نظریاتی سمر سکول کے بچے پنجاب یونیورسٹی کے مہمان

نظریاتی سمر سکول شاہراہ قائداعظم محمد علی جناح لاہور کے دہانے پر آباد ایوان کارکنان تحریک قیام پاکستان اپنی تدریسی و تربیتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اس تربیتی کیمپ کے پندرہویں روز بچوں کو صبح ٹھیک ساڑھے نو بجے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد کی قیادت و نگرانی میں پنجاب یونیورسٹی پہنچایا گیا اور جب نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی خوبصورت بسیں ان بچوں کو لے کر پنجاب یونیورسٹی کے قائداعظم کیمپس پہنچیں تو وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے اس نظریاتی کاروان کا خیرمقدم کیا۔ اس وقت منظر نہایت قابل دید تھا۔ جب ایک سابق وائس چانسلر یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر سے مصافحہ کر رہے تھے۔ گویا دنیا میں ہرچیز کی عارضیت کی حقیقت ابھر کر سامنے آ رہی تھی۔ ان بچوں کو سب سے پہلے پنجاب یونیورسٹی کے شاہ فیصل آڈیٹوریم میں پہنچایا گیا جہاں بچوں کے اس دورے کی سب سے بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، پروگرام کے مطابق ڈاکٹر مجاہد کامران نے اس تقریب کی صدارت کرنا تھی مگر ڈاکٹر رفیق احمد کی سنیارٹی کے احترام میں انہوں نے اپنے منصب و مسند صدارت کو اپنے مہمان گرامی کے سپرد کر دیا اور خود نہایت سادہ اردو میں بچوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پنجاب یونیورسٹی برصغیر ہندوستان کی پہلی ٹیچنگ یونیورسٹی تھی اور اپنے سال قیام کے اعتبار سے ایشیاء کی قدیم ترین ٹیچنگ یونیورسٹی شمار کی جاتی ہے۔ پہلے اس کا صرف اولڈ کیمپس ہی تھا جو شاہراہ قائداعظم لاہور کے دہانے پر واقع ہے مگر پھر جیسا کہ ڈاکٹر رفیق احمد نے اپنی تقریر میں بتایا کہ نہر کے کنارے پر 1800ایکڑ قطعہ اراضی صدر ایوب خان کے دور حکومت میں وہ کیمپس بھی تعمیر کیا گیا جس کو اب ”قائداعظم کیمپس“ کے اسم سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مجاہد کامران نے بتایا کہ چالیس برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ آڈیٹوریم نیا اور پرشکوہ نظر آتا ہے کیونکہ جس زمانے میں وہ آڈیٹوریم تعمیر کیا گیا اس دور میں ابھی سرکاری عمارات کی تعمیر میں بھی اچھا تعمیراتی میٹریل استعمال کیا جاتا تھا۔ پھر اس دور کے سعودی فرمانروا شاہ فیصل کے نام سے اس آڈیٹوریم کو معنون کر دیا گیا کیونکہ شاہ فیصل فروغ اسلام کے باب میں امریکہ اور دیگر طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھے لہٰذا ان کو اپنے اس عظیم مشن پر اپنی جان قربان کرنا پڑی۔ ڈاکٹر مجاہد کامران نے بھی ڈاکٹر رفیق کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ 1984ء سے 1989ء تک پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر مظہر سلیم اور خاتون مہمانداری میڈم ماریہ کا بھی بچوں سے تعارف کرایا اور ان کو بتایا کہ وہ سپین سے تعلق رکھتی ہیں اور پاکستان میں ان کی شادی ہوئی ہے۔ مجاہد کامران نے جب بچوں سے پوچھا کہ ان کو پنجاب یونیورسٹی میں آ کر کیسا لگا تو انہوں نے بیک آواز جواب دیا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری کا دورہ کر کے بہت خوش ہوئے تھے۔ مجاہد کامران نے یونیورسٹی کی لائبریری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ لائبریری اس سے بھی زیادہ وسیع و جامع ہونا چاہئے تھی۔ انہوں نے وہ بتایا کہ اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں 30500 طلباء و طالبات زیرتعلیم و تدریس تھے جبکہ 800 پروفیسرز حضرات اور 6ہزار ملازمین بھی اپنی خدمات اس یونیورسٹی کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ اب پنجاب یونیورسٹی کی عمر 128برس ہو چکی ہے۔ اس تقریب میں ایک طالب علم محب اللہ مصطفی نے بچوں کی طرف سے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے اپنے خطبہ صدارت میں فرمایا کہ انہوں نے جب وہ وائس چانسلر تھے پنجاب یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس کو جو شاہراہ قائداعظم لاہور پر واقع ہے ”علامہ اقبال کیمپس“ اور اس کیمپس کو جس میں فیصل آڈیٹوریم ہے ”قائداعظم کیمپس“ کے نام سے موسوم کیا تھا۔ انہوں نے وہ بھی فرمایا کہ وہ جناب قائداعظم ہی تھے جن کی عظیم الشان قیادت میں مسلمانان ہندوستان نے برصغیر پر مسلط انگریز اور اس کے گماشتے ہندو اور ان کے حواریوں کو پچھاڑ کر دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک پاکستان قائم کر دیا، اگر قدرت کاملہ کی طرف سے مسلم ہندوستان کو جناب قائداعظم عطا نہ ہوتے تو پاکستان قائم نہیں ہو سکتا تھا۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے نظریاتی سکول کے بچوں کو پنجاب یونیورسٹی کا دورہ کرانے پر وائس چانسلر مجاہد کامران کا شکریہ ادا کیا۔