ایک پتا گرا پیڑ سے

صحافی  |  سعد اللہ شاہ

پنجاب اسمبلی کے ارکان کو لینے کے دینے پڑ گئے ”خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا“۔ ملک بھر کے صحافی پنجاب اسمبلی کی جانب سے میڈیا کے خلاف منظور کی گئی قرار داد کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ صحافی برادری نے پورے ملک میں یومِ سیاہ منایا ہے اس حوالے سے عوامی سطح پر انہیں بہت زیادہ پذیرائی ملی‘ ریلیاں نکالی گئیں ‘دھرنے دیے گئے اور پنجاب اسمبلی کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔ اس پرامن احتجاج کا مقصد قرار داد کی واپسی اور پنجاب اسمبلی کی طرف سے معافی مانگنے کا مطالبہ ہے۔ پنجاب اسمبلی کے لیے یہ ردعمل لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہوگا۔ وکلاءاور دوسری تنظیمیں بھی صحافیوں کے ساتھ آ ملی ہیں‘ اس کی وجہ سامنے کی ہے کہ ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ سیاست دان اپنے سیاہ کرتوتوں اور بدعنوانیوں کو چھپانے کے لیے صحافیوں پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
اصل میں یہ سارا معاملہ جعلی ڈگریوں سے بگڑا ہے۔ میڈیا نے جعل سازوں کو کچھ زیادہ ہی ایکسپوز کر دیا اور پھر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے:
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
ویسے ارکان اسمبلی اور میڈیا کا ساتھ نیا نہیں۔ فرق صرف یہ پڑا ہے کہ اب میڈیا آزاد ہے اور پھیل چکا ہے جبکہ اراکینِ اسمبلی اپنی کارروائیوں کو چھپا نہیں سکتے اور نہ آزادانہ کھل کھیل سکتے ہیں۔ پہلے صحافی اراکین کے پیچھے پیچھے ہوتے تھے اور اب معاملہ الٹ ہوگیا ہے۔ خاص طور پر اینکر پرسنز جیسا ان کے ساتھ سلوک کرتے ہیں کسی سے مخفی نہیں۔ میڈیا یقیناً ان کی بھد اڑاتا ہے مگر موقع تو سیاست دان خود فراہم کرتے ہیں۔ ویسے یہ تالی بھی ایک ہاتھ سے بجنے والی نہیں۔ خواتین کی انڈین فحش گانوں کے ساتھ فوٹیج چلانا تو ہرگز صائب نہیں‘ مگر یہ ’کارنامہ‘ تو کسی ایک چینل کا ہوگا۔ اسے بہانہ بنا کرپوری صحافی برادری کو گالیاں دینا‘ زد و کوب کرنا اور قتل کی دھمکیاں دینا تو خالص فیوڈل لارڈز کلچر کا وطیرہ ہے‘ جو فی الوقت نئی دنیا کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ زمانہ بدل چکا ہے۔ سیاست دانوں کو یقین کر لینا چاہیے کہ عدالتیںآزاد ہو چکی ہیں اور میڈیا کسی ناجائز پابندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور عوام بھی منہ پھٹ ہو چکے ہیں۔
حالات سیاست دانوں کے حق میں کچھ اچھے نہیں۔ انقلاب ان کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔ اب وہ کھایا پیا ہضم نہیں کر سکیں گے۔ لوٹی ہوئی اربوں ڈالر کی رقم کا کم از کم ماتم ضرور ہوگا۔ حیرت تو یہ کہ ایک آمر کی جوتیاں چاٹنے والے اب میڈیا کے خلاف قرار دادیں پیش کر رہے ہیں۔اور آمر سے جوتیاں کھانے والے پھر اسے دعوت دے رہے ہیں۔ جنرل ضیاءنے کہا تھا کہ یہ سیاست دان ایک ٹکڑے کے پیچھے دم ہلاتے ہوئے آتے ہیں‘ کاش سیاست دان اس کی بات کو غلط ثابت کر دیں۔
صحافیوں نے پنجاب اسمبلی کی قرار دادنذرِ آتش کر دی ہے اور مسلسل بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ صحافیوں کو بھی آخر کچھ کرنا ہے کہ ”مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا“۔ سیاست دان ان کے بغیر کہیں کے نہیں۔ وہ بھی کل کلاں باہر نکل کر اس عورت کی طرح کہ جسے محلے کے بچے تنگ کرتے تھے‘ کہیں گے ”اوئے اج کدھر مر گئے او“۔ اب غصہ تھوک دینا چاہیے۔ انہیں خندہ پیشانی اور فراخ دلی سے صحافیوں کے خلاف منظور کی جانے والی قرار داد کو واپس لے کرمعذرت کر لینی چاہیے۔ شہباز شریف صاحب کو اس معاملے پر نہایت سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اورصحافیوں کو بھی ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ
حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں
کوئی کیا کرے کہ آج پھر تین کالمی خبر پہلے ہی صفحہ پر جلوہ نما ہے ”کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے“ مزید چار ایم این ایز اور دو ایم پی ایز کی ڈگریاں جعلی نکلیں۔ علاوہ ازیں دو وفاقی وزراءاور ایک سینیٹر کی اسناد غیر مستند ہیں۔ اب میڈیا کیا کرے۔ موسمِ خزاں ہے اورظالم ہوائیںدرختوں سے پتے گرا رہی ہیں۔ اظہار شاہیں نے کہا تھا:
ایک پتا گرا پیڑ سے
ٹوٹنا کتنا آسان ہے