ہیجان انگیز باتوں کے مقاصد کیا ہوتے ہیں ؟

صحافی  |  عائشہ مسعود

ہیجان انگیز کتابیں لکھنے کا سلسلہ شروع کیاگیا .... روس نے تو پروفیسرزیلف کو چین بھیج دیا تاکہ وہ حالات کا جائزہ لے کر آئے پروفیسر زیلف نے چین میں قیام کیا اور واپس جاکر ایسی باتیں کہیں کہ عیسائی دنیا میں تہلکہ مچ گیا .... تہلکہ مچانے والے پروفیسر زیلف کی تحریر میں ایک ٹکڑا کچھ یوں تھا کہ ” اب کچھ ہی دن کی بات ہے کہ سارا چین مسلمان ہو جائے گا اور پھر جبرالٹر سے چین تک اسلام کا یہ سلسلہ یورپ اور عیسائی تہذیب کو ختم کر دے گا تو ہیجان انگیز اور سنسنی خیز کتابیں لکھنے کا یہ سلسلہ تھسیانت اور ہلڈے نے بھی جاری کردیا اور پھر اس سلسلے میں کچھ اور لوگ بھی شامل ہوگئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی قوتوں نے چین کے خلاف بھی جنگ شروع کر دی اور چین کے اندر ایک عیسائی ہنگ سوسان جسے طائی پنگ کی بغاوت کا بانی قرار دیتے ہیں .... اس نے مسلمانوں کو باقاعدہ ذبح کرنا شروع کر دیا .... 1860ءمیں چینیوں اور اتحادیوں کی جنگ کا انجام جن شرائط پر کیا گیا ان کے مطلب ذرا ملاحظہ فرمائیں شرط یہ تھی کہ آئندہ سے عیسائیت کی تبیلغ تمام چین میں کی جاسکے گی اور چینی افواج مغرب کے زیر اثر رہیں گی “ .... اس وقت تک شہنشاہ چونکہ کمزور اور عاجز ہو چکا تھا لہذا مسلمانوں کے قتل عام کا آغاز ہوگیا .... ایک اندازہ بتایا گیا ہے کہ اس وقت پچاس لاکھ مسلمان مرد عورت اور بچے ذبح کر دئیے گئے تھے .... مدارس ‘ مساجد ‘ شفاخانے اور کتب خانے جلا دئیے گئے تھے .... اور پھر خداتعالیٰ کی طرف سے ایسے ہوا کہ خود یورپ والوں کے اپنے گھر میں جنگ عظیم کی آگ بھڑک اٹھی اور مسلمانوں کو سانس لینے کی فرصت ملی اور چین میں بھی 1911ءمیں انقلاب رونما ہوا اور وہاں بھی جمہوریت کا سورج طلوع ہوا .... مسلمانوں کے خلاف ہیجان انگیز پروپیگنڈہ شروع کہاں سے ہوا .... اور پھر اس سلسلے کو کیوں طول دے دیا گیا ؟ اور پھر ایک عیسائی ہنگ سوسان نے مسلمانوں کو باقاعدہ ذبح کرنے کا آغاز کیوں کیا ؟ یورپ والے کیوں چین سے اس قدر ناراض ہوئے کہ جنگ شروع کر دی حتیٰ کہ یہ منوایا کہ چینی افواج مغرب کے زیر اثر رہیں گی ....یہ باتیں ثابت کرسکتی ہیں کہ مغرب والوں کی شروع سے خواہشات کیا رہی ہیں اور پھر دہشت گردی اور تخریب کاری کے سلسلے کا آغاز بھی کن لوگوں نے کیا ؟ امریکہ نے بھی افریقین غلاموں پر جو ظلم روا رکھے تھے اور جس قدر پھانسیاں دی تھیں وہ دنیا کے تمام لوگوں کے علم میں ہے ....آج اسی قسم کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر امریکہ اور یورپ کے زیر اثر نہ آنے والوں کو باغی قرار دے کر مارتے چلے جانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور ان کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خطرناک قرار دے دیا جاتا ہے دنیا میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے کے لیے اب تو مظالم ڈھانے کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے .... بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازعہ مسئلہ کشمیرہے .... کشمیر میں آزادی کی اس تحریک میں اب تک 6 لاکھ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں ....کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے مگر انہیں پاکستان کے حکمرانوں سے بھی شکایات ہیں .... مشرف کے بعد کے حکمرانوں کواب کشمیر پر کھل کر بات کرنا چاہیے تاکہ اقوام متحدہ کو شرم آسکے اور جو اپنی ہی قراردادوں کو پڑھ کر کچھ فیصلہ کرسکے .... آج کشمیر میں قائد ملت سید علی شاہ گیلانی اور یاسین ملک اس تحریک کو جاری وساری رکھے ہوئے ہیں .... سوال یہ ہے کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم کو اس کی مرضی کے بغیر اپنے زیراثر رکھ سکتی ہے یا نہیں .... مگر امریکہ اور یورپ والوں کو یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آسکی لہٰذا وہ دنیا کے ممالک کے سامنے ہیجان انگیز باتیں کرتے ہیں ۔ اندر اندر سے طالبان کی حمایت کرتے ہیں لیکن دنیا کو ڈراتے ہیں .... امریکہ نے بھی روس کی طرح پروفیسر زیلف جیسے نمائندے دنیا بھر میں چھوڑے ہوئے ہیں تاکہ حالات کا جائزہ لیا جاسکے اور پھر دنیا میں جہاں کہیں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ اسلام سے متاثر ہونے لگتے ہیں اور حتیٰ کہ طالبان کی قید میں برطانوی صحافی مسلمان ہو جاتی ہیں تو پھر خوفزدہ ہو کر یہ کہنے لگتے ہیں کہ یورپ اور عیسائی تہذیبوں کو خطرہ ہے اور اب تہذیبوں کی جنگ ہے .... جبکہ چین میں ہونے والے اٹھارہویں صدی کے واقعات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یورپ والوں کا تعصب کتنا پرانا ہے اوردراصل دہشت گرد اور تخریب کار کون ہے ؟
چین میں ایک اندازے کے مطابق پچاس لاکھ مسلمان مرد عورتیں اوربچے شہید کر دئیے گئے تھے .... مدارس ‘ مساجد ‘ شفاخانے اور کتب خانے جلادئیے گئے تھے آج فلسطین ‘ افغانستان‘ عراق اور کشمیر میں کتنے مسلمان بچے عورتیں اورمرد شہید کر دئیے گئے ہیں اور پھر کتنی مساجد ‘ شفاخانے ‘ مدرسے اور کتب خانے ایسے ہیں جو برباد کردئیے گئے ہیں .... سوال یہ ہے کہ اسلامی تہذیب کو مسمار کرنے کے کون درپے ہیں ؟ مگر ہیجان پھیلانے والوں میں کم ازکم ہمارے حکمرانوں کو شامل نہیں ہونا چاہیے!!