قائد کا پاکستان’’ جمہوریت‘‘ اور دہشت گردی کے نرغے میں

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
قائد کا پاکستان’’ جمہوریت‘‘ اور دہشت گردی کے نرغے میں

قائد کا پاکستان جمہوریت اور دہشت گردی کے نرغے میں ہے۔ قائداعظم نے اسلامیان ہند کیلئے الگ وطن اس لئے حاصل کیا کہ وہ اپنی زندگی ضابطہ حیات کے مطابق بسر کر سکیں۔ قائداعظم نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا۔ تجربہ ناکام بھی ہو سکتا ہے۔ اسلام تو چودہ سو سال سے آزمودہ ہے۔ کامیابی و ناکامی کے حوالے سے اسلام کے تجربے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسلمان جس ماحول میں رہ رہے تھے ہندو مسلم یگانگت اور بیگانگت سے کہیں اخوت اور کہیں نفرت کا ماحول تھا۔ محبت تو خال خال ہی نظر آتی مگر تھی ضرور۔ جہاں جہاں یہ عنصر تھا وہاں ہندو مسلم کلچر اور تہذیب و تمدن گڈمڈ ہو گئے۔ جہاں نفرت پائی جاتی تھی وہاں مسلم کلچر اپنی جگہ مضبوط رہا چونکہ مسلمانوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا یا بوجوہ وہ تعلیم سے دور رہے ، اکثریتی آبادی ہندوئوں کی تھی۔ کم علمی اور مذہب سے دوری کے باعث بھی مسلمانوں میں ہندو کلچر در آیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی کئی دہائیوں تک شادی کی رسومات میں ہندو کلچر کی واضح جھلک نظر آتی رہی۔ ہندوئوں کی دیگر رسومات ہولی اور بسنت بھی کسی نہ کسی صورت ہمارے ہاں رائج ہیں۔ ان رسومات میں بتدریج کمی آ رہی تھی کہ کیبل نے الٹا چرخ گھما دیا ہے۔ اسلامیان ہند مذہب سے جس طرح دور تھے ان کو برائے نام مسلم کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یقیناً دین و اسلام کو اوڑھنا بچھونا بنانے والے بھی موجود تھے مگر ان کی تعداد، مذہب سے لاتعلق لوگوں کے مقابلے میں بہت کم تھی۔اسی لئے اکثریت کیلئے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنایا جانا مقصود تھا جہاں مسلمان اپنی زندگیاں اسلام کے عظیم تر اصولوں کے مطابق گزارتے۔ پاکستان کو قائداعظم کی خواہش کے مطابق کبھی اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ یہ مفاد پرستوں اور فوجی و سول طالع آزمائوں کی آماجگاہ بن گیا۔
فوجی حکمران ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف جمہوریت کے گیت گاتے رہے۔ انہوں نے اپنی اپنی طرز کی جمہوریت متعارف کرائی اور جب بھی جمہوریت انکے پنجہ استبداد سے آزاد ہوئی توسول حکمرانوں کے نرغے میں چلی گئی۔ آج سیلاب نے ہر طرف تباہی مچائی ہوئی ہے۔ ہزاروں افراد آج پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ لاکھوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ چار سو کے قریب انسان موت کے منہ میں چلے گئے۔ گزشتہ روزہیڈ تریموں کو بچانے کیلئے اٹھارہ ہزاری بند توڑ دیا گیا۔ہر طرف پانی ہی پانی ہے آخر مرنے والوں کو کہاں دفنایا جائیگا۔یہ سول اور فوجی جمہوریت کے ثمرات ہی ہیں کہ سیلاب انسانوں کو کھا رہا ہے۔ وسائل کو برباد کر رہا ہے۔ پانی اترے گا، متاثرین طویل عرصے تک تنگدستی کا شکار رہیں گے۔ حکومت کئی دہائیوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے معمولات میں مصروف ہو جائے گی تاآنکہ خدانخواستہ اگلے سیلاب میں پھر فوٹو سیشن دوروں اور دلاسوں کی مشق دہرائی جائیگی۔ آسمانی آفت کو روکنا ممکن نہیں۔ انسانوں کو بچانے کے اقدامات بہرحال ہو سکتے تھے۔ جو کسی حکومت نے نہیں کئے۔ انسان ٹیلوں پر بیٹھے ہیں، کہیں کہیں ان پر خوراک کے پیکٹ برسائے جاتے ہیں۔ انکے ساتھ جانور بھی موجود ہیں ،کیاان کو بھوکوں مرنے سے بھی کیا بچایا جا سکتا ہے؟
 پارلیمنٹ کے جائنٹ سیشن میںممبران کہتے ہیں کہ سیلاب کے باعث عمران خان اور طاہرالقادری اپنے دھرنے ختم کر دیں۔ عمران خان دن کو سیلاب متاثرین کے پاس جاتے ہیں رات کو دھرنا کنسرٹ سجاتے ہیں۔ ایوان میں روزانہ تین ساڑھے تین سو پارلیمنٹیرین کا دھرنا ہوتا ہے۔ ان کو بھی اپنے اپنے علاقوں میں جانا چاہئے۔ الطاف حسین نے مشورہ دیا ہے کہ عمران اور قادری اپنے دھرنے موخر کرکے سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔ جہاں انکے عام ورکر کی سمجھ بوجھ اور عقل ختم ہوتی ہے وہیں سے متحدہ کے قائد کی فراست شروع ہوتی ہے۔ الطاف بھائی کے دھرنے موخر کرنے کی تجویز سمجھ سے بالاتر ہے۔ دھرنے ختم کرنے کی بات تو سمجھ آتی ہے۔ کیا عمران اور قادری سیلاب متاثرین کی امداد کے بعد پھر یہاں آ کر دھرنا دے دیں۔ انکے جانے کے بعد ان کو یہاں آنے کون دے گا؟؟؟
جمہوری دور میں کرپشن کے سکینڈل زیادہ ہی سامنے آتے ہیں۔ موجودہ حکومت سوئس بنکوں سے 200 ارب ڈالر کی واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔ زرداری حکومت پر کرپشن کے بدترین الزامات آج کی حکومت نے لگاکر پائی پائی اگلوانے کا اعلان کیا۔ آج دونوں پارٹیاں شیر و شکر ہیں۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی قیادتیں ایک دوسرے کی کرپشن پر پردہ ڈال رہی ہیں۔ دیگر پارٹیوں کی قیادتیں بھی پارسا نہیں۔ اگر یہی جمہوریت ہے تو ہم جمہوریت کے نرغے میں ہیں۔
خواجہ آصف نے گزشتہ روز جائنٹ سیشن میں کہا کہ دھرنے والے انا کی جنگ ہم بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دونوں اپنی انا اور اپنی ہی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نفرتیں دونوں طرف سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ زبان پر اندر والوں کا کنٹرول ہے نہ باہر والوں کا۔ جیسی بازاری زبان باہر سے بولی جاتی ہے ویسی ہی اندر سے بھی سننے میں آ رہی ہے۔
قائد کے پاکستان کو دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے فوج کو شمالی وزیرستان میں اپریشن کی ہدایت کی۔حکومت یہی باور کراتی ہے۔ فوج نے ضربِ عضب کے ذریعے دہشت گردوں کا عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ شمالی وزیرستان کا زیادہ تر علاقہ دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیاہے۔ آج دہشت گرد کمزور ضرور ہورہے ہیں لیکن وہ ابھی تھکے ہیں نہ سرنڈر پر تیار ہیں۔زخم خوردہ دہشتگردوںنے سمنگلی ائربیس پر دھاوا بولا، کراچی ڈاکیارڈ پر میزائل بردار جہاز تک پہنچنے کی کوشش کی۔ان کی یہ کارروائیاں ناکام رہیں۔ دہشتگردوں کے اپریشن کے بعد ٹارگٹ محدود ہوئے تو حکمران دھرنے والوں دہشتگردی سے ڈراتے رہے جو حقیقت نہیں ان کی خواہش تھی۔
 آستانہ فضل سرگودھا میں بریگیڈئر فضل قادری ان کے بھائی فضل سبحانی کو چار موٹر سائیکل سواروں نے اس وقت فائرنگ کرکے قتل کر دیا جب وہ قوالی سن رہے تھے۔سرگودھا میں آستانہ فضل پر دہشت گردی کی خبر سنی تو آنکھوں کے سامنے 25 چھبیس سال قبل کی یادیں لہرانے لگیں۔ آستانہ فضل 49 ٹیل سے کڑانہ پہاڑی کے درمیان دائیں طرف ہے۔ یہ جنگل میں منگل کی تصویر پیش کرتا ہے ۔ اردگرد کینو کے باغات ہیں ،دور دور تک آبادی نہیں۔آستانہ فضل سے تھوڑا پہلے بائیں طرف قبرستان ہے اس کے ساتھ خالی جگہ پر 49 چک کے لڑکے کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ میں بھی اس شغل میں ان کا ساتھی ہوا کرتا تھا۔ میں ٹیم میں بالنگ، بیٹنگ اور کیپنگ کرتا مگر تینوں شعبوں میں مہارت تقریباً زیرو تھی۔ ٹیم احتراماً مجھے باری دیتی ۔ ذوالکفل، عنصر، امجد و عابد باجوہ، عباس‘ آفتاب بھولا تھانیدار، زاہد، باسط، غضنفرٹیم کے تھَم تھے۔ میں کبھی کبھی آستانہ فضل چلا جاتا تھا۔ اس آستانے پر فرقہ واریت ہوتی ہے نہ کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جہاں اللہ اللہ کی جاتی ہے اور ایک فری ڈسپنسری ہے۔ آئی ایس آئی کے بریگیڈئر کا قتل فرقہ واریت نہیں ہو سکتی یہ دہشت گردوں کا آسان ٹارگٹ ہو سکتا ہے۔ میں نے دوستوں سے بات کی ان کا یہی موقف ہے۔
آج یقیناً پاکستان جمہوریت اور دہشت گردی کے نرغے میں ہے۔ عمران جیسا پاکستان بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں خدا ان کو موقع دے اور وہ پاکستان کو مضبوط اور خوشحال بنا دیں۔ البتہ میاں نواز شریف نے انتخابات کے دوران جو وعدے کئے تھے ان پر آج ہی عمل شروع کر دیں تو یقیناً یہ قائد کا پاکستان بن سکتا ہے۔میرٹ کی عملداری کرادیں، کرپٹ لوگوں کا احتساب کریں۔اپنے خلاف کرپشن کے الزامات کا جواب دیں تو کسی نئے پاکستان کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہی قائد کی امنگوں کا ترجمان پاکستان بن جائیگا۔