قائد اعظم ایک سحر انگیز شخصیت

کالم نگار  |  جی این بھٹ
قائد اعظم  ایک سحر انگیز شخصیت

بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح ایک ایسے عوامی قائد اور رہنما تھے جو جدید اعلیٰ تعلیم اور تربیت سے آراستہ تھے آپ اس وقت قوم کی رہنمائی کے آگے آئے جب مسلم لیگ ایک تن ناتواں میں تبدیل ہو چکی تھی اعلیٰ قیادت میں اختلاف کے باعث یہ جماعت عوام میں اپنا سیاسی اثر کھو چکی تھی۔ ایسے میں حکومت برطانیہ کی طرف سے جب دوسری جنگ کے بعد بھارت کو آزادی دینے کی تجویز سامنے آئے تو قوم کا درد رکھنے والے چند مسلم زعما کو ہوش آیا۔ اور انہوں نے قوم کی کشتی کو کنارے لگانے کیلئے مسلم لیگ کو متحد کرنے کی کوشش کا بیرا اٹھایا اور آزادی کے بعد مسلمانوں کو اقلیت بن کر ہندوئوں کے چنگل میں پھنسنے سے بچانے کیلئے کوشش کا آغاز کیا مگر دور دور تک کوئی ایسی شخصیت نظر نہیں آ رہی تھی جو اس طوفان بلاخیز میں مسلم قوم کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے اس موقع پر مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کی عقابی نظروں نے اس گوہر نایاب کو تاڑ لیا جو قوم کی بے حسی سے متنفر ہو کر یورپ جا بیٹھا تھا اور کامیاب مگر اس کا دل قوم کے درد سے تڑپ رہا تھا۔ علامہ کی نظروں نے بھانپ لیا تھا کہ یہی وہ مرد حر ہے جو اس منتشر الخیال قوم اور منزل فراموش کردہ لوگوں کی رہنمائی کا حق ادا کر سکتی ہے چنانچہ انہوں نے لندن جا کر قائداعظم محمد علی جناح کو مجبور کیا کہ وہ ہند واپس آ کر اپنی قوم کی رہنمائی کا فریضہ ادا کریں۔ ورنہ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس وقت پورے ہندوستان میں مسلم زعما میں سے کوئی بھی ایسا قائد نہیں تھا جسے کشمیر سے راس کماری تک عوام کی حمایت حاصل ہو چنانچہ قائد اعظم نے جب ہندوستان واپس آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی تو یہ آپکی طلسمی اور سحر انگیز شخصیت کا کرشمہ تھا کہ عوام الناس کے ساتھ بڑے بڑے مسلم زعما نے آب آپ کو اپنا قائد اور رہبر تسلیم کر لیا۔ آپ کی شخصیت میں پوشیدہ وجاہت، قابلیت، راست بازی اور ایمانداری میں پوشیدہ جادو سب کو مسخر کر گیا اور انہوں نے آپ کو قائداعظم بنا کر آپ کی زیر سیادت اور قیادت مل جل کر مسلمانوں کے تن مُردہ میں وہ روح پھونک دی کہ دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں پاکستان کا خواب ایک حقیقت بن کر سامنے آ گیا۔ ہندو سیاستدانوں نے اپنے زر خرید چند مسلم مذہبی و سیاسی رہنمائوں اور جماعتوں کو ساتھ ملا کر پوری کوشش کی کہ اس جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ، ایماندار، جاذب نظر شخصیت کے مقابلے میں جبہ و دستار سے آراستہ شخصیات اور قوم پرست رہنمائوں کو سامنے لائے تاکہ مسلمانوں کی توجہ قائداعظم سے ہٹائی جائے۔ مگر انہیں منہ کی کھانا پڑی۔ یہ سب سیاسی بازیگر قائداعظم کے مقابلے میں سیاسی بونے ثابت ہوئے اور قائداعظم نے اپنی محنت، خلوص اور ایمانداری سے اپنی قوم کا مقدمہ جیت کر ثابت کر دیا کہ وہ حقیقت میں اپنے قوم کی امنگوں اور خواہشات کے امین تھے۔ نہرو، گاندھی، آزاد، پٹیل کو عام سیاستدان نہیں تھے، انکی ساری زندگی انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد میں بسر ہوئی مگر افسوس وہ مسلمانوں کے مفادات کا ادراک کرنے سے عاری رہے جبکہ قائداعظم نے علامہ اقبال کے فلسفے کی روشنی میں آنیوالے وقت میں برصغیر کے مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے ناقابل شکست وجود کو حیات دے کر دنیا میں ثابت کر دیا کہ وہ ایک ایسے لیڈر اور رہنما تھے جنہیں آنیوالے کل کا مکمل ادراک تھا اور وہ اپنی قوم کے کروڑوں فرزندوں کو انگریزوں کے بعد ہندوئوں کی غلامی سے بچا کر ایک نئے اور آزاد وطن کا ایسا لازوال تحفہ دے گئے۔ جو آج دنیا کی ایک مضبوط ایٹمی قوت بن چکا ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کیلئے عزم و ہمت کی عظیم الشان مثال بھی ہے۔ آج اپنے عظیم قائد کے یوم وصال پر ہم عہد کرے کہ ہم اپنے وطن عزیز کو ایک جدید فلاحی اسلامی ریاست بنا کر ان لوگوں کے باطل افکار کو مسترد کر دینگے۔ جو اسے ناکام ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم اپنے قائد کے اصولوں کے مطابق اس ملک کوچلانے کا عزم کرینگے اور یہاں تعلیم، انصاف اور روزگار سب کو مہیا ہو۔