جعلی ڈگریاں، ننگ وطن نام نہاد لیڈر

امیر نواز نیازی ۔۔۔
ہم میں سے کچھ لوگ سچ میں جھوٹ ملانے کے اس قدر ماہر ہیں کہ ان کی اس فنکاری میں سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے اور درختوں کی کھال کو اس مہارت سے یک جان و یک قالب بنا لیتے ہیں کہ چائے پینے والے تو کیا، سری لنکا سے ماہرین کو بھی بلا لیں۔ وہ اس کی شناخت نہیں کر سکیں گے۔ مرچوں میں پسی ہوئی اینٹوں کی آمیزش سے مرچوں کا اس طرح دم خم نکال دیتے ہیں کہ کھانے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ مرچیں کھا رہے ہیں۔ یا اینٹیں یہاں تک کہ پھیکے پھلوں تک کو سکرین کے انجیکشن لگا کر انہیں اس قدر شیریں بنا دیتے ہیں کہ کھانے والا زبان چاٹتے رہ جاتا ہے اور طب کے میدان میں تو انجیکشنوں میں پانی بھر کر ٹیکے بنا لینا بیسن اور راکھ سے بھرے شفا بخش کیپسول بنا لینا اور چونے اور مٹی سے دو نمبر گولیاں تک بنا لینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ علیٰ ہذاالقیاس آپ بازار جائیں۔ ہر مال کا دو نمبر برینڈ دستیاب ہو گا اور ہر برینڈ کا متبادل ہی نہیں۔ ہوبہو اس کی نقل موجود ہو گی۔ اور اب تو اس فن میں ہم یہاں تک ترقی کر چکے ہیں کہ ہمارے ہاں اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کی اعلیٰ ترین ڈگریاں بھی نقل بمطابق اصل تک آسانی سے دستیاب ہیں اور یہ ڈگریاں اب ملک کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک جا پہنچی ہیں اور ہماری قانون ساز اسمبلیوں کے معزز ممبران، اصلی اور نقلی ان دونوں ڈگریوں کو اپنی اپنی قابلیت اور حیثیت اور ضرورت کے مطابق استعمال میں لا کر مستفید ہو رہے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہونے دیتے کہ کون اصلی ہے اور کون نقلی اور دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ان ایوانوں میں بیٹھ کر ایسی جعل سازیاں کرنے والوں کے لئے سزا کے قوانین تجویز اور ترتیب دیتے ہیں اور یہاں افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ قوم ان فریب کاریوں اور جعل سازیوں کی اس قدر عادی بلکہ اور بے حس ہو چکی ہے کہ انہیں اس کا احساس زیاں تک بھی جاتا رہا ہے۔ نہ کوئی اعتراض کرتا ہے نہ احتجاج اور ہم کرپشن اور ایسے کاموں کے لئے دنیا بھر میں بدنام ہو رہے ہیں اور بدنام ہو کر بھی یوں نام پیدا کر رہے ہیں اور اپنے اس نام ”پاکستان“ پر بھی نازاں ہیں یعنی ”پاک“ لوگوں کا یہ ملک پاکستان کہاں پاکیزگی ہے اور کہاں غلاظت کوئی تمیز کر سکے تو جانیں اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملک میں عدلیہ اور میڈیا جب سے آزاد اور فعال ہوئے ہیں۔ ایسے سارے ناپاک فعل اور جرائم کا ایک ایک کر کے پول کھلتا جا رہا ہے تو گراں خواب عوام بھی اب خواب غفلت سے بیدار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں ہماری اسمبلیوں میں سے تھوک کے بھاﺅ ان جعلی ڈگریوں کے انکشافات ہو رہے ہیں۔ عوام جہاں انگشت بدنداں ہیں کہ جن لوگوں کو وہ اپنے آئین کے مطابق، صادق اور امین سمجھتے تھے۔ کیا سے کیا نکلے۔ تو وہ ان کو آئین اور قوانین کے مطابق قرارواقعی سزا دینے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ تو ہونا بھی یہی چاہئے کہ قانون اور اخلاق کے ان مجرموں کو ان کے بنائے ہوئے ایسے قوانین کے مطابق سزا ملے کہ دنیا بھر میں بھی یہ پیغام جائے کہ ہم کرپشن اور ایسی بدعنوانیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں سنجیدہ ہیں اور یہ کام ہم نے امام خمینی کی طرح اپنی اعلیٰ ترین سطح سے شروع کیا ہے۔ جو آگے چل کر نچلی سطح تک بھی اثر پذیر ہو گا لیکن افسوس یہاں حکمران، اپنی حکومتوں کو بچانے کی خاطر ایسا کرتے نظر نہیں آ رہے۔ بلکہ مجرموں کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں اور ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے ایسے قوانین صرف عوام اور نچلی سطح کے لوگوں کے لئے بنا رکھے ہیں اور یہ تو گنگا بہائے ہوئے ہیں۔ انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ حکومت لاکھ انہیں بچانا چاہے بچا نہیں سکے گی۔ ان لوگوں کو سزا دینا پڑے گی۔ ورنہ وہ خود ایسی سزا پائے گی جو پاکستان کی تاریخ میں ایک مثال بن جائے گی بلکہ اسے تو اب مشرف دور کی اسمبلیوں کی ڈگریاں بھی چیک کرنا پڑیں گی اور جنہوں نے اس جعلسازی سے پانچ سال حکومتوں کے مزے اڑائے۔ وہ بھی موجب سزا ٹھہرائے جائیں اور ایسا نہ ہوا تو ہمیں ڈر ہے ملک بھر میں دما دم مست قلندر ہو جائے گا جس سے بانس بچے گا نہ بانسری اور اس کے آثار ابھی سے پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔