آئیے ہم بھی عام لوگوں پر مشتمل سیاسی جماعت بنائیں

کالم نگار  |  اسلم لودھی

پاکستان میں بدنظمی، کرپشن، ٹیکس چوری، معاشرتی اونچ نیچ ٗ کام چوری ٗ فرائض سے غفلت ٗ ہڈحرامی ٗ قانون شکنی ٗ چوری ڈاکے ٗ بھتہ خوری ٗ تخریب کاری ٗ دہشت گردی ٗ بجلی اور گیس چوری ٗ کم تولنے اور ناپنے کی بیماری ٗ رشوت خوری اور دیگر جرائم کی افزائش ٗ عورتوں بچوں کا جنسی اور معاشی استحصال ٗ قیدیوں سے انسانیت سوز سلوک بچوں ٗ کسانوں ٗ مزدوروں کے حقوق کی عدم فراہمی ٗ تعلیم اور پیسے کی بے قدری ٗ اشیائے خورد و نوش کی گرانی ٗ بجلی ٗ گیس ٗ پٹرول کی قیمتوں میں عدم استحکام اور بار بار ظالمانہ اضافہ ٗ آٹے ٗ گھی ٗ چینی ٗ دالوں ٗ چاول ٗ گوشت ٗ دودھ ٗ انڈوں کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ ٗ ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی بہتات ٗ غیر معیاری سفری سہولتیں ٗ شادی بیاہ میں بے جا اخراجات کی وجہ سے غریب کی بیٹیوں کا استحصال ٗ پیسے کی نمود و نمائش ٗ وبائی امراض کی بہتات ٗ تنگدستی ٗ بے روزگاری ٗ غربت ٗ جہالت کا عذاب ٗ تعلیمی اخراجات میں ہوشربا اضافہ ٗ تجاوزات کی بھرمار ٗ رشوت اور حرام کی کمائی سے خریدی جانے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں ٗ سڑکوں اور راستوں کی تنگی ٗ سرکاری املاک اور منصوبوں کی غیر معیاری تعمیر ٗ سیوریج کا ناکام سسٹم ٗ پینے کے پانی کی عدم دستیابی ٗٗ معدنی دولت سے بے اعتنائی ٗ بجلی کے مہنگے منصوبے اور سخت ترین سردیوں میںگیس کی گھریلو اور صنعتی صارفین کو عدم فراہمی پر حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت ٗ حقیقی مسائل سے چشم پوشی ٗ قومی سرمایے لوٹنے والوں کو کھلی چھٹی ٗ بے رحم انصاف اور احتساب کی عدم دستیابی ٗ ٹیکس چوری کو تحفظ اور حوصلہ افزائی ٗ بیرونی بنکوں میں اکائونٹس کی حوصلہ افزائی ٗ علاج معالجے کی سہولتوں کا فقدان ٗ ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ ٗ کھاد ٗ بیج اور زرعی اشیاء کی گرانی ٗ رابطہ سڑکوں کا فقدان ٗ روزگار کی عدم دستیابی ٗ تعلیمی ڈگریوں کی بے توقیری ٗ حقیقی ہیروز کی بے قدری ٗ کھیلوں میں اقربا پروری ٗ سفارشی کلچر ٗ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر نااہل اور من پسند افراد کی تقرری ٗ سرکاری اداروں میں بھاری تنخواہوں والے افسران کی بھرمار ٗ تنخواہوں اور مالی مراعات میں حد سے زیادہ فرق ٗ کم سے کم تنخواہ کی عدم دستیابی ٗ سرکاری اور دیگر ملازمین کے ملازمتی ڈھانچے کی عدم فراہمی ٗسرکاری وسائل کی ذاتی استعمال کے لیے حوصلہ افزائی ٗ سرکاری گاڑیوں اور سرکاری رہائش گاہوں کا ناجائز استعمال ٗ غریب اور امیر میں بڑھتا ہوا فرق ٗ ناجائز منافع خوری کا بڑھتا ہوا رجحان ٗ تفرقہ بازی ٗ ملکی دشمنی ٗ سیاسی منافرت ٗ نااہل اور غیر تجربہ کار لوگوں کا بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہونا ٗ پولیس اور سرکاری افسروں کی حد سے زیادہ تعداد اور ان پر اٹھنے والے اخراجات ٗ سرکاری سکولوں میں تعلیمی سہولتوںکا فقدان ٗ شکایات کے ازالے کیلئے مناسب پلیٹ فارم کی عدم دستیابی ٗ انصاف کا مشکل حصول ٗ حکمرانوں اور سرکاری افسروں کا اپنی حفاظت کیلئے قلعوں میں بند ہونا ٗ بُلٹ پروف گاڑیوں میں سفر ٗ پروٹوکول کا حد سے بڑھتا ہُوا رجحان، یہ وہ تمام خرابیاں اور بیماریاں ہیں جو پاکستان کی اقتصادی ٗ معاشرتی ٗ سیاسی ٗ انتظامی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ اس وقت جبکہ بھارت میں ایک نئی سیاسی جماعت ’’عام آدمی پارٹی‘‘ نے کامیابی حاصل کرکے دہلی کا اقتدار ملتے ہی اپنے وعدوں کی پاسداری شروع کر دی ہے تو ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال ضرور اُبھرتا ہے کہ پاکستان میں عام لوگ مل کر ایسی سیاسی جماعت کیوں نہ بنائیں جو روایت سے ہٹ کر قوم کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے ۔  ایسی سیاسی جماعت بنائی جائے جس میں کم از کم عہدیداروں کی حد تک ایسے افراد کو شامل کیاجائے جن کی وفاداری ٗ اسلام اور پاکستان سے کسی شک و شبے سے بالاتر ہو ٗ جبکہ مزید برآں کوئی ٹیکس چور ٗ بجلی گیس چور ٗ جرائم پیشہ شخص ٗ جنسی جرائم میں ملوث ٗ کرپٹ ٗ خائن ٗ غیر ملکی بنکوں میں پیسے رکھنے والا ٗ دہری شہریت رکھنے والا ٗ کسی بھی سطح پر دہشت گردی ٗ تخریب کاری میں ملوث رہنے والا ٗ چوری ڈاکے ٗ بھتہ خوری اور اغوا کاری میں ملوث ہونیوالا ٗ منعفت بخش عہدوں کا لالچ رکھنے والا ٗ پروٹوکول کا شوقین ٗ قلعوں میں بند ہونے والا ملاوٹ کرنیوالا ٗ اسلامی شعار ٗ پاک فوج ٗ عدالتوں کا تمسخر اڑانے والا ٗ فرقہ پرستی کو پروان چڑھانے والا ٗ سرکاری فنڈز کا بے جا استعمال کرنیوالا شامل نہ ہو۔ جب عام آدمی پارٹی کی قیادت اور عہدیدار ایسی خباثتوں اور الاشوں سے پاک دامن ہوں گے تب ہی وہ مسائل کا ادارک کرتے ہوئے عوام کو گوناگوں مسائل سے نجات دلا سکیں گے۔ اگر پاکستانی قوم کو پے درپے بحرانوں سے نکلنا ہے تو ہر یونین کونسل سے پندرہ بیس افراد بھی ایسے دیانتدار ٗ فرض شناس اور عوام کا درد رکھنے والے مل جائیں۔ میں ایسے محب وطن افراد کی رہنمائی کیلئے ہر وقت موجود ہوں۔ آئیے ہم سب ان تکلیفوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ایک ایسی جماعت بنائیں جو غیر ملکی بنکوں میں پڑے 200 ارب ڈالر واپس لا کر قومی خزانے میں جمع کروائیں ٹیکس چوروں ٗ کرپٹ افراد کو پھانسی پر لٹکائیں ٗ بجلی گیس کی قلت اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرتے ہوئے پٹرول کو اصل قیمت خرید پر عوام کو فراہم کرکے غربت ٗ جہالت ٗ بیروزگاری ٗ تنگدستی اور مہنگائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ جو خود کو عام آدمی سیاسی پارٹی میں شامل ہونے کا حقدار تصور کرتے ہیں وہ 0320-4853195 نمبر ایس ایم ایس کریں۔