ہمیں خود جعلی ڈگری والوں کا محاسبہ کرنا چاہئے

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے ممبرز 44 وکلاءکے حوالے سے اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کی ڈگریاں بھی بعض ارکان اسمبلی کی طرح جعلی ثابت ہوئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ وکلاءسالہا سال سے جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر وکالت کر رہے تھے۔ میں چونکہ خود بھی پیشہ وکالت سے منسلک ہوں اس لئے یہ خبریں پڑھ کر مجھے بھی بے حد ندامت محسوس ہوئی ہے۔ آج ہی کے اخبارات میں 35 ڈاکٹرں کی اسناد جعلی ثابت ہونے کی خبر بھی شائع ہوئی ہے۔ صحت اور وکالت دونوں شعبے ہی معاشرے میں انتہائی معزز پیشے سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان شعبوں میں بھی جعلی ساز گھس بیٹھے ہیں تو یہ ان شعبوں کی عزت کو بھی بعض ارکان پارلیمنٹ کے وقار کی طرح خاک میں ملانے کے مترادف ہو گا۔
وکلاءکا پیشہ قانون کی سربلندی اور لوگوں کیلئے انصاف کے حصول کیلئے جدوجہد سے عبارت ہے۔ جب ہم دوسروں کےلئے انصاف کا حصول اپنا نصب العین سمجھتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم خود ناانصافی کے مرتکب نہ ہوں۔ اس سے زیادہ ناانصافی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم مطلوبہ تعلیمی ڈگری حاصل کئے بغیر خود کو ایڈووکیٹ ظاہر کریں اور ان ایڈووکیٹس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالیں جو بڑی محنت کے بعد قانون کا امتحان پاس کرکے وکالت کے پیشہ سے منسلک ہوتے ہیں۔ جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر وکالت کرنے والوں کو اخبارات میں نوسر بازی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ جس بھی چیز کے ساتھ جعلی کے لفظ کا اضافہ ہو جائے اس کی توقیر ختم ہو جاتی ہے۔ جعلی ڈگری کے ہاتھوں ہمارے ہاں کون کون بے عزت نہیں ہوا اور یہ بے عزتی افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ جس جس ادارے سے جعلی ڈگری والے افراد کا تعلق ہے وہ ادارے بھی عوام کی نظروں میں بے توقیر ہو رہے ہیں اور اب تو بات اداروں تک بھی محدود نہیں رہی بلکہ ان جعلی ڈگری والوں نے عالمی سطح پر بھی ملک کے وقار کو مجروح کر دیا ہے۔
اب میں صرف اپنے شعبہ وکالت کی بات کروں گا۔ ہمارا شعبہ چونکہ قانون کی حرمت پر یقین رکھتا ہے اس لئے ہمیں دوسروں سے بڑھ کر قانون کی پاسداری کرنا چاہئے۔ قانون کی عزت اور حرمت کیلئے لڑنے والوں کی اپنی شخصیت دوسروں کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی وکیل کی اپنی تعلیمی ڈگری جعلی ثابت ہو جائے اور اس کے خلاف جعل سازی کا مقدمہ دائر ہو جائے اور وہ اس جرم میں قید ہو جائے تو اس کی عزت معاشرے کی نظروں میں باقی کیسے رہ سکتی ہے؟ سننے میں آیا ہے کہ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے 300 جعلی وکیل اپنی ڈگریاں جعلی ثابت ہونے سے پہلے ہی کچہری کو چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ انسان ایسا کام کرے ہی کیوں کہ جس کے نتیجہ میں ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ برا ہو ان جعلی ڈگری والوں کا کہ انہوں نے تو اصلی ڈگری والوں کو بھی مشکوک بنا کے رکھ دیا ہے۔ جعلی ڈگریوں کے حوالے سے میں وکلاء برادری کی جانب سے سول سوسائٹی اور اہل صحافت کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم کبھی جعلی وکلاءکی صحیح نشاندہی پر میڈیا کے خلاف احتجاج نہیں کریں گے۔ کیوں کہ جعلی وکلا سول سوسائٹی سے زیادہ خود وکلا برادری کے دشمن ہیں۔ چند جعل ساز وکلاءسے پوری وکلا برادری بدنام ہوتی ہے۔ اس لئے ہماری خواہش ہے کہ یہ گندگی ہمارے دامن سے صاف ہونی چاہئے۔ میں ارکان پارلیمنٹ کو بھی مشورہ دوں گا کہ وہ میڈیا کے خلاف احتجاجی قراردادیں منظور کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کو جعلی ڈگری والے ارکان کے وجود سے پاک کرنے کیلئے خود آگے بڑھیں۔ پارلیمنٹ یا ہماری وکلا برادری اخبارات کے پروپیگنڈا سے بدنام نہیں ہوتی بلکہ ہماری صفوں میں گھسے ہوئے جعل سازوں کی وجہ سے بدنامی ہمارے حصے میں آتی ہے۔ اس لئے ہمیں میڈیا کے خلاف غصہ نکالنے کے بجائے خود جعل سازوں کا محاسبہ کرنا چاہئے۔