بھارتی بجلی ..... روشنی نہیں، اندھیرا لائے گی!

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

”پاکستان بھارت سے 500 کے بجائے اب 2000 میگا واٹ بجلی خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، اس سلسلے میں بھارت کو آگاہ کر دیا گیا جبکہ 500 میگا واٹ بجلی حاصل کرنے کے معاملے پر بہت جلد دونوںممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوں گے۔“ اس خبر پر وطن عزیز کے تمام خوددار اور نظریاتی حلقوں کو شرم محسوس ہو رہی ہے مگر شاید ان کو نہ ہوتی ہو جو امن کی آشا کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں اور جنہیں رات کو خواب بھی بھارت کے ساتھ تجارت کے آتے ہیں۔ ان حلقوں کے بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بلاشبہ مخصوص اور ذاتی مفادات کارفرما ہیں، ان کی روح کی تسکین نوٹوں کے ملبے کے ڈھیر دیکھ کر بھی نہیں ہوتی، ہو بھی کیسے! ان کے اربوں، کھربوں روپے بیرون ممالک پڑے ہیں جو شاید کبھی ان کے نصیب میں بھی نہ آ سکیں۔ بھارت کے ساتھ تجارت کیلئے 15 سے 16 جنوری تک شروع ہونے والے مذاکرات پر اپنی باچھیں ہلانے اور مارنے والوں کو سوچنا ہو گا کہ اس بھارت کے ساتھ کیسے کوئی معاملہ رواں رکھا جا سکتا ہے جو بھارت تاحال پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا اور اکھنڈ بھارت کے مکروہ خواب پر دیوانہ ہُوا بیٹھا ہے۔ بھارت کی اسی دیوانگی کا مظاہرہ ہر اُبھرتا سورج مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ نہتے کشمیریوں کے بہتے ہوئے ناحق خون کی صورت میں بھارتی جنگی جنون سے دیکھا جاتا ہے لیکن پھر بھی زر کے پجاری ملک و ملت کی وفاداری اور جفاکشی سے کہیں دور، کوسوں دور ہوتے ہوئے بھارت کو بغلگیر کرنے کے راگ الاپتے رہتے ہیں۔ بھارت سے 2000 میگاواٹ تو کیا 500 میگاوا ٹ بجلی بھی نہیں خریدی جانی چاہئے۔ اس سے توکہیں بہتر ہے کہ ہم موجودہ بجلی بحران کے اندھیروں سے بھی زیادہ اندھیر نگری میں چلے جائیں۔ کم از کم ایسی اندھیر نگری اس سے تو بہتر ہو گی جو بجلی بھارت سے خریدی جائے گی اور پھر بھارتی قومی خزانے سے بھارتی بھرکم حصہ بھارت کی شیطان صفت فوج کو جائے گا جو کشمیر میں اپنی مزید درندگی کا مظاہرہ کرے گی۔ اس میں شک نہیں ہونا چاہئے کہ اندھیر نگری نظریات کے ساتھ غداری سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔ پاکستانی قوم کو ایسی بجلی نہیں چاہئے جو بھارت سے خریدی گئی ہو۔ کیا ہمارے حکمران اس بھارت سے بجلی خرید کر اپنی کم ظرفی کا مظاہرہ نہیں کرنے جا رہے جو بھارت آبی جارحیت کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ہمیں صومالیہ، ایتھوپیا کی طرح بنجر ریگستان میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت پاکستان اور اسلام دشمن قوتوں کا اس خطے میں ایجنٹ ہے اسے اسرائیل کی بھی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس بھارت سے قطعی بجلی کا سودا گوارا نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ سودا ضمیر اور غیرت و حمیت کا سودا ہو گا۔ بھارتی جنگی جنون اب بھی بھارت کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ہمارے ملک میں دفاعی اداروں کے بجٹ پر تنقید کرنے والوں کوکیا نظر نہیں آتا کہ ہمارا دشمن بھارت ملک مسلسل جنگی جنون میں مبتلا ہے، حال ہی میں بھارت نے 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کی لاگت سے روس سے طیارہ بردار جہاز ”کرما دیتا“ خریدا ہے۔ بھارت کو بجلی کی مد میں جانے والا ایک ایک روپیہ پاکستان اور مسلمانوں کیخلاف استعمال ہو گا اور بھارت سے بجلی خریدتے ہوئے ایک طرح سے ہم بھارتی آبی جارحیت کو قانونی اور جواز پر مبنی تسلیم کر لیں گے۔ بجلی پیدا کرنا پاکستان کیلئے کوئی معمہ نہیں اسے ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے ایک ناقابل حل مسئلہ بنا رکھا ہے۔ کالاباغ ڈیم آج بھی تعمیر کیا جا سکتا ہے اگر کالا باغ ڈیم تیکنیکی بنیادوں پر مسئلہ ہے تو پھر اے این پی ان نکات کو ثبوت کے ساتھ پیش کرے اور اگر صرف امریکہ نوازی اور سرحدی گاندھی ہونے کا حق ادا کیا جا رہا ہے تو پھر وزیراعظم میاں نواز شریف پر کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر حال میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر مکمل کروا دیں۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے اگر ایشین ڈویلپمنٹ بینک امریکی اشاروں پر راضی نہیں ہوتا تو پھر حکومت اس ڈیم کی تعمیر کا خود ہی عملاً بندوبست کیوں نہیں کر لیتی؟ ایسے بہت سارے حل طلب سوالات حکومتی عمل کے منتظر ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت عوامی غیض و غضب کا خوب سامنا کرتی رہی، اس پر تنقید کے تند و تیز تیر برستے رہے لیکن پھر بھی اس حکومت کو بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی جرا¿ت نہیں ہو سکی مگر افسوس موجودہ حکمران ہر پلیٹ فارم پر بھارت سے تجارت کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اس کے ثمرات گنواتے ہوئے نہیں تھکتے۔ پاکستان کی باغیور اور غیرت مند قوم نے 2013ءکے عام انتخابات کے دوران اپنا مینڈیٹ قطعاً اس لئے نہیں دیا تھا کہ ذاتی کاروبار کو فائدہ پہنچانے کیلئے بھارت سے تجارت کے فوائد گنوائے جائیں۔ ہم مانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے انتخابات کے دوران بھارت کیخلاف کوئی ایجنڈا اپنے انتخابی منشور میں شامل نہیں کیا تھا لیکن معذرت کے ساتھ بھارت سے بجلی خریدنے کا بھی کوئی ایجنڈا حکمران جماعت کے انتخابی ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب نعرے بلند کرتے تھے کہ ملک سے اندھیروں کا خاتمہ کرتے ہوئے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کر دیں گے، گیس بحران جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا لیکن افسوس تمام تر وعدوں اور دعوﺅں کے باوجود کوئی بھی نعرہ عملیت پسندی کی نذر نہیں کیا جا سکا۔ اس وقت بھی کوئی ایسا حکومتی منصوبہ منظر عام پر موجود نہیں ہے کہ جس کی بنا پر کم ازکم مستقبل کے محفوظ ہونے کی دل و دماغ کے دامن میں تسلی رکھ لی جائے۔ بھارت سے تجارت کا صرف اور صرف چند بڑے سرمایہ داروں اور گروپس کو فائدہ ہوگا جبکہ حقیقی طور پر ہماری برآمدات اور مقامی تجارتی منڈیاں بری طرح متاثر ہوں گی۔ معیشت پر ہندو بنیا چھا جائے گا اور ہم عوام جو پہلے بھاری بھرکم عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ہماری گردنوں پر بھارتی بنیا ہولے گا۔ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کی جستجو نے کم از کم تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے دوران ہمارے اکابرین کی قربانیوں کو پیش حال رکھ لے اور چند مخصوص ذاتی مفادات کی بجائے اجتماعی مفادات کی فکر دامن گیر کی جائے تو بہت سارے بحران اور مسائل خود بخود حل ہونے لگ جائیں گے۔ بھارت نوازی کی سوچ میں زیادہ کچھ نہیں کم ازکم کل جماعتی حریف کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی اس حقیقی سوچ کو ہی مدنظر رکھ لیا جائے ”حق خود ارادیت کی جدوجہد جاری رہے گی، بھارت کے آگے سرنڈر نہیں کریں گے۔“ ملک سے اندھیرے دور کرنے کی آرزو میں بھارت سے بجلی خرید کر مستقبل میں بھی سنگین اور سیاہ اندھیرے ہرسُو چھا جانے جیسے غیر نظریاتی فیصلوں اور اقدامات سے گریز کیا جائے۔