فوج پر سویلین کنٹرول کیسے ہو؟

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

1965ءمیں امریکہ میں کالوں کو پہلی مرتبہ ووٹ کا حق حاصل ہوا۔ یہی سال صدر اوباما کی پیدائش کا سال بھی ہے۔ ایسا صحت مند امریکی جمہوری معاشرہ کی بدولت ہی ممکن ہو سکا کہ آج امریکہ کے وہائٹ ہاوس میں ایک کالا صدر نظر آ رہا ہے۔ پھر کالا بھی وہ جس کی رگوں میں مسلم خون کی آمیزش شک و شبہ سے بالا ہے۔ امریکیوںکو اپنی جمہوریت کتنی عزیز ہے، اس کا اظہار اکثر دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔ پچھلے ہی مہینے امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان میں شروع جنگ کے اہم ترین مرحلے پر اپنی فوج کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل کو برطرف کر دیا۔ اس مرحلے پر انہوں نے شائستگی کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑتے ہوئے دکھ کا اظہار بھی کیا اور معزول جرنیل کے اوصاف کا کھلے دل سے اعتراف بھی ضروری سمجھا۔ انہوں نے اس برطرفی کا بنیادی جواز جمہوریت کی بالادستی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ معزول جنرل کا طرز عمل فوج پر سویلین کنٹرول کو نقصان پہنچاتا تھا جو کہ ہمارے جمہوری نظام کا مرکز ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بنیادی فرق یہی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور فیصلے سویلین اتھارٹی کی گرفت میں ہوتے ہیں۔ مگر ترقی پذیر ممالک میں ایسا نہیں ہوتا۔ کیا دردناک بات ہے کہ دولخت ہوئے ملک کی قوم کو مایوسیوں کے طوفان سے نکال لانے والے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے منتخب وزیراعظم ایک جرنیل کے ہاتھوں تختہ دار پر چڑھا دیے جاتے ہیں۔ اس مرحلہ پر جنرل ضیاالحق کا م¶قف بیان کرنا بھی بڑا ضروری ہے کہ انہوں نے مارشل لا کیوں لگایا۔ ان کے قریبی ساتھی جنرل کے ایم عارف لکھتے ہیں کہ ”وہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ انہوں نے اس لئے مارشل لاءنافذ کیا تاکہ ملک کی وہ سلامتی اور آرمی کی وہ وحدت و یکجہتی برقرار رہے جس کو ایک منتخب آمر کی طرف سے خطرہ لاحق تھا اور جس کے عزائم جمہوریت کے لبادے میں چھپے ہوئے تھے۔“ پھر ایک اور واقعہ ہوتا ہے ۔۔ دو تہائی اکثریت کے حامل وزیراعظم جب اپنے صوبدیدی اختیارات برتتے ہوئے فوج کے سربراہ کو تبدیل کرتے ہیں تو انہیں جلاوطن ہونا پڑتا ہے۔ ایک سوال بڑا اہم ہے کہ کیا کسی وزیراعظم کے صوابدیدی اختیارت پر کوئی پابندی نہیں؟ کیا کامن سینس کی بھی نہیں؟ ہمارے سیاسی لیڈروں میں کامن سینس ویسے بھی اتنی کامن نہیں ہوتی۔ دلچسپی کی بات ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر لگائے جانے والے جنرل ان دنوں پنجاب حکومت میں ایک چھوٹی موٹی ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں۔ بانی¿ پاکستان حضرت قائداعظم کو اول روز ہی ایک جونیئر فوجی افسر کو ڈانٹنا پڑا تھا۔ اس نے شکایت کی تھی کہ اہم عہدے ماضی کی طرح ہی غیر ملکیوں کو دیے جا رہے ہیں۔ حضرت قائداعظم کا جواب تھا ”فوجی پالیسی آپ نہیں بناتے، ہم سویلین ان مسائل کا فیصلہ کرتے ہیں، یہ ہمارا کام ہے کہ ان فرائض کا تعین کریں جو آپ کو تفویض کئے جانے ہیں۔“ لیکن بدقسمتی سے 1953ءمیں آرمی چیف جنرل ایوب خان کو اس وقت کی سویلین حکومت نے اختیار دے دیا کہ وہ امریکہ سے اشتراک و تعاون کی راہ ہموار کریں۔ یوں وزارت خارجہ کو ایک طرف کر دیا گیا اور فوج قومی سیاست میں در آئی۔ پھر محمد علی بوگرہ کی کابینہ میں جنرل ایوب خان نے وزیر دفاع کا عہدہ اس شرط پر قبول کیا کہ وہ فوج کے چیف بھی رہیں گے۔ ایک عسکری رائٹر کے لفظوں میں ”بکھرتے لڑکھڑاتے ہوئے سیاستدانوں کی اس کابینہ میں کمانڈر انچیف کا وزیر دفاع بنایا جانا گویا کبوتروں کے پنجرے میں بلی کا داخلہ تھا۔“ ہمارے سیاستدان ہمارے منظم ترین قومی ادارے فوج پر سویلین کنٹرول تو چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی جماعت کو جماعتی الیکشن کے ذریعے منظم بھی نہیں کرنا چاہتے۔ وہ نامزدگیوں کے ذریعے گونگے بہرے اور بے حد وفادار کارکن جماعتی عہدوں پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ جماعتی الیکشن ان کی قائدانہ حیثیت کو چیلنج تو نہیں کرتا کیونکہ ہمارے ہاں سبھی سیاسی جماعتیں ایک شخصیت کے گرد ہی گھومتی ہیں۔ جماعتی الیکشن صرف کارکنوں کو اعتماد اور جرا¿ت گفتار مہیا کرتا ہے لیکن لیڈروں کو نہ ہی آزاد سیاسی کارکن قبول ہیں اور نہیں ہی آزاد میڈیا۔ جمعة المبارک کے روز پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف قرارداد پر آپس میں دست و گریباں رہنے والی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کتنی متحد تھی۔ میڈیا کی آزادی کسی حکمران کی دی گئی خیرات کا نتیجہ نہیں، میڈیا نے اس آزادی کی بڑی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ جناب مجید نظامی کے قلب کے تین آپریشن اس کی ایک زنذہ مثال ہیں۔ وہ ہر آمر کے دور میں صحافیوں کے قافلہ سخت جاں کے سالار رہے ہیں۔ سیاسی حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ موسیٰ کی عاقبت اور فرعون کی دنیا کسی ایک شخص کی قسمت میں نہیں ہوا کرتی۔ فوج پر سویلین کنٹرول حاصل کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کو فوج سے بڑھ کر منظم اور باصلاحیت ہونے کی ضرورت ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جعلی ڈگریوں کے ایک طوفان بدتمیزی اور الیکشن میں پارٹی ٹکٹ جاری کرنے میں پارٹی سربراہوں کی بے اصول من مرضی میں ایسا ممکن نہیں ہے؟