کیا قومی کانفرنس سے دہشت گردی رک جائیگی؟

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

حضور داتا سرکارؒ کے مزار اقدس پہ ہونیوالی مذموم دہشت گردی کی گونج ایک عرصہ تک عقیدت مندوں کے ذہنوں اور دلوں پہ بجتی رہے گی تاہم اس مذموم کارروائی کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماءمیاں نواز شریف نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو دہشت گردی کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بلوانے کی تجویز دی ہے جسے وزیراعظم نے بلاچوں و چراں تسلیم کیا اور توقع ہے کہ بہت جلد اس کانفرنس کا انعقاد بھی ہو جائیگا۔ دہشت گردی کےخلاف اے پی سی بلانے کے فیصلے کو جہاں اکثریت نے سراہا اور متعدد مذہبی سیاسی ادبی اور سماجی جماعتوں نے اسکی تائید بھی کی‘ وہیں کچھ مکتب فکر سے منسلک رہنماﺅں نے اسکے مطلوبہ نتائج سے پیشگی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کر یکسر رد کر دیا۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کوئی پارٹی یا حکومت تنہا دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکتی‘ ہم کالعدم تنظیموں کیخلاف سخت قانون لا رہے ہیں‘ ملک میں مذہبی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے قومی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماءکرام سے ملاقات اور چار گھنٹے طویل اجلاس کے بعد انہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف وفاقی اور پنجاب کی حکومتیں مل کر کام کر رہی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کی اب تک کی کارکردگی بہت ناقص رہی ہے‘ وزیر داخلہ رحمان ملک کے بلانے پر کچھ علمائے کرام یا مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں کے رہنماءاکٹھے تو ہو جاتے ہیں لیکن نتائج کبھی مثبت برآمد نہیں ہوتے کیونکہ اول تو علماءکی اپنی آواز اتنی توانا نہیں ہوتی‘ جتنی موجودہ حالات میں ہونی چاہیے۔ دوم یہ کہ حکومت بھی زبانی اعلانات‘ وعدوں اور دعوﺅں سے آگے بڑھ کر ٹھوس عملی اقدامات کرتی نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب ن لیگ اور حکومت پنجاب پر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا الزام لگا رہی ہیں‘ حکومتی ارکان نے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کا آسان راستہ یہ تلاش کر رکھا ہے کہ دوسروں پر الزام تراشی کی جاتی رہے‘ کچھ یہی حال دوسری سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کا ہے۔ رہی بات قومی کانفرنس کے انعقاد کی تو اس کا ہر سطح پر خیرمقدم کرنا چاہیے مگر اس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنے سے پہلے دہشت گردی کے تمام پہلوﺅں سے دقیق نظری کے ساتھ جائزہ لے کر اس کا کوئی مستقل اور دوررس حل تلاش کرنا ہو گا۔ آل پارٹیز کانفرنس کو قومی کانفرنس میں بدلنے اور کارآمد نتائج کے حصول کیلئے مقتدر سیاسی جماعتوں اور انکے اتحادی سیاست دانوں سمیت مذہبی جماعتوں کے ذمہ داروں‘ دانشوروں‘ عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کو بھی قومی کانفرنس میں شامل کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کل جماعتی کانفرنس میں دہشت گردی کے حقیقی اسباب کا جائزہ لے کر آئندہ کیلئے نئی حکمت عملی بنائی جائے جس میں خود مختار پاکستان کا تشخص مجروح نہ ہونے پائے اور ضروری ہے کہ قومی پالیسی کے ایجنڈے پر امریکہ نوازی سے جان چھڑائی جائے۔ ہم آخر میں بتائے دیتے ہیں کہ جب تک حکومت دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو ختم نہیں کریگی‘ قومی کانفرنسوں کے انعقاد سے دہشت گردی ختم نہیں ہو گی‘ بالکل نہیں ہو گی۔