سانحہ جامعہ حفصہ و لال مسجد کا لہو اور جنرل(ر) مشرف

خواجہ ثاقب غفور ۔۔۔
قوم ان کالے نقاب اور برقعوں والی ہزاروں لڑکیوں کو بھول تو نہیں گئی جنہوں نے ’’شریعت یا شہادت‘‘کا نعرہ لگا کر ظالم، جابر،بے رحم جنرل(ر) مشرف کو للکارا تھا!! جولائی کا مہینہ آتا ہے تو ذہن چند سال پہلے کے دلخراش، ظلم و ستم کے سیاہ کارنامے کی طرف لوٹ جاتا ہے جب جنرل پرویز مشرف نے لال مسجد و جامعہ حفصہ کی مسجد و مدارس پر فوجی آپریشن کرکے سینکڑوں طلباء وطالبات کو آگ، بارود، بموں، بھاری ہتھیاروں، گولیوں، گرنیڈوں سے خون کے دریا میں تبدیل کر دیا بلکہ درجنوں کو فاسفورس جیسے آگ کے دریا میں ’’کوئلۂٔ بنا کر ان کی نعشیں بھی غائب کر دیں! جولائی کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن نے ملک بھر میں غم و اندوہ کا سماں باندھ دیا تھا۔ مسجد و مدارس میں قرآن پاک کے کم ازکم 10 ہزار نسخے تھے کیونکہ طلباء و طالبات کی تعداد5000 سے زائد تھی اس کے علاوہ احادیث کی کتب کئی ہزار مجموعے بھی تھے اور دینی کتب بھی! یہ سب بھی عظیم ترین بے حرمتی کا شکار ہو کر کوئلے کے کاغذوں میں تبدیل ہوگئے اور فوجی آپریشن کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کے ایمان، اسلام، جنت یا دوزخ کے بارے میں کئی سوالات چھوڑ گئے!
لال مسجد کے منبر و محراب سے ایک اسلامی انقلاب، حدود اللہ کے نفاذ، امریکہ کے خلاف جہاد، افغانستان کے اوپر امریکی قبضے کے خلاف مسلمانوں کے شرعی کردار، دعوت و تبلیغ اور پاکستان میں جنرل مشرف کے شعائر اسلامی کے خلاف اقدمات، روشن خیال اعتدال پسندی کے فتنے، کشمیر کے جہاد اور اسلام آباد میں 7 مساجد کی جنرل مشرف کی انتظامیہ کے ہاتھوں شہادت، اسلام آباد میں فحاشی و بدکرداری کے آنٹی شمیم اور دیگر کے کنجری خانے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تحریک کے بارے میں بیانات و تقاریر ہوتی تھیں!! یہ سب جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں، امریکی صدر بش، بھارتی صدر، افغان حکومت اور نیٹو کے افغانستان میں حملہ آوروں کو پسند نہیں تھا کہ اسلام آباد میں اسلامی انقلاب و جہاد کی تحریک اٹھے اور پھیلے، اس لئے یہ بات لال مسجد و جامعہ حفصہ کو شہید کرنے، بموں و گولوں سے گرانے اور جلانے کی شرمناک’’ایمان کش فتح‘‘ کے بعد امریکی صدر بش کے بیان سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لال مسجد آپریشن پر مشرف کو ہم نے حکم دیا تھا اور یہ امریکہ کے دبائو پر کیا گیا ہم گہری نظر سے جنرل مشرف کی لال مسجد آپریشن کی پالیسی کو دیکھ رہے تھے اور جنرل مشرف نے ہماری مرضی کے مطابق آپریشن کیا!! سرکاری زمینوں پر تعمیر کردہ مساجد کو گرانے، فحاشی مراکز کی بندش کے خلاف نہی عن المنکر کے قرآن و حدیث کے حکم کے نفاذ کے تنازعات پر شروع ہونے والا جامعہ حفصہ کی طالبات کا دلیرانہ کردار پاکستانی قوم کومدتوں یاد رہے گا۔ ان قرآن پڑھتی، ذکر، درود، حدیث میں مشغول پردہ دار کالے برقعوں والی لڑکیوںنے فحاشی و عریانی کے خلاف تحریک چلا دی جس سے جنرل پرویز مشرف کے \\\"ENLIHGTENED MODERATION\\\" کے فلسفے کی دھجیاں بکھر گئیں۔
پاک دامن، عفت مآب، حافظہ قرآن، سخت شرعی پردہ دار لڑکیوں نے جنرل مشرف کے امریکی و یورپی کلچرل حملے، ثقافتی و نظریاتی انقلاب کے آگے بند باندھنے کیلئے ’’شریعت یا شہادت‘‘ کا کلمہ حق بلند کر دیا۔ وہ سڑکوں پر آگئیں کہ کلمے کے نام پر بننے والے ملک میں ہم سینمائوں، تھیٹروں میں عریانی و فحاشی نہیں چلنے دیں گے! جامعہ حفصہ کی طالبات نے اپنے مظاہروں سے اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا۔ لال مسجد کے خطیب اور استاد مولانا عبدالعزیز اور ان کے اہل خانہ ام حسان اور بیٹے بیٹیوں کے علاوہ شہید اسلام غازی عبدالرشید نے 7 مساجد کی دوبارہ تعمیر کے ساتھ، اسلامی حدود کی سزائوں کا نفاذ کرنے کا مطالبہ اور تحریک شروع کی۔
جنرل مشرف کویہ سب اپنے اختیار، رٹ آف گورنمنٹ، طالبان کی پیش قدمی، اسلام آباد پر قبضے، اپنے اقتدار کے لئے خطرہ اور امریکی صدر کی نظروں سے گرنے کے خدشات کے طور پر’’کرسی ہلتی‘‘ نظر آنے کا یقین ہوگیا۔ حالانکہ ایسا کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں تھا صرف فوجی آپریشن کیلئے جھوٹا پروپیگنڈا اپنے خریدے ہوئے بڑے ٹی وی چینل اور ایجنٹ نما صحافیوں سے مسلسل کروایا جاتا رہا! تاکہ خبروں، تجزیوں، ماہرانہ آرائ، خصوصی پروگراموں، اخباری کالموں کے ذریعے جامعہ حفصہ کی طالبات کو شہید کرنے اور لال مسجد کے طلباء و قیادت کو خون میں نہلانے کے لئے قومی حمایت حاصل کی جا سکے!! صحافیوں نے دنیاوی مفادات کے حصول کیلئے جنرل مشرف کا ساتھ دیا پورے ملک میں صرف ایک چینل تمام تر جرنیلی دبائو مسترد کرکے فوجی آپریشن اور معصوم طالبات کو مارنے سے بچانے کی مہم چلاتا رہا یا آسمان صحافت کا ناقابل فروخت کردار مجید نظامی کی صورت میں جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں کو فوجی آپریشن نہ کرنے کا کہتے رہے اور ڈٹے رہے بڑے بڑے اسلام پسند صحافی بھی اپنے اخبارات اور کالموں میں ’’رٹ آف دی گورنمنٹ‘‘ قائم کرانے کے ایکشن کی حمایت کرتے رہے ان کی نظریں آنے والے وقت میں افواج پاکستان اور اسلام پسند خواتین و حضرات مجاہدین کے وسیع ٹکرائو اور خلیج کو دیکھ نہ پائی تھیں یہ محدود سوچ والے دنیادار ’’دانشور‘‘ پاک فوج اور مجاہدین، اسلامی انقلابیوں میں نہ ختم ہونے والی خلیج پیدا کرنے والے فوجی آپریشن کی حمایت کرتے نظر آئے۔ بہرحال جو فوجی آپریشن کیا گیا وہ ناگزیر ہر گز نہیں تھا۔ یہ صرف و صرف جنرل مشرف نے اپنی کرسی اور صدارت مضبوط اور توسیع کے لئے کیا تھا۔ اس آپریشن کا نتیجہ ملکی یکجہتی، سالمیت، ترقی، افواج پاکستان کے لئے بہت بھیانک نکلا۔ جنرل مشرف نے تقریباً90 تا 100 اموات کی تصدیق کی جبکہ آزاد غیر جانبدار ذرائع کہیں زیادہ افرادکے جلائے جانے پر بہ ضد ہیں اور یہ ہی حقیقت ہے۔ یہ افواج پاکستان کو ملک بھر کے اسلام پسندوں سے لڑانے کی کفریہ سازش تھی جو صدر بش اور یہودی منصوبہ سازوں کا اصل مقصد تھا اور اب بھی ہے!! جنرل مشرف نے طاقت کا استعمال بالکل ناجائز کیا کیونکہ آخری دنوں میں شہید غازی عبدالرشید اور مولانا عبدالعزیز ہتھیار پھینکنے، محفوظ مقام پر منتقل ہونے، لال مسجد و جامعہ حفصہ ایک غیر جانبدار علماء بورڈ کو دینے پر معاہدہ کر چکے تھے جس میں چودھری شجاعت حسین اور اعجاز الحق نے بطور خاص کردار ادا کیا لیکن وہ جنرل مشرف سے معاہدے کی حتمی منظوری لینے کا اختیار نہیں رکھتے تھے اور ایسا ہی ہوا۔
آج پھر وہ زخم تازہ ہیں کہ کیا پاکستان میں اسلامی انقلاب، قرآن و حدیث کے مطابق قانون کا نفاذ اور شرعی نظام کے نفاذ کی کوشش کرنا اور جہاد وقتال، دعوت و تبلیغ، درس قرآن کی محافل جرم ہیں؟؟ جامعہ حفصہ کی طالبات نے چوڑیاں اتار کر نہی عن المنکر اور حدیث کے بڑے درجے’’بُرائی کو قوت سے روک دو‘‘ کا راستہ چنا جو کہ خواتین کے لئے شرعی تقاضا بھی نہیں ہے، مردوں میں بھی جو باطل نظام اور حاکم کی ظالمانہ سختیاں برداشت کر سکے اس کی ہمت و طاقت کے مطابق نہی عن المنکر پر عمل کا مکلف ہے۔ لال مسجد و جامعہ حفصہ کے اساتذہ و طلبہ و طالبات نے قوت اور طاقت، تشدد، ڈنڈے مظاہروں، لائبریری پر قبضے کے جو اقدامات کئے ان کے طریقہ کار کو مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی، مفتی محمد رفیع عثمانی و مفتی حضرات نے غلط قرار دیا تھا لیکن مطالبات کو جائز قرار دیا تھا اس لئے دین اسلام کے نفاذ کی جدوجہد کو نبیؐ کے طریقہ کار کے مطابق چلانا ضروری ہے۔
آج تین سال بعد قوم کی یتیم، بے سہارا بیٹیاں(طالبات جامعہ حفصہ) اور شہید ہونے والی لڑکیوں کی روحیں پاکستان کے اعلیٰ حاکموں، جرنیلوں، جج صاحبان سے اپنی جانوں کے قاتلوں کو سزائوں کی فریاد کر رہی ہیں کیا امریکی ایجنٹ جنرل مشرف کو اعلیٰ عدالتیں طلب کرکے جامعہ حفصہ کی طالبات کے لہو کا حساب نہیں لے سکتیں؟ کیوں آخر کیوں؟ انصاف کی بالادستی، آئین و قانون کے حقوق، بے خوف فیصلے، عدلیہ کی آزادی، میرٹ پر فیصلے اور کئی طرح کے وعدے اور نعرے حقیقت میں تبدیل ہونے کا وقت ہے، طالبات مارنے کے مقدمے میں جنرل مشرف کو سزا دی جائے، انصاف فراہم کرنا اعلیٰ عدالتوں کا فرض ہے!! آج ہی پنجاب کے سینئر منسٹر راجہ ریاض نے مطالبہ کیا ہے کہ مشرف کو پھانسی دینی چاہئے۔ کیوں نہ دی جائے۔