”مبلغ بابر اعوان سے اللہ کی امان“

نواز خان میرانی ۔۔۔
آج کل ملک میں پیشہ ور مبلغین کا جو سیلاب آیا ہوا ہے قبلہ بابر اعوان بھی اسی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ درس وتدریس کو بھی سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کرتے ہوئے ججوں کو بھی جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جہاں فیصلے کی ذمہ داری سے بہرہ ور ہونے والے مُستعد منصف بیٹھے ہوں جو قانونی موشگافیوں اور آئینی ترامیم کی جزئیات میں جزبز ہونے کی بجائے اس کی خامیوں اور سقم کو دور کرنے کی صلاحیت و اہلیت کے مالک ہوں وہ بابر اعوان کی ججوں کو ڈرانے اور دھمکانے والی آیات کو سیاق و سباق اور متن کے مقاصد کے برعکس سنانے پر اس کی بھی نشاندہی کر دیتے ہیں۔ بابر اعوان کو ڈاکٹر لکھنے کی بھی سہولت حاصل ہے اور قانون کو دلائل دیتے ہوئے پینترے بدلنے کی بھی شُدھ بُدھ ہے جس کی بناءپر وہ وزیرو مشیر کے عہدے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں بلکہ سرکار کو بیکار بیٹھے رہنے کی بجائے عدلیہ کا مقابلہ کرنے کا دلیری سے مشورہ دے رہے ہیں کہ آخری حربے کے طور پر اور نیب جیسے سرکاری اداروں کو آگے لگا کر ججوں کے منصب، ان کی تقرری اور ان کی غیر جانبداری کو بنیاد بنا کر انہیں بند گلی میں دھکیل دیا جائے جہاں انہیں فیصلہ کرنے کی بجائے اپنی ساکھ برقرار رکھنی مشکل ہو جائے حالانکہ یہ سوچ اور یہ عمل طالب علمی کے دورکا ہوتا ہے۔ کالج کے زمانے میں ہمارا ملک ایک کلاس فیلو بریک کے وقت اور چھٹی کے بعد انارکلی بازار میں گُھس جاتا اور لڑکیوں کو چھیڑنے اور تنگ کرنے پر ہمہ وقت بستے اور کتابوں کے تقدس کو بالائے طاق رکھ کر کمربستہ رہتا لیکن اس قدر نامناسب اور گھٹیا عمل کرنے کے باوجود بھی وہ کھسیانی مسکراہٹ سجائے خیر خیریت سے واپس کالج پہنچ جاتا۔ کالج بھی انارکلی کے قریب یعنی چند منٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایک دفعہ دوستوں نے اسے گھیر لیا اور اسے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آج ہم تمہیں یہ پوچھے اور جواب لئے بغیر نہیں جانے دیں گے کہ واردات کرنے کے بعد ہر دفعہ بغیر کسی سرزنش کے اور مارکٹائی کے تم کس طرح واپس آ جاتے ہو؟ کافی اصرار اور بحث مباحثے کے بعد اس نے جواب دیا کہ میں اس قدر ڈھٹائی سے یہ کام کرتا ہوں کہ نو عمر لڑکیوں کو اس وقت اپنی عزت بچانے کی سب سے زیادہ فکر دامن گیر ہے اور جب معاملہ میری ہاتھوں کی حرکت اور عورت کی عزت کے مابین چلا جاتا ہے تو لامحالہ عورت حرکت کو نظرانداز کر کے اپنی عزت بچانے کی فکر اور کوشش میں مصروف ہو جاتی ہے۔ اوباش لڑکے کے طریقہ واردات کا ہم ڈاکٹر بابر اعوان عدلیہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا تجزیہ اور تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔ تو پتہ چلتا ہے کہ بابر اعوان سے چھیڑ چھاڑ کے چناو¿ میں غلطی ہو گئی ہے۔ اب پتہ نہیں گھاگ اور سمجھدار لوگ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ویسے بھی ان کے نزدیک مسئلہ اپنی عزت بچانے کا نہیں بلکہ پورے ملک کی عزت بچانے کا ہے جو داو¿ پر لگ چکی ہے اور چھوٹا ہو یا بڑا عزت و عصمت خواہ ذاتی ہو یا پورے ملک کی پہلے وہی بچائی جاتی ہے۔ بابر اعوان صاحب نے یہ احتیاط ضرور ملحوظ خاطر رکھی ہے کہ باریش ہونے کے باوصف انہوں نے سرکاری خزانے سے گانے والیوں کو مشرف کی طرح ہزاروں اور لاکھوں نہیں لٹائے بلکہ درس کے تقدس کا احترام کرتے ہوئے خزانے سے لاکھوں نہیں کروڑوں لٹائے خدا جانے ان کا دین یہی کہتا ہے جس کا وہ درس دیتے ہیں؟ یہ تو ملکی عدالت ہے مگر ایک ایسی عدالت کے سامنے بھی بابر اعوان نے بالآخر پیش ہونا ہے جہاں ایک ایک پائی کا حساب دینا ہو گا اور جہاں نہ اپیل کی گنجائش ہو گی نہ دلیل کی بلکہ بڑے بڑے نام والے لوگ بھی روز محشر ذلیل کر دیئے جائیں گے! اللہ اس وقت سب کو اپنی امان میں رکھے آمین۔