مسائل اور ہمارا رویہ

کالم نگار  |  مسرت قیوم

2013 ء بلا شبہ سیاسی طور پر کافی ہنگامہ خیز رہا۔۔مگر سیاست کے ظالمانہ ہنگامے۔شور شرابے۔عوام کو ریلیف دینے سے تو قاصر رہے مگر اِن تماشوں کیوجہ سے ملک کو ہر محٓاذ پر ناکافی کا سامنا کرنا پڑا۔یہ تماشے عصری تاریخ کا ایک تکلیف دہ۔تاریک باب تھا۔گزرے سال میں ’’جمہوریت‘‘ ایک ایسا چراغ ثابت ہوا جو عوام کو مسلسل تپش دیتا رہا۔۔2013 صرف ایک کام۔ اقتدار کی باگیں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں ۔حالات پہلے سے بھی بدتر مگر قیادت امیر تر۔ پونے اٹھارہ کروڑ عوام مہنگائی کی آگ میں جل رہے ہیں بقیہ ارب ، کروڑ پتی ٹیکس نادہندہ لیڈر قوم کے پیسے پر عیش کر رہے ہیں۔۔ خود ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں مگر قوم کو ایثار ، قربانی کے سنہرے اقوال سے بہلا رہے ہیں۔ مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ ’’مڈل کلاس ‘‘ پر پڑا کیونکہ غریب تو پہلے ہی خط غربت سے بھی نیچے لیول زندگی گزار رہے ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی گرانی باعث آزاد بن چکی ہے۔ جاڑہ عروج پر ہے اور گیس نا پید ۔ گھروں کے چو لھے ٹھنڈے پڑے گھریلو خواتین کی بے بسی کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ قوم حالات کی ستمگری کے رحم و کرم پر پیں۔ قوم کو پارلیمانی کار کردگی دکھانے۔ حق نمائندگی کو جائز کرنے کی بجائے ’’سٹرکوں کے تماشے‘‘ میں اُلجھا دیا گیا ہے۔ مہنگائی کنٹرول کرنا ہے تو پٹرولیم قیمتوں میں کمی کر دو مگر اسکی بجائے ’’سستے بازاروں‘‘ پر کروڑوں روپے پرباد کرڈالے۔ نئے سال میں حالات واقعات کی حدت بڑھانے یا پھر معاملات کو پر سکون انداز میں ناظرین تک پہنچانے کا بڑا دارو مدار ’’میڈیا‘‘ پر رہے گا احسن ہوگا کہ ’’میڈیا‘‘ نئے سال کو ’’بریکینگ نیوز‘‘ کے پنجرے سے آزاد کر دے۔عوام کے حقیقی مسائل کو اُجاگر کرے اور بلاوجہ ریاست کیلئے پریشانی پیدا نہ کرے۔۔ انرجی بحران۔ توانائی کی قلت پر قابو پانے کے منصوبے فی الحال تو کاغذوں پر تحریر ہو رہے ہیں اس لئے زیادہ امیدیں وابستہ کرنا نری بے وقوفی ہے۔ایسے منصوبے دنوں میں نہیں سالوں میں تکمیل پذیر ہوتے ہیںمگر خطرہ ہے کہ بجلی اور مہنگائی کہیں نظام کو ہی نہ نگل لے کیونکہ اِس سال عوام کا اشتعال صبر کا دامن چھوڑ سکتا ہے۔پاکستان تہہ در تہہ حالات کی سنگینی میں پھنسا ہوا ہے۔اگر ایک طرف انرجی۔۔مہنگائی ہمارے نظام کو کمزور کر رہے ہیں تو دوسری طرف دہشت گردی بدستور تلوار کی مانند ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے۔ ابھی تک معلوم نہیں ہو پایا کہ حالات کب اور کیسے اور کتنی مدت کے بعد بہتری کا رخ اختیار کرینگے۔ اِس ناسور کو حل کرنے کیلئے حکومت کو تمام طبقہ زندگی کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ حکومت فوج کی یکجائی اور موقف ایک ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اب کوئی خطرہ نہیں۔ یا اِس امر کا اعلان کہ دہشت گردوں کے حملے برداشت نہیں کرینگے۔ ایک مثبت ۔ سیاسی بیان نہیں ہوسکتا۔ بیان بازی معاملات کو الجھا رہی ہے جبکہ اس سمت میں خاموشی کے ساتھ پیش رفت کیلئے تمام گروہوں قیادت کا ایک متفقہ لائحہ عمل کیساتھ ’’ایک صفحہ‘‘ پر ہونا ضروری ہے۔ اِسی سال خطہ سے ’’اتحادی افواج‘‘ کا انخلاء ہے افغانستان پر ’’ نیٹو‘‘ کا 3 سالہ قبضہ ۔کامیابی کی کسی بھی بڑی کہانی جنم دینے میں ناکام رہا وہاں پاکستان کے حصہ میں ناکامیاں زیادہ تواتر سے آتی رہیں۔ خارجہ محاذ پر حکمرانوں سے ’’ذاتی روابط‘‘ استوار کرنے کی نسبت اقوام کی سطح پر مضبوط تعلقات پائیدار ہوتے ہیں۔۔ پچھلے ایک عشرے سے ہم دیکھتے آئے ہیں کہ 65 سالوں سے اتنے دورے نہیں ہوئے جتنے کچھ برسوں سے دیکھ رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اِن کامیاب دوروں کے ہزاروں معاہدے کِس مدفن کا حصہ بن گئے یا پھر ’’ذاتی حکمرانی دوستی‘‘ کے فوائد پاکستان کو اب تک کیوں منتقل نہیں ہو پائے۔ حکومت میں با صلاحیت اہل لوگ موجود ہیں۔۔ ضرورت صرف دیانتداری کی ہے۔ خارجہ و داخلی پالیسیوں کی ناکامی اور معاشی زبوں حالی میں ماضی کی حکومتوں کا ناقص منصوبہ بندی کا الزام بڑی حد تک سچ ضرور ہے مگر اب ہمیں’’ماضی کے گودام‘‘ کو بند کر دینا چاہیے ’’جنرل مشرف‘‘ یقیناً اِسی سال باہر چلے جائیں گے مگر اس بند کھاتے کو کھول کر سوائے مایوسی ۔انتشار کے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔ نئے سال کا ابتدائی مہینہ تو اس گرما گرمی میں گزرے گا۔۔ہم یہاں پھر ’’میڈیا‘‘ سے کہیں گے کہ خدارا اس ملک کی ترقی کیلئے مثبت کردار ادا کرے۔اس ملک کو بیرونی دُنیا میں ایک ذہین ۔ قابل افراد کا حامل وطن پیش کرنے کی تدابیر اپنائی جائیں۔ ہم پر لگے دہشت گردی ،،جھگڑالو قوم کے داغ دھونے کیلئے آگے آئے ناکہ ’’منتشر افراد‘‘ کا گروہ دِکھانے پر توانائیاں ضائع کرے۔ سیاسی اکابرین حسب مزاج شور مچاتے رہیں گے مگر حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں۔ پشین گوئی نہیں یہ محض ’’تجزیاتی حس‘‘ کی بنیاد پر لکھ رہے ہیں کہ ہر طرف ’’شرافت ہی شرافت‘‘ رہے گی مگر اِس کو پائیداری سمجھ کر آرام سے بیٹھنے کا نتیجہ اُلٹ جائیگا۔ دھرنے۔ ریلیاں ہماری سیاسی تاریخ کا ایک بدقسمت باب بن چکی ہیں۔سڑکوں پر سرکس لگانے کی بجائے منتخب ایوانوں کو عزت و توقیر دیں۔اگر سیاسی زعماء کرام ایسا کرنے میں ناکام رہے تو پھر ایک طویل کالی رات مقدر نہ بن جائے۔۔