جعلی ڈگریاں اور ممبران اسمبلی کا غیر مناسب ردِعمل

ڈاکٹر اعجازاحسن..............
وطن عزیز کی تاریخ میں مورخہ 9جولائی 2010ء ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ اس دن قانون بنانے والوں نے غیر قانونیت کے مرتکب ہونے والے افراد کے دفاع میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے اور ادھر میڈیا کو موردِ الزام ٹھہرایا کہ انہوں نے اس مسئلہ کی رپورٹنگ کیوں کی یعنی غور فرمایئے! ڈگریاں آپ کی جعلی ہیں لیکن قصور میڈیا کا ہے۔ دراصل میڈیا تو ایک آئینہ ہے اگر اس میں آپ کو اپنے چہرے پر داغ نظر آئیں تو قصور آئینے کا نہیں چہرے کا ہے آپ داغ دور کریں‘ شکل صاف شفاف ہو جائیگی۔ آئینہ توڑ دینے سے تو مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
ممبران اسمبلی کی طرف سے قانون کے احترام سے گریز کوئی نئی بات نہیں۔ عرصہ سے یہ گاڑیوں کے کالے شیشوں پر پابندی کی خلاف ورزی کرتے آئے ہیں حالانکہ یہ قانون انہوں نے خود بنایا تھا بلکہ یہاں تک کہ جب ایک مرتبہ ایک فرض شناس انسپکٹر پولیس نے ایک ممبر اسمبلی کو کالے شیشوں والی گاڑی میں جانے سے روکا تو ممبران اسمبلی نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا اور چیف منسٹر پر دباؤ ڈالا کہ اس افسر کو ملازمت سے سبکدوش کریں اور ایسا کروا کر ہی دم لیا۔ یعنی ستم ظریفی دیکھئے کہ قانون کی خلاف ورزی ممبر اسمبلی کر رہے ہیں اور ملازمت سے برخواست پولیس افسر ہو رہا ہے۔ کاش چیف منسٹر صاحب کو اپنی کرسی اتنی عزیز نہ ہوتی اور وہ ایک افسر کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے ’’جرم‘‘ پر ملازمت سے سبکدوش کرنے سے انکار کر دیتے۔ وزارت عظمیٰ تو آنی جانی چیز ہے قوم ان کو ہمیشہ ایک بااصول شخص کے طور پر یاد رکھتی۔ ایک زمانے میں بھارت میں مسٹر شاستری ریلوے منسٹر تھے۔ ایک ریل کا حادثہ پیش آیا اور آپ نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اصول پسندی کا اظہار کیا۔ آگے چل کر قوم نے انہیں وزیر اعظم بنا دیا۔ لیکن ہمارے ہاں اتنی اعلیٰ و ارفع سوچ کہاں سے لائی جائے؟
ممبران نے رپورٹرز‘ اینکر پرسنز کو بلیک میلر‘ کرپٹ اور جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دیا اور واک آؤٹ کرنے والے صحافیوں کو دھکے دیئے اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ ادھر پارلیمنٹری کمیٹی برائے تعلیم جس نے حکومت پر زور دیا تھا کہ ممبران کی ڈگریاں چیک کی جائیں۔ پارلیمنٹرینز نے اس کے چیئرمین عابد شیر علی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے خلاف بھی قرار داد لانے کا ارادہ ظاہر کیا۔
معاشرے کے تمام طبقوں میں غلط کاری کی مثالیں سامنے آتی ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پارلیمنٹرینز کا ردِعمل سب سے زیادہ نا مناسب ہے مثلاً پچھلے دنوں 32عدد ڈاکٹرز کی غیر ممالک سے حاصل کردہ ڈگریاں جھوٹی ثابت ہوئی ہیں لیکن یہ ڈاکٹرز ہرگز ایسے نہیں کہہ رہے ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف مسئلے کو اچھال رہا ہے اور نہ ہی میڈیا کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ سب سیاسی جماعتوں کے ممبران اسمبلی اس وقت یک زبان ہوتے ہیں جب ان کے ذاتی مفادات کا مسئلہ ہوتا ہے۔ مثلاً اگر مقروض ملک میں ممبران یا وزرا کی تنخواہوں میں اضافہ کا بل ہو تو وہ متفقہ طور پر پاس ہوتا ہے اگر کالے شیشے روکنے والے انسپکٹر اور اس کے افسروں کے خلاف ایکشن کا مطالبہ ہو تو اس میں سب شریک ہوتے ہیں حالانکہ وہ محض قانون نافذ کرنے کی سعی کر رہے ہوں ورنہ قومی مسائل میں ممبران کے درمیان اختلافات ہی اختلافات ہوتے ہیں ۔
معاشرے میں تمام اہل الرائے حضرات نے ممبران اسمبلی کے موقف سے اختلاف کیا ہے۔ ان کے اپنے عمائدین نے اس قرار داد کو غیر مشروط طور پر واپس لینے کا مشورہ دیا ہے اور انہیں یاد دلایا ہے کہ قانون ہر ایک کیلئے ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ اول تو جرم کے مرتکب ہوں اور اگر پکڑے جائیں تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق میڈیا پر برس پڑیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ جو معاشرے دنیا میں ترقی پذیر ہیں وہاں عوامی نمائندوں سے توقع کی جاتی ہے کہ ان کے کردار کا معیار عوام الناس کے متوقع کردار سے کئی گنا بہتر ہو وہاں یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ کسی ممبر اسمبلی کی ڈگری ہی جھوٹی ہو اور اگر کہیں ایک آدھ واقع پیش بھی آئے تو وہ استعفیٰ بھی دے گا اس پر کیس بھی چلے گا اور اس کو سزا بھی ملے گی۔ وہ قومیں اسی طرح اپنی تطہیر کا اہتمام کر کے گڈگورننس کو یقینی بناتی ہیں۔ ممبران اسمبلی کو چاہئے کہ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کا دفاع کرنے کی بجائے ان کا اخراج یقینی بنائیں تا کہ اسمبلیوں کی تطہیر ہو ان کی ساکھ بحال ہو اور وطن عزیز ترقی و خوشحالی کی سمت رواں دواں ہو۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔