عطاء الحق قاسمی اور نظریہ پاکستان کی سچائی

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

عطاء الحق قاسمی اورنظریہ پاکستان کی سچائی ممتاز کالم نگار عطاء الحق قاسمی نے اپنے 9 جنوری کے کالم میں تحریر کیا ہے کہ ’’ میں کٹرپاکستانی ہوں، مسلمان ہوں اور اس سیکولر ازم کا حامی ہوں جس کا اعلان قائد اعظم نے اپنی 14 اگست کی تقریر میں کیا تھا۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان کانام سیکولر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو‘‘ میں جناب عطاء الحق قاسمی کی خدمت میں بصد احترام عرض کروں گا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1938 ء سے لے کر 1947 ء تک اپنے 100 سے زیادہ اور پھر قیام پاکستان کے بعد 14 مرتبہ اپنے بیانات اور تقاریر میں اسلامی نظرئیے، اسلامی قومیت، اسلامی تہذیب و معاشرت، اسلامی قانون، اسلامی کلچر، اسلامی تشخص ، اسلامی تاریخ ، اسلامی تصورات، اسلامی اصولوں پر مبنی معاشی و معاشرتی انصاف ، شریعت اور قرآنی قوانین اور اسلام کے روحانی نظریات کے الفاظ تو استعمال کئے ہیں لیکن سیکولر ازم کا لفظ قائد اعظم کی سیاست کی ڈکشنری میں موجود نہیں۔ اسلام کے ساتھ سیکولر ازم کے لفظ کو جوڑنا ویسے بھی ایک انتہائی مہمل اور بے معنی بات ہے۔ قائد اعظم نے اپنی 11 اگست 1947ء کی تقریر غیر مسلموں کے مساوی شہری حقوق اور انکے جان و مال کے مکمل تحفظ کی جو بات کی تھی وہ اسلام کی اساسی تعلیمات کے عین المطابق تھی۔ قائد اعظم نے یکم جولائی 1948 ء کو کسی عوامی اجتماع میں اپنی آخری تقریر میں فرمایا تھا کہ ’’ ہمیں دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہو گا جس کی اساس انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچے اسلامی تصور پر استوار ہو ۔ اس طرح ہم مسلمان کی حیثیت سے اپنا مقصد پورا کر سکیں گے اور بنی نوع انسان تک امن کا پیغام پہنچا سکیں گے‘‘
عطاء الحق قاسمی کی یہ خواہش کہ پاکستان کا نام ’’سیکولر اسلامی جمہوریہ‘‘ ہونا چاہئیے۔ اس لئے درست نہیں کہ لفظ سیکولر ازم نہ صرف اسلام بلکہ ہر مذہب کی ضد ہے۔ اگر کسی شخص کو سیکولر ازم کا مفہوم معلوم نہ تو وہ سیکولر دانشوروں سے پوچھ لے کیا انہیں’’ سیکولر اسلام ‘‘ ’’سیکولر قرآن‘‘یا ’’سیکولر حدیث‘‘ کی اصطلاحات سے اتفاق ہے۔ اسلام یا لفظ اسلامی کے ساتھ سیکولر ازم کی پیوند کاری کو اسلامی تعلیمات کی توہین کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔میرا کالم’’نظریہ اسلام کی سچائی‘‘ جناب عطاء الحق قاسمی بھی پڑھ لیں۔ ممکن ہو تو وہ قائد اعظم کی تمام تقاریر کا مطالعہ کریں۔ انہیں قائد اعظم کے افکار میں کہیں بھی ’’ سیکولر اسلام‘‘ جیسا عجیب الخلقت لفظ نہیں ملے گا۔
نظر یہ پاکستان کی سچائی:
نظریہ پاکستان کی سچائی کو پاکستان کے بدترین دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ نظریہ پاکستان کو تسلیم کرنے کیلئے ایک مختلف انداز اختیار کرتے ہیں۔ ہمارے ازلی دشمن انڈیا نے پاکستان کو توڑنے کیلئے کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اندرا گاندھی نے سقوط مشرقی پاکستان کے بعد اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’’مسلمانوں نے تحریک پاکستان کی بنیاد ایک باطل نظرئیے پر رکھی تھی۔ ہم انہیں بار بار سمجھاتے رہے کہ ان کانظریہ غلط ہے۔ انہوں نے نہ مانا اوراپنی ضد پر قائم رہے ۔ اب 25 سال کے تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ جو کچھ ہم کہتے تھے وہ درست تھا اور ان کا نظریہ باطل ۔ یہ انکے باطل نظریے شکست ہے‘‘۔ اندرا گاندھی نے بار بار اس نظریے کو باطل قرار دیا ہے جس پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ لیکن اندرا گاندھی نے یہ اقرار تو کر لیا کہ پاکستان کی بنیاد ایک نظریے پر رکھی گئی تھی۔ پاکستان میں موجودہ سیکولر طبقہ اور بھارتی لابی کے زیر اثر کام کرنیوالے دانشوروں میں تو اتنی اخلاقی جرات بھی نہیں کہ وہ اس سچ کو مان لیں کہ پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیاتھا۔عبدالغفار خاں کے اس مفنافقانہ طرز عمل کیطرف دوبارہ دھیان دیجیے کہ پاکستان کی مخالفت میں جب عبدالغفار خاں اور ڈاکٹر خان صاحب نے پٹھانستان کے نام سے الگ ریاست کاسٹنٹ چھوڑا تھا تو انہوں نے پٹھانوں سے اپیل کی تھی تمام پٹھان اسلامی نظریات کی اساس پر پختون ریاست کے قیام کیلئے متحد ہو جائیں۔ یہ عجیب نقطہ نظر ہے کہ پٹھانوں کو متحد کرنے کیلئے سرحدی گاندھی اسلام کا حوالہ دیتے ہیں اور جب پاکستان کی باری آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اسلام کے رشتے پر پاکستان کو متحد نہیں رکھا جا سکتا۔
اسلام اور قرآن کے جعلی علمبردار خان بردران سے قائد اعظم نے جولائی 1947ء میں اپنے ایک اخباری بیان میں سوال کیا تھا کہ یہ خان بردران ہندوئوں کی جماعت کانگرس میں شامل رہتے ہوئے متحدہ ہندوستان (جہاں ہندوئوں کی وحشیانہ اکثریت تھی) میں کس اسلامی شریعت کو نافذ کرنا چاہتے تھے۔ قائد اعظم نے اس موقع پر صوبہ سرحد کے مسلمانوں پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ آپ پہلے مسلمان ہیں پھر پٹھان قائد اعظم نے یہ سول بھی اٹھایا تھا کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی جو مسلمانوں کی بھاری اکثریت پر مشتمل ہے وہ اسلامی نظریات، شریعت اور قرآنی اصولوں کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے۔ صوبہ سرحد کے غیور مسلمانوں نے پہلے مسلمان اور بعد میں پٹھان ہونے کے نظریے کو قبول کر لیا اور آزاد پٹھانستان کے سٹنٹ کو مسترد کر دیا۔ یہی نظریہ پاکستان کی سچائی ہے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں پنجابی، پٹھان سندھی یا بلوچی ہیں۔ اسلام کا رشتہ ہی ہم سب کو متحد رکھ سکتا ہے ۔ رہا سقوط مشرقی پاکستان کا معاملہ تو یہ اس نظریے کی شکست نہیں تھی جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ دو قومی نظریے کی بنیاد مذہب پر تھی۔ اگر دو قومی نظریہ غلط تھا تو پھر سیکولر بنگلہ دیش سیکولر انڈیا میں مدغم کیوں نہیں ہو جاتا۔
دو قومی نظریہ کوئی سیاسی نظریہ نہیں تھا نہ ہی یہ مطالبہ پاکستان کیلئے وقتی طور پر تخلیق کیا گیا تھا۔ دو قومی نظرییے کوئی منفی نظریہ بھی نہیں تھا اور نہ ہے۔ یہ نظریہ اسلام کا تقاضا تھا۔ پاکستان کا قیام بھی اسلام کا تقاضا تھا۔ اسلام ہی ہماری وحدت قوم کی بنیاد ہے۔ اور یہ بات میں نہیں لکھ رہا بلکہ نظریہ پاکستان کی صداقت کو اچھی طرح جاننے کیلئے آپ 8مارچ1944 ء کے قائد اعظم کے خطاب پڑھ لیں جس میں انہوں نے فرمایا تھا۔’’ آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان کے مطالبہ کا جذبہ محرکہ کیا تھا؟ مسلمانوں کیلئے ایک جدا گانہ مملکت کی وجہ جواز کیا تھی؟ تقسیم ہند کے مطالبہ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اسکی وجہ ہندوئوں کی تنگ نظری تھی نہ انگریزوں کی چال۔ یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے‘‘۔