یہ ”سراب“ ہمیں کدھر بہائے لے جا رہا ہے

کالم نگار  |  خالد احمد

جناب نواز شریف نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی صفوں میں گھسے ہوئے ”خود کش بمبار“ نکال باہر کرے! شاید وہ نہیں جانتے کہ وفاقی حکومت تو یہ ”کمبل“ چھوڑنا چاہتی ہے مگر ”کمبل“ وفاقی حکومت کی جان چھوڑنے پر تیار نہیں دکھائی دے رہا، حتیٰ کہ یہ ”حقیقت“ صوبائی سطحوں پر بھی نمایاں تر انداز میں ہاتھ پاﺅں مارتی نظر آ رہی ہے اور چاروں صوبائی حکومتیں اپنے اپنے ”کمبلوں“ کے شکنجے میں کسماتی دریا کے رُخ بہتی چلی جا رہی ہیں!
ڈاکٹر بابر اعوان نے ”لب گویا“ وا کیا تو معلوم ہوا کہ اقتدار کے دریا میں کمبل کی طرح تیرتا جاتا ”ریچھ“ کوئی ”مذہبی سیاسی جماعت“ نہیں بلکہ ”شخصیات“ ہیں مثلاً جنرل ضیاءالدین ریٹائرڈ اور وہ پنجاب میں ایک ٹاسک فورس کے سربراہ کی حیثیت سے کار فرما ہیں جبکہ ڈاکٹر بابر اعوان کے مطابق وہ 1999ءکے مارشل لاءکا ”سبب“ ہیں! حالانکہ 1999ءاور 1977ءکے مارشل لاءنہ لگتے تو آج کوئی ڈاکٹر بابر اعوان کے نام سے بھی واقف نہ ہوتا! جنرل محمد ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کیلئے ڈاکٹر بابر اعوان کی ”مسیحائی“ کا چرچا نہ ہوتا تو شاید وہ ابھی تک پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی نظروں میں بھی نہ آئے ہوتے اور کچھ اور ہی لوگ قانونی اور پارلیمانی امور کی نگہبانی کر رہے ہوتے! جناب بابر اعوان نے انہیں سب سے بڑے خود کش بمبار کے درجے پر فائز کرتے ہوئے جس انکسار سے کام لیا ہے، وہ قابل داد ہے! ہم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پارہ پارہ کرنے کیلئے جتنی بڑی خدمت جناب بابر اعوان سرانجام دے رہے ہیں، وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی! مگر اب پتہ چلا ہے کہ یہ کام تو ضیاءالدین کر رہے ہیں!
گذشتہ روز پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میڈیا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے!
ہم ”میڈیا کی آزادی اور ”میڈیا کی ذمہ داری“ کیلئے آواز بلند کرتے رہنے والوں میں ایک ہیں! مگر ”پاکستان“ اور ”پاکستان کی سالمیت “ کا سوال آ جائے تو ہم اپنا ہر ”حق“ چھوڑنے پر تیار رہتے ہیں! لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ”میڈیا کا دائرہ کار“ میڈیا کے سربراہان نے ایک بار طے کر دیا ہے اور میڈیا کے ہر ادارے کے سربراہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے ادارے کے ”دائرہ کار“ کی پاسبانی آپ کرے!
اگر کوئی ”برقیاتی ذریعہ ابلاغ“ اپنا ”قبلہ“ ”امن“ کی جگہ ”امن کی آشا“ سے جوڑ لے تو وہ اس کیلئے بھی ”آزاد“ ہے مگر ہم اسے خوش آمدید نہ کہنے کے ”پابند“ ہیں!پاکستان اور بھارت کے درمیان امریکہ اور کینیڈا جیسے تعلقات کا خواب تو ”پاکستان“ نے دیکھا تھا مگر بھارت نے یہ ”خواب“ اپنے ہاتھوں چکنا چور کر دیا! اور نواز شریف سے لیکر پرویز مشرف تک ہر حکومت کی ”پیش رفت“ کے سامنے ”پسپائی“ اختیار کرکے پاکستان کو گھیر لینے کی حکمت عملی اپنائی تاکہ پاکستان کو چاروں طرف سے اسی کے ”جذبہ خیر سگالی“ میں کس لیا جائے اور اسے اس کے تمام حقوق سے محروم کر دیا جائے! خواہ وہ ”آبی حقوق“ ہوں ؟ یا، ”سیلابی حقوق“ ہوں!
نیلی گنگا جسے اہلِ ہند ”کرشن گنگا“ اور اہلِ پاکستان ”نیلم“ کے نام سے پکارتے ہیں، آج کل ”بھارتی ڈپلومیسی“ کے ہاتھوں پر لکیروں کی طرح بہہ رہی ہے! ہم چیختے رہ گئے کہ ”نیلم۔ جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ“ شروع کیا جائے تاکہ نیلی گنگا کے پانی پر ہمارے تمام ”آبی اور سیلابی حقوق“ کی ضمانت مل سکے! مگر یہ کام بہت دیر سے شروع کیا گیا! مگر شکر ہے کہ خواہ پرویز مشرف کے ہاتھوں شروع ہوا، ہو تو گیا! بھارت نے ”نیلم ۔ جہلم“ اور اب ”دیامیر بھاشا“ پر اعتراضات اٹھائے ہیں کہ یہ ”متنازعہ علاقے“ میں تعمیر ہو رہے ہیں مگر ہم مقبوضہ کشمیر میں تعمیر کئے ڈیمز پر ایک بار کسمسا بھی نہیں سکے! ہمیں اس ”ریچھ“ کی گرفت سے بھی نکلنے کی کوشش کرنا چاہئے جو ایک ”سراب“ میں ہمیں دبوچے ”ریگستان“ کی وسعتوں میں گم ہو جانا چاہتا ہے!
میڈیا کی آزادی اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کیلئے بھی رہ بہ عمل ہونا چاہئے! صرف پاکستانی سیاستدانوں کے ساتھ یہ سلوک کب تک روا رکھا جا سکے گا! لوگ ان ایک جیسے ”پروگراموں“ سے تنگ آ چکے ہیں! اور شاید یہ ایک ہی ”پروگرام“ ہے! جسے اب ترک کر دینا پڑے گا!