پاکستان! ہوشیار باش

کالم نگار  |  ڈاکٹر راشدہ قریشی

گزشتہ سال 2013ءکے آخری دو ماہ بے حد اہم تھے۔ نومبر اور دسمبر میں عالمی سیاسی پس منظر میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں ہوئیں جو مستقبل پر اثر انداز ہوں گی۔ امریکہ اور امریکی حواریوں کے ساتھ ایرانی ایٹمی معاہدہ قابل ذکر ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ایران نے 2013ءنومبر میں امریکہ کے پانچ ساتھی ممالک کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کو سرنڈر کرنے کا جو معاہدہ کر دیا ہے یہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے کیونکہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں امریکہ کی جس طرح کی غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے اس سے کہیں زیادہ دلچسپی امریکہ کی پاکستان کی ایٹمی تنصیبات تک رسائی کے حصول میں ہے بلکہ ایران امریکی ایٹمی معاہدے کے بعد پاکستانی ایٹمی پروگرام کیخلاف امریکی حوصلہ بڑھ گیا ہے۔ بہرحال اتنا ضرور ہے کہ پاکستان ایٹمی تنصیبات کی حفاظت ہماری پاک فوج کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
امریکہ اور دیگر پانچ ممالک جن میں برطانیہ، چین، جرمنی اور فرانس شامل ہیں کی موجودگی میں حال ہی میں نومبر 2013ءکو یہ طے کیا کہ -1 ایران اپنی ایٹمی سرگرمیاں محدود کر دے گا -2 چھ ماہ کے اندر وہ یورینیم کی افزودگی کو 20 فیصد ناکارہ بنا کر کم کر دے گا -3 ایران کے آراک کے مقام پر پانی کے جوہری منصوبے پر کام روک دے گا -4 نئے سینٹری فیوجز نصب نہیں کئے جائیں گے -5 عالمی مانیٹرنگ ٹیموں کو روزانہ کی بنیاد پر جوہری تنصیبات تک رسائی دی جائے گی۔ ایران کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنے کا مغرب نواز یہ معاہدہ مسلم کمیونٹی کیلئے امریکی عزائم و مغربی ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے سرنڈر ہوتے ہی اب ایران کو وہ سات ارب ڈالر حاصل ہو سکیں گے جو ایران کے معاشی استحکام کے پروگرامز کو بلاک کر کے روک لئے تھے۔
ایرانی حکومتی نقطہ نظر کے مطابق ایران کا یہ معاہدہ ملکی اقتصادی استحکام کیلئے اہم ہے کیونکہ ایٹمی پروگرام کی شروعات ہی سے ویسٹرن گلوبل کمیونٹی کے اندر ایک اضطراب پیدا ہو گیا تھا اور اس اضطراب کے اطمینان کیلئے امریکہ اور یورپی یونین نے ایرانی عالمی لین دین پر پابندیاں عائد کر دی تھی یہاں تک کہ پورے خطے پر جنگی بادلوں کے سایے گہرے ہو چکے تھے۔ اسرائیل نے بارہا عراق کے بعد ایران پر حملے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس تمام دباﺅ کے باوجود ایران کے اندرونی حالات امریکہ کے ساتھ ایسے معاہدے کیلئے سازگار نہ تھے۔ احمدی نژاد کا وسیع حلقہ اور ایران کی مذہبی تنظیموں کا اس معاہدے کے خلاف سخت ردعمل آتا رہا ہے بس اتنا فرق ضرور پڑا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی کم ہو گئی ہے اور دوستی کے روابط پروان چڑھ رہے ہیں۔ دوسری طرف جنوب ایشیا خطے کے حالات یہ بھی سیاسی و اقتصادی سطحوں پر تبدیلیوں کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ عین ممکن ہے اب پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر جو امریکی اعتراضات اُٹھے تھے وہ اعتراضات ختم ہو جائیں۔
یہاں یہ امر اہم ہے کہ ان حالات میں پاکستان کو تیل کی فراہمی کا سلسلہ بھی اگر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے تو پاکستان کے توانائی بحران میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 2002ءمیں یورپی یونین نے بھی امریکی اتحاد سے ایران پر تیل کی گلوبل مارکیٹنگ روک دی تھی۔ آج کی اس صورتحال جس میں امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی قرابت داری میں آ رہے ہیں جنوب ایشیا خطے میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے جس سے بھارت فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ امریکہ کا جھکا¶ بھارت کی جانب ہے اور امریکہ ایران پاکستان کی بجائے بھارت کو ایران کے قریب لانے کی کوشش کرے گا تاکہ خطے میں بھارت کے منی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کے خواب کو سچ بنا سکے۔
ادھر صوبہ خیبر پی کے میں پی ٹی اے نے نہایت کامیابی کے ساتھ نیٹو سپلائی معطل کرنے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے جس سے امریکہ پریشان ہے۔ اب امریکہ کی ایران کے ساتھ ہونے والی یہ نئی دوستی امریکہ اور نیٹو کو ایران کے راستے افغانستان تک راہداری دینے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ بھارت ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی لین دین کیلئے بھی گوادر پورٹ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر ایرانی چاربہار بندرگاہ کے ذریعے بھی تجارت کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ تجارتی تعلقات کی بنیاد پر ایران و افغانستان کو اپنے جال میں پھنسا کر بھارت خطے میں پاکستان پر ایک نفسیاتی جنگ مسلط کر سکتا ہے۔
امریکی ایجنسیوں اور تنظیموں کی افغانستان و پاکستان میں موجودگی اور بھارت کی سفارتکاری کے نام پر پاکستان کی جاسوسیاں سب پاکستان کو ایران و افغانستان سے دور کرنے اور پاکستانی ایٹمی تنصیبات کو غیر محفوظ بنانے کیلئے کافی ہیں۔ چنانچہ اس وقت پاکستانی قیادت کو خطے میں شامل تمام ملکوں اور خصوصاً اپنے مسلمان ہمسایوں کو اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کی پالیسی بنانا ہو گی۔ امریکی سرپرستی میں بھارت اگر ایران و افغانستان پاکستان کے مابین پھوٹ ڈلوائے گا تو نشانہ پاکستان کو ہی بنائے گا۔ پاکستان کو چھیڑنا بھارت کیلئے بہت مشکل نہیں تو کچھ اتنا آسان بھی نہیں۔ بس افغانستان، ایران اور بھارت کا تکونی اتحاد نہ بننے پائے کیونکہ اب ایران کی باگیں امریکہ اپنے ہاتھ میں لے چکا ہے، افغانستان کو کٹھ پُتلی بنا چکا ہے اور بھارت کو پاکستان کے خلاف ہلہ شیری دیتا رہتا ہے۔ اب اتحاد بین المسلمین کی روح کو تازہ کرنے میں پاکستان کا کردار تاریخ ساز ہونا چاہئے۔