گورنر خدمات سرانجام دینے والے یورپی یونین میں خارجی امور کے سابق کمشنر اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر ”کرس پیٹن“ نے برطانوی انتخابات کے حوالہ سے اپنی ایک حالیہ prediction میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس بار لیبر پارٹی کو 34 فیصد اور کنزروٹیو پارٹی کو 32فیصد عوامی حمایت حاصل ہوگی تاہم انکا کہنا تھا کہ انتخابات کے قریبی دنوں میں عوامی سوچ کسی وقت پلٹا کھا سکتی ہے۔ ........ Anti اورAnti- european party ”لوکپ“ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یو کے آئی پی اس بار 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر جائے۔دوسری طرف جواریوں نے بھاری شرطیں لگانے کا آغاز بھی کردیا ہے۔ Wiltshire کے ایک بڑے جواری نے پہلے ہی 10 ہزار پونڈ کی رقم اس امید پر لگادی ہے کہ کنزروٹیو پارٹی بھاری اکثریت سے تیسری مرتبہ پر کامیاب ہو جائے گی۔برطانیہ کو دنیا بھر میں چونکہ ”جمہوریت کی ماں“ کا اعلیٰ ترین اعزاز حاصل ہے اس لئے 7 مئی کے ”پولنگ ڈے“ یوں دکھائی دیں گے جسے کسی Wooden Hutt سے کوئی گاہک سودا سلف خرید کر نکل رہا ہو۔ ٹریفک روزانہ کے معمول کے مطابق چلے گی۔ ایمبولینس، پولیس اور فائر برگیڈ کی گاڑیوں کی اسی قانون کے تحت راستہ دیا جائے گا۔ نابیناﺅں کی سفید چھڑی اور انہیں سڑک پار کرانے کا احترام بھی اسی طرح برقرار رہے گا۔ سیاسی جماعتوں سے وابستہ کوئی بھی ووٹر ہراساں کرے گا اور نہ ہی غلط مہر لگے گی۔ انتہائی خوشگوار ماحول میں صبح سے رات 11 بجے تک ووٹ ڈالنے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اور یہی وہ جمہوری حسن ہے جسکا 70 برس گزرنے کے باوجود تاہنوز وطن عزیز میں ادراک نہیں ہوسکا۔