انتخابی اصلاحات بہت ضروری ہیں

کالم نگار  |  مسرت قیوم
انتخابی اصلاحات بہت ضروری ہیں

عمران خان نے ’’چیئر مین نادرا‘‘ کے نام ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 15 اپریل سے پہلے 35 حلقوں میں انگوٹھوں کی شناخت سے متعلق موادمہیا کیا جائے۔پی ٹی آئی اسی مواد اور دستاویزات کو دیگر ثبوتوں کے ساتھ جوڈیشل کمیشن میں پیش کرنا چاہتی ہے ۔اِس سے پہلے نو تشکیل شدہ’’جو ڈیشل کمیشن ‘‘ کے پہلے اجلاس میں طے پانے والے کچھ فیصلوں کے تحت ’’کمیشن ‘‘ نے 15اپریل تک انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں سے شواہد اور تجاویز طلب کر لیں ۔کوئی بھی شخص دھاندلی سے متعلقہ ثبوت ، شواہد جمع کر ا سکتا ہے۔کمیشن نے باقاعدہ طور پر طے کیا کہ16اپریل سے روزانہ کی بنیاد پر کھلی سماعت ہو گی۔ اِ س فیصلے کے بعد کچھ جماعتوں نے مِل کر کمیشن جانے کا فیصلہ کیا جبکہ ’’پیپلز پارٹی‘‘ بھی ثبوت پیش کر ے گی۔2013 ؁ء کے الیکشن کی شفافیت پر کوئی بھی جماعت متفق اور نتائج سے مطمئن نہیں تھی۔کوئی اسے ’’آراوز‘‘ کا الیکشن کہتا رہا اور کسی نے ’’35پنکچرز‘‘ کی کہانیاں اتنے یقین تسلسل سے مارکیٹ میں پھیلائیں کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ نہ چاہتے ہوئے بھی غیر یقینی میں مبتلا ہو گیا۔ دھرنا کے عروج میں خود الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں ’’20سے زائدحلقوں‘‘ میں دھاندلی کا اعتراف کیا گیا خود ’’این اے 246‘‘ میں ’’ایک لاکھ40 ہزار‘‘ ریکارڈ ووٹ لیکر ازاں بعد مستعفی ہونے والے رکن اسمبلی نے ’’3دن‘‘ پہلے اپنی کامیابی پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی کا برملا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک دن بھی انتخابی مہم پر نہیں نکلے بلکہ مجھے کہا گیا کہ گھر میں آرام کرو۔آپ جیت چُکے ہیں ہمارا خیال ہے کہ اگر کمیشن کو طے شدہ شرائط اور تفویض کردہ اختیارات کے تحت کام کرنے دیا گیا تو اِس طرز کے سینکڑوں انکشافات سُننے کو ملیں گے۔ پاکستانی سیاست 68 سالہ ملکی تاریخ کے انتہائی دشوار اور شرمناک دورسے گُزر رہی ہے سابقہ ادوارکی تاریخ سے ایک ہی نصیحت ملتی ہے کہ جب تک ہم جمہوری اداروں اور جمہوری روایات کو مضبوط نہیں کریں گے تب تک جمہوریت اشاروں پر ناچتی رہے گی۔ ۔ کوئی حکومت تب ہی مضبوط سمجھی جاتی ہے جب اُس کی پُشت پر پارلیمنٹ کی قوت ایستادہ ہو ۔اِسی طرح جب تک ’’الیکشن کمیشن‘‘ مضبوط پائوں پر کھڑا نہیں ہوگا ۔سٹینڈ نہیں لے گا تب تک ہر الیکشن متنازع رہے گا ایک غیر موثر جانبدار۔غیر شفاف انتخابی ادارے کا بوجھ ہر الیکشن کے بعد کروڑوں عوام پر احتجاجی مہم کی صورت میں منتقل کرنے کے رحجان کو ختم کرنا لمحہ موجودکی بہت بڑی بنیادی ضرورت ہے۔ کچھ ماہ پہلے انتخابی نظام کے سقم۔ نقائص کی نشاندہی انتخابی قواعد کی ازسرِ نو تشکیل کے لیے پارلیمنٹ کی ’’انتخابی اصلاحات کمیٹی‘‘ کا بہت غلغلہ بُلند ہوا تھا عوامی حلقوں ۔دانشور کلاس سے بھی تجاویز مانگی گئی تھیں۔پے در پے اجلاس ہوئے مگر پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔کمیٹی اراکین نے سفارش کی بھی تو یہ کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات کم کر دئیے جائیں حلقہ بندیوں کے معاملے میں از خود نوٹس لینے کے اختیار کی منسوخی کی تجویز کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ پارٹی ارکان کو سیاسی جماعت کے ریکارڈ تک رسائی نہ دی جائے۔ اس کے ساتھ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002؁ء میں ترمیم کرنے کی بھی سفارش کی گئی کمیٹی کی سفارش تھی کہ سیاسی جماعتوں سے منشور نہ مانگا جائے اور نہ ہی ارکان کی تعداد پوچھی جائے قارئین ۔آ پ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ جمہوریت کا راگ الانپے والی جماعتوں کے اپنے اندر کس قدر آمریت کا راج ہے پاکستان میں مستحکم سیاسی و جمہوری مستقبل کے لیے انتخابی نظام میں موثر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تمام سیاسی جماعتوں کو تعمیری اصلاحات کی بلا مشروط حمایت کرنی چاہیے ۔ہمارا اصل مرض موروثی قیادت اور مفلوج نظام ہے ہمارا مشورہ ہے کہ کچھ امور کو متفقہ طور پر اب طے کر لینا چاہیے۔1۔سب سے پہلے اسمبلیوں کی مدت’’ 4سال ‘‘ کر دیں۔2۔ آئین کی بالادستی اور مقاصد کے حصول کے لیے ’’پارلیمان ‘‘ کے علاوہ دیگر پلیٹ فارم۔ فورم یا غیر آئینی اشاروں کے متعلق نہ سوچا جائے۔3۔ وزیر اعظم ۔صدر ۔گورنر ۔وزراء اعلیٰ صرف دو مدت کے لیے منتخب کے جائیں۔4۔’’الیکشن کمیشن ‘‘ کے ممبران چاروں صوبوں سے مساوی تعدا د میں مقرر کیے جائیں ثِقہ بند سیاسی۔سماجی ماہرین پر مشتمل ایک ’’مدبر کونسل‘‘ کمیشن کی رہنمائی کرے۔ 5۔آئینی طور پر طے ہو کہ کِسی بھی قومی تہوار کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ 6۔ سب سے زیادہ ضروری امر’’میڈیا‘‘ کو ایک اہم مگر ذِمہ دار ادارے کے طور پر معاہدے میں شامل کیا جائے کمیٹی یہ بھی طے کرے کہ جن گروہوں جماعتوں پر غیر ملکی فنڈنگ لینے اور کام کرنے کا الزام ہے۔ حکومت تمام ثبوت قوم کے سامنے رکھ دے ’’میڈیا‘‘ کو پابند کیا جائے کہ وہ ان اشخاص اور تنظیموں کو کوریج دینے کی بجائے ان کے کالے اعمال گندے کرتوت منظر عام پر لائے گا۔ 7۔میڈیا پر کام کرنے والے لوگوں کو جرنلزم ڈگری ہولڈر ہونا لازم قرار دیا جائے۔ 8۔ میڈیا میں پڑھے لکھے لوگوں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ 9۔ انتخابی اُمیدوار کی اہلیت B.A سے بڑھا کر M.A کر دی جائے۔ 10۔الیکشن سے 4 ماہ قبل ’’ووٹرز آگاہی مہم چلائی جائے۔ 11۔ کمیٹی اگلے الیکشن کو ’’فوج‘‘ کی نگرانی میں منعقد کروانے کی شق منظور کرے ۔ 12۔’’الیکشن کمیشن‘‘ کو مکمل طور پر انتظامی اختیارات منتقل ہونا چاہیں انتخابی مہم کے دوران ترقیاتی فنڈز ۔سکیموں کے اعلانات پر پابندی ہونی چاہیے۔الیکشن ایام میں حکومت کے پاس تبادلوں ۔تقرر کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ 13۔ ووٹ نہ ڈالنے پر کڑی سزا۔ بھاری جُرمانے کا قانون بھی کمیٹی منظور کرے۔ 14۔جب کمیٹی کام مکمل کرلے تو حتمی معاہدے پر تمام سیاسی جماعتوں ۔قومی اکابرین ’’میڈیا مالکان‘‘ کے دستخط کروائے جائیں خلاف ورزی کی صورت میں پابندی کی سزا مقرر کر دی جائے۔یہ تجاویز عملی طور پر منظور کر لی جائیں تو ہم بہت سارے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔